رسائی کے لنکس

logo-print

نیتن یاہو کا وادی اردن کو بھی اسرائیل میں شامل کرنے کا 'وعدہ'


اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو (فائل فوٹو)

اسرائیل کے وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے انتخابات میں کامیابی کی صورت میں مغربی کنارے سے منسلک وادی اردن کو اسرائیل میں شامل کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے۔

اسرائیل کے ٹی وی چینل سے منگل کو نشر ہونے والے اپنے خطاب میں وزیرِ اعظم بن یامین نیتن یاہو نے کہا کہ نئی حکومت کے قیام کے بعد وہ اسرائیل کی حدود کو وادی اردن اور شمالی بحیرۂ مردار تک بڑھا دیں گے۔

انہوں نے اپنے اس منصوبے کو 'اسرائیلی مشرقی سرحد' کا نام دیا ہے۔

یاد رہے کہ وادی اردن اور شمالی بحیرۂ مردار کے علاقے میں 65 ہزار فلسطینی اور 11 ہزار اسرائیلی مقیم ہیں۔

بن یامین نیتن یاہو کا مزید کہنا تھا کہ اگر عوام نے اُنہیں انتخابات میں واضح اکثریت سے کامیاب کیا تو وہ اپنے اس منصوبے پر اقتدار سنبھالنے کے فوری بعد عمل در آمد یقینی بنائیں گے۔

اسرائیل میں 17 ستمبر کو نئے انتخابات ہونے جارہے ہیں۔
اسرائیل میں 17 ستمبر کو نئے انتخابات ہونے جارہے ہیں۔

اسرائیل میں 17 ستمبر کو نئے انتخابات ہونے جارہے ہیں۔ اس سے قبل اپریل میں ہونے والے انتخابات میں کوئی بھی جماعت واضح اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی جس کی وجہ سے دوبارہ انتخابات کرانے کا اعلان کیا گیا تھا۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ دائیں بازو کی جماعتوں کے حامی غرب اردن کا تمام علاقہ اسرائیل میں شامل کرنے کے خواہاں ہیں اور وزیرِ اعظم نیتن یاہو کا یہ اعلان دائیں بازو کی جماعتوں میں بہت مقبول ہوگا اور وہ انتخابات میں اُن کی حمایت حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

دوسری جانب فلسطینی صدر محمود عباس نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اگر نیتن یاہو نے اپنے اس منصوبے پر عمل در آمد کیا تو اسرائیل کے ساتھ ہونے والے تمام معاہدے ختم ہوجائیں گے۔

اسرائیل اور فلسطین کے درمیان 1967 میں ہونے والی جنگ کے بعد اسرائیل نے مغربی کنارے پر قبضہ کرلیا تھا۔ جس کے بعد فریقین کے درمیان نوے کی دہائی میں امن معاہدہ طے پایا تھا۔

امریکی صدر پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اسرائیلی انتخابات کے بعد 'ٹرمپ پیس پلان' کا اعلان کریں گے۔ (فائل فوٹو)
امریکی صدر پہلے ہی اعلان کرچکے ہیں کہ وہ اسرائیلی انتخابات کے بعد 'ٹرمپ پیس پلان' کا اعلان کریں گے۔ (فائل فوٹو)

اُدھر امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکہ کی اسرائیل سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں آئی ہے۔ جب کہ عرب لیگ کے وزرائے خارجہ نے اسرائیلی وزیر اعظم کے منصوبے کی مذمت کی ہے۔

ایک بیان میں عرب وزرائے خارجہ کا کہنا ہے کہ اس قسم کا منصوبہ اسرائیل اور فلسطین کے درمیان امن عمل کو متاثر کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ وہ اسرائیل کے انتخابات کے بعد مشرق وسطیٰ میں قیام امن کے لیے 'ٹرمپ پیس پلان' کا اعلان کریں گے۔

یاد رہے کہ صدر ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر گزشتہ دو سالوں سے اسرائیل فلسطین تنازع کے حل کے لیے ایک منصوبے پر کام کر رہے ہیں جسے 'ٹرمپ پیس پلان' کا نام دیا گیا ہے۔ یہ منصوبہ 50 ارب ڈالرز کا اقتصادی پروگرام ہے جو مشرق وسطیٰ میں شامل ممالک فلسطین، اردن، مصر اور لبنان کے لیے ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG