رسائی کے لنکس

logo-print

نہال ہاشمی کی معافی قبول، توہینِ عدالت کا کیس خارج


فائل فوٹو

نہال ہاشمی کے خلاف توہینِ عدالت کیس میں سینئر ترین وکلا نے انہیں معاف کرنے کی سفارش کی تھی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان نے توہینِ عدالت کیس میں پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سابق سینیٹر نہال ہاشمی کا تحریری معافی نامہ قبول کرتے ہوئے ان کے خلاف جاری عدالتی کارروائی ختم کردی ہے۔

دورانِ سماعت سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے تحریری معافی نامے میں نہال ہاشمی کا کہنا ہے کہ اپنے الفاظ پر معافی مانگتا ہوں اور خود کو عدالت کے رحم و کرم پر چھوڑتا ہوں۔

عدالت نے معافی نامے کا جائزہ لینے کے بعد نہال ہاشمی کی معافی قبول کر لی ہے اور توہینِ عدالت کیس میں جاری شوکاز نوٹس واپس لیتے ہوئے کیس نمٹا دیا ہے۔

نہال ہاشمی کے خلاف توہینِ عدالت کیس میں سینئر ترین وکلا نے انہیں معاف کرنے کی سفارش کی تھی۔

اس سے قبل دورانِ سماعت چیف جسٹس نے نہال ہاشمی سے تحریری معافی نامہ طلب کرتے ہوئے ریمارکس دیے تھے کہ نہال ہاشمی کی غلطی کی سزا ان کے بچوں کو نہیں دینا چاہتے۔ اگر معافی ہوئی تو صرف اسی کیس کی حد تک ہوگی۔ کوئی یہ بھی نہ سمجھے کہ معافی کا اصول طے کردیا گیا ہے۔

منگل کے روز کیس کی سماعت شروع ہوئی تو عدالتی معاون رشید اے رضوی نے عدالت کو آگاہ کیا کہ وکلا آپس میں مشاورت کرنا چاہتے ہیں جس کے بعد سماعت میں ایک بجے تک کا وقفہ کردیا گیا۔

وقفے کے بعد سماعت دوبارہ شروع ہوئی تو سپریم کورٹ بار کے صدر پیر کلیم خورشید، عدالتی معاون رشید اے رضوی اور کمرۂ عدالت میں موجود دیگر سینئر وکلا نے کہا کہ نہال ہاشمی کے الفاظ کا دفاع نہیں کیا جا سکتا۔

رشید رضوی نے بتایا کہ سندھ بار کونسل نے نہال ہاشکی کا تین ماہ کے لیے لائسنس بھی معطل کر دیا ہے۔ عدالت چاہے تو سزا دے سکتی ہے لیکن نہال کے گھریلو حالات اچھے نہیں۔ معافی کی سفارش کرتے ہیں۔

پاناما سمیت دیگر اہم مقدمات میں عمران خان کے وکیل نعیم بخاری نے نہال ہاشمی کو معاف کرنے کی مخالفت کی اور کہا کہ ملزم کو مکمل 'ڈوز' دینے کی ضرورت ہے۔

چیف جسٹس نے نہال ہاشمی سے استفسار کیا کہ کیا آپ کو اپنے کہے پر ندامت یا شرمندگی ہے؟ جس پر نہال ہاشمی نے جواب دیا کہ اپنے عمل پر شرمندہ ہوں۔ آئندہ اپنے گھر، گاڑی اور کسی بھی محفل میں محتاط رہوں گا۔

سینئر وکلاء کی رائے سننے کے بعد چیف جسٹس ثاقب نثار نے نہال ہاشمی سے تحریری معافی نامہ طلب کرلیا اور قرار دیا کہ تحریر کے الفاظ سے مطمئن ہوئے تو ہی معافی نامہ قبول کریں گے۔

رواں برس یکم فروری کو سپریم کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما نہال ہاشمی کو دھمکی آمیز تقریر اور توہینِ عدالت کیس میں ایک ماہ قید اور 50 ہزار روپے جرمانے کی سزا سناتے ہوئے کسی بھی عوامی عہدے کے لیے پانچ سال کے لیے نااہل قرار دے دیا تھا۔

نہال ہاشمی نے ایک ماہ قید کی سزا کاٹنے کےبعد اڈیالہ جیل سے رہائی کے وقت صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے ایک مرتبہ پھر عدلیہ اور ججز کے خلاف توہین آمیز زبان استعمال کی تھی جس پر عدالت نے ان کے خلاف دوبارہ توہینِ عدالت کی کارروائی شروع کردی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG