رسائی کے لنکس

logo-print

دریائے نیلم اور جہلم پر بجلی کے منصوبے، کشمیر کے دریا خشک ہو رہے ہیں


پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کا علاقے دریاوں پہاڑوں جنگلات اور ندی نالوں کی وجہ سے مشہور ہے لیکن اب کشمیر میں بہنے واے دریا خشک ہو رہے ہیں۔

بھارت کے زیر انتظام کشمیر سے بہہ کر آنے والے تین میں سے دو دریا پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے دار الحکومت مظفرآباد میں آپس میں ملتے ہیں ۔

بھارتی کشمیر کے علاقے گریس سے آنے والا دریائے نیلم مظفرآباد شہر کے درمیان سے گزرتا ہے لیکن اس دریا کا 80 فیصد پانی کا رخ شہر سے 35 کلومیڑ دور بنائی گئی ایک سرنگ کے ذریعے موڑ دیا گیا ہے۔

نیلم جہلم ہائیڈرو پاور پراجکیٹس کے سبب شہر سے گزرنے والے بڑے دریا میں پانی کم ہو گیا ہے اور یہ ایک نالا بن گیا ہے ۔

مظفرآباد شہر کو پانی کی فراہمی اور نکاسی اسی دریائے نیلم کے ذریعے ہوتی ہے لیکن گزشتہ برس جب سے دریا نیلم کا پانی موڑا جا رہا ہے تب سے دریا میں پانی کے بجائے اس کے دونوں کناروں پر کچرے کے ڈھیر نظر آرہے ہیں ۔جس کی وجہ سے شہری تشویش کا شکار ہیں۔

سول سوسائٹی کی جانب سے دریا کا رخ موڑنے جانے کے خلاف احتجاج بھی کیا جارہا ہے۔ مظفرآباد شہر کے رہائشی شعبہ درس تدریس سے منسلک افضال عالم کہتے ہیں کہ دریا کی خوبصورتی کے لیے بجائے گندگی نظر آ رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر اس مسئلے حل نہ نکلا گیا تو مظفرآباد رہنے کے قابل نہیں رہے گا ۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی ایجنسی برائے تحفظ ماحولیات کے ناظم اعلی راجہ رزاق خان نے بتایا کہ دریا نیلم کا رخ موڑے کی وجہ سے پیدا ہونے والے دیگر اثرات کے علاوہ شہر کا قدرتی منظر بھی متاثر ہؤیے ہے۔

رزاق خان نے بتایا کہ دریا کے بہاو کے ساتھ پن بجلی کی پیداوار کے منصوبے لگائے جانے چاہیے اور دریا کا رخ موڑنے سے بہت سے مسائل جنم لے رہے ہیں۔

دریائے نیلم کے پانی کو موڑ کر بجلی پیدا کرنے والی ادارے واپڈا کے ترجمان نیئر علاو الدین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ لوگوں کی تشویش کے باعث معاہدے کے مطابق طے شدہ مقدار سے دوگناہ زیادہ پانی دریا میں چھوڑا جارہا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ دریا کا رخ موڑے جانے کے باعث سامنے آنے والے اثرات کو کم کر نے کے لیے مذید اقدامات زیر غور ہیں۔

نیئر علاوالدین نے کہا کہ مظفرآباد میں لوگوں کے خدشات کے پیش نظر 9 کے بجائے 20 کیوبک میٹر پانی دریا میں چھوڑا جا رہا ہے۔

دریائے نیلم مظفرآباد میں دومیل کے مقام میں سری نگر سے آنے والے دریائے جہلم سے ملتا ہے۔

دریائے جہلم کا پانی بھارتی کشمیر کے علاقے اوڑی کے قریب بنائے گئے پن بجلی منصوبوں کے لیے ذخیرہ کیا جاتا ہے ۔ جس کے باعث اس کے بہاو میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے ۔ جس کے باعث اس کے بہاو میں اتار چڑھاؤ ہوتا رہتا ہے ۔ جس کی وجہ سے ڈومیل دو نالوں کا منظر پیش کر رہا ہے۔

سماجی راہنما میراج عالم کا کہنا ہے کہ بھارت اس وقت دریا جہلم کے پانی کو ذخیرہ کررہا ہے ۔ جس کی وجہ سے اس کا بہاو بہت کم ہو رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG