رسائی کے لنکس

logo-print

ہلاکتوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ سکتی ہے: نیپالی وزیراعظم


وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں خیموں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گھر تباہ ہو جانے کی وجہ سے کھلے آسمان تلے رات بسر کر رہے ہیں۔

نیپال کے وزیراعظم سوشیل کوئرالہ نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ گزشتہ ہفتہ کو آنے والے طاقتور ترین زلزلے سے مرنے والوں کی تعداد دس ہزار تک پہنچ سکتی ہے۔

منگل کو بین الاقوامی خبررساں ایجنسی "روئٹرز" سے گفتگو میں انھوں نے متاثرین کے کی مدد کے لیے عالمی برادری سے خیموں اور ادویات کی فراہمی کی اپیل کی۔

"حکومت (نیپال) امدادی سرگرمیوں کے سلسلے میں جو کچھ بھی کر سکتی ہے وہ جنگی بنیادوں پر کر رہی ہے، یہ ایک چیلنج اور نیپال کے لیے مشکل کی گھڑی ہے۔"

وزیراعظم کا کہنا تھا کہ ان کے ملک میں خیموں اور ادویات کی اشد ضرورت ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گھر تباہ ہو جانے کی وجہ سے کھلے آسمان تلے رات بسر کر رہے ہیں۔

"حکومت کو خیموں اور ادویات کی ضرورت ہے۔ لوگ بارش میں بھی کھلے آسمان تلے ہیں۔ سات ہزار سے زائد لوگ زخمی ہوئے ہیں ان کا علاج اور بحالی ایک بڑا چیلنج ہوگا۔"

اقوام متحدہ کے مطابق زلزلے سے 80 لاکھ سے زائد افراد متاثر ہوئے ہیں جب کہ مقامی حکام کا کہنا ہے کہ زخمیوں کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ گئی ہے۔

زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کا مرکز کٹھمنڈو سے 80 کلومیٹر دور تھا۔ اس کے شدید جھٹکے بھارت، چین کے علاقے تبت اور بنگلہ دیش کے علاوہ پاکستان کے بھی کچھ علاقوں میں محسوس کیے گئے۔

نیپال میں ہلاکتوں کی تعداد 4400 کے لگ بھگ پہنچ چکی ہے جب کہ تقریباً ایک سو افراد بھارت کی مشرقی حصے اور چین کے علاقے میں ہونے والی تباہی سے ہلاک ہوئے۔ اٹلی کی وزارت خارجہ کے مطابق مرنے والوں میں چار اطالوی باشندے بھی شامل ہیں۔

اب تک زخمیوں کی تعداد آٹھ ہزار تک پہنچ چکی ہے جن میں سے سینکڑوں کا عارضی طور پر قائم کیے گئے اسپتالوں میں علاج جاری ہے۔

زلزلے سے سب سے زیادہ نقصان دارالحکومت اور گجان آباد وادی کٹھمنڈو میں ہوا لیکن پورا ملک اس قدرتی آفت سے متاثر ہوا ہے۔

زلزلے کے باعث بے گھر ہونے والے ہزاروں افراد عارضی طور پر خیموں میں سر چھپانے پر مجبور ہیں اور دارالحکومت میں اس وقت ہر طرف خیمے نظر آ رہے ہیں۔

ادھر دنیا کی بلند ترین چوٹی ماؤنٹ ایورسٹ سے بھی 200 سے زائد کوہ پیماوں اور سیاحوں کو ان کے گائیڈز سمیت محفوظ مقام پر منتقل کیا جا چکا ہے۔

زلزلے کے باعث یہاں برفانی تودے گرنے سے کم ازکم 18 کوہ پیما ہلاک ہوگئے تھے۔

XS
SM
MD
LG