رسائی کے لنکس

logo-print

کیا پاکستانی طالبان دوبارہ سر اُٹھا رہے ہیں؟


فائل فوٹو

پاکستان کے صوبہ خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی اضلاع میں تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کے حالیہ حملوں کے بعد ان علاقوں میں دہشت گرد تنظیم کی جانب سے دوبارہ قدم جمانے کے خدشات جنم لے رہے ہیں۔

گزشتہ چند ماہ سے سیکیورٹی فورسز اور قبائلی عمائدین پر حملوں میں اضافہ ہوا ہے جس کی متعدد کارروائیوں کی ذمے داری کالعدم ٹی ٹی پی کی جانب سے قبول کی گئی ہے۔

ٹی ٹی پی کی جانب سے صرف فروری میں شمالی وزیرستان، باجوڑ اور جنوبی وزیرستان سمیت خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع میں 16 حملے کیے جانے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔

ٹی ٹی پی کے میڈیا سیل کے مطابق شمالی وزیرستان میں پانچ، باجوڑ میں تین، جنوبی وزیرستان میں دو، مہمند، ڈیرہ اسماعیل خان، دیر، بنوں اور بلوچستان میں ایک ایک حملہ کیا گیا جن میں مجموعی طور پر 57 افراد ہلاک اور 58 زخمی ہوئے ہیں۔

حملوں کی نوعیت بتاتے ہوئے گروہ نے دعویٰ کیا کہ ان حملوں میں چار گوریلا حملے جب کہ تین حملوں میں بارودی سرنگیں استعمال کی گئیں۔

پاکستانی فوج کی جانب سے فروری میں جنوبی وزیرستان اور شمالی وزیرستان میں فوج کے اہلکاروں پر متعدد حملوں اور ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی ہے۔

ساتھ ہی ساتھ ان اضلاع میں ٹی ٹی پی کے شدت پسندوں کی ہلاکت کے دعوے بھی کیے جا رہے ہیں۔ ان میں قابلِ ذکر نورستان المعروف حسن بابا نامی ٹی ٹی پی کے اہم کمانڈر کی جنوبی وزیرستان میں 24 فروری کو ایک کاروائی میں ہلاکت بھی شامل ہے۔

پاکستانی فوج کے بقول حسن بابا 2007 سے اب تک 50 سے زائد فوجی اہلکاروں کی ہلاکت میں ملوث تھا۔

پاکستانی فوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے چھ مارچ کو شمالی وزیرستان میں ٹی ٹی پی کے تین اہم کمانڈروں سمیت آٹھ شدت پسندوں کو ایک آپریشن میں ہلاک کیے جانے کا دعوٰٰیٰ کیا گیا ہے۔

پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل قمرجاوید باجوہ نے بھی دو مارچ کو شمالی اورجنوبی وزیرستان کا دورہ کیا گیا جہاں فوجی جوانوں سے بات چیت کے دوران اُنہوں نے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی جاری رکھنے کا اعادہ کیا گیا۔

شہری علاقے بھی حملوں کی زد میں

ٹی ٹی پی سابق قبائلی علاقوں سے نکل کر اب ملک کے شہری مراکز میں بھی حملے کررہی ہے۔

سات مارچ کو صوبۂ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں ریس کورس پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او میاں عمران عباس ایک فائرنگ کے واقعے میں ہلاک ہوئے۔ ٹی ٹی پی نے حملے کی ذمے داری قبول کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم کے ایک خفیہ سیل نے یہ کارروائی کی ہے۔

طالبان گروہوں میں اختلافات اور انضمام کی وجوہات

سیکیورٹی اُمور پر نظر رکھنے والے بعض ماہرین اور قانون نافذ کرنے والے افسران کے مطابق ٹی ٹی پی کے حملوں میں دوبارہ شدت کے پیچھے کئی وجوہات ہیں جن میں ایک اہم وجہ ٹی ٹی پی کے مختلف دھڑوں کا انضمام ہے۔

سال 2007 میں وجود میں آنے والی ٹی ٹی پی بیت اللہ محسود کی سربراہی میں شروع کے دو سال تک ہر قسم کے اندرونی اختلافات سے مکمل طورپر پاک رہی اور طالبان کے تمام دھڑوں میں مکمل اتفاق اور اتحاد قائم رہا۔

البتہ، 2009 میں جب بیت اللہ محسود ایک ڈرون حملے میں ہلاک ہوئے تو اس کے بعد ٹی ٹی پی میں پہلی مرتبہ قیادت کے معاملے پر اختلافات پیدا ہوئے جو بعد میں تنظیم میں دھڑے بندی کا سبب بنے۔ یوں ٹی ٹی پی میں پہلی مرتبہ حکیم اللہ محسود اور مولانا ولی الرحمٰن کے نام سے دو دھڑے بن گئے۔

تجزیہ کاروں کے بقول تحریکِ طالبان کے حملوں میں اضافہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے۔
تجزیہ کاروں کے بقول تحریکِ طالبان کے حملوں میں اضافہ پاکستان سمیت خطے کے دیگر ممالک کے لیے تشویش ناک ہے۔

بعدازاں سوات سے تعلق رکھنے والے شدت پسند رہنما مولانا فضل اللہ جب ٹی ٹی پی کے پہلے غیر محسود سربراہ منتخب ہوئے تو یہ اختلافات مزید سنگین ہو گئے۔

حکیم اللہ محسود اور مولانا ولی الرحمٰن کی ڈرون حملوں میں ہلاکتوں کے بعد یہ دھڑے ان کے جانشین کمانڈروں شہریار محسود اور خان سید سجنا کے ناموں سے منسوب ہوئے۔ جو کئی سالوں تک کراچی، جنوبی وزیرستان اور آپریشن 'ضرب عضب' کے بعد افغانستان منتقل ہونے کے بعد وہاں بھی ایک دوسرے کے ساتھ لڑتے رہے جس سے تنظیم بری طرح متاثر ہوئی۔

سال 2014 میں ٹی ٹی پی مہمند تنظیم نے قیادت سے اختلافات کے سبب جماعت الاحرار نامی نئی شدت پسند تنظیم تشکیل دی جس کے سربراہ عمر خالد خراسانی تھے۔ جماعت احرار بھی 2017 میں تنظیم کے ترجمان احسان اللہ احسان کے ہتھیار ڈالنے کے بعد مزید تقسیم ہو گئی اور مکرم خان کی قیادت میں حزب الاحرار نامی ایک نیا دھڑا قائم ہوا۔

داعش کی انٹری

سال 2014 کے وسط میں دولتِ اسلامیہ (داعش) نے پاکستان اور افغانستان خطے کے لیے 'خراسان' کے نام سے اپنی شاخ کے اعلان کے بعد ٹی ٹی پی کی مشکلات میں مزید اضافہ ہوا۔

داعش کی نظریاتی اپیل، عالمی سطح پر ساکھ اور خاطرخواہ مالی وسائل کے سبب ٹی ٹی پی کے متعدد رہنما اور دھڑے داعش میں ضم ہو گئے۔

ٹی ٹی پی نے افغان طالبان اور القاعدہ کے ساتھ تعلق کی وجہ سے کبھی بھی داعش کی حمایت نہیں کی مگر 2014 میں ٹی ٹی پی کے خلاف آپریشن 'ضربِ عضب' کے سبب افغانستان کے سرحدی صوبوں میں تنظیم کے متعدد رہنما اورجنگجوؤں نے باقاعدہ طور پر داعش خراساں میں شمولیت اختیار کر لی تھی۔ جنوری 2015 میں ٹی ٹی پی اورکزئی کے کمانڈر حافظ سعید خان کو داعش خراسان کا سربراہ بھی نامزد کیا گیا۔

اختلافات کا خاتمہ

ٹی ٹی پی کے موجودہ سربراہ مفتی نور ولی تنظیم کے دھڑوں کو دوبارہ یکجا کرنے کے لیے کافی عرصے سے مصروفِ عمل تھے اور اس حوالے سے بعض کمانڈروں کے ساتھ رابطے میں تھے۔

البتہ اگست 2020 سے یہ کوششیں کامیاب ہونا شروع ہوئی جب جماعت الاحرار اورحزبِ الاحرار نے ٹی ٹی پی میں دوبارہ شمولیت کا اعلان کر کے مفتی نور ولی کی قیادت پر اعتماد کا اعلان کیا۔

کچھ ہفتے بعد ٹی ٹی پی کے شہریار محسود کا دھڑا بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہو گیا۔

نئے دھڑوں کی شمولیت

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹی ٹی پی کے ناراض دھڑوں کے ساتھ ساتھ القاعدہ اور لشکرِ جھنگوی سے وابستہ گروہوں کی شمولیت سے بھی ٹی ٹی پی مزید مضبوط ہوئی ہے۔

طالبان گروہوں کے امورسے واقف سوئیڈن میں مقیم محقق عبدالسعید نے کہا کہ القاعدہ کے دو اہم پاکستانی گروہوں نے باقاعدہ طور پر ٹی ٹی پی میں شمولیت اختیار کی ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان میں سے ایک گروہ حال ہی میں ہلاک ہونے والے القاعدہ برِصغیر کے نائب امیر استاد احمد فاروق کے قریبی ساتھی کمانڈر منیب کا ہے۔ دوسرا گروہ القاعدہ سے وابستہ امجد فاروقی گروہ ہے جو ماضی میں جنرل پرویز مشرف اور سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملوں میں بھی ملوث رہا ہے۔

عبدالسعید کا کہنا تھا کہ لشکرِ جھنگوی کے عثمان سیف اللہ کرد کا گروہ بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہوا جس کی سربراہی اب مولوی خوش محمد سندھی کر رہے ہیں۔ جو ماضی میں حرکت الجہاد اسلامی نامی شدت پسند گروہ کے سربراہ رہ چکے ہیں۔

اُن کے بقول نومبر میں بھی شمالی وزیرستان سے دو جنگجو دھڑے ٹی ٹی پی میں شامل ہوئے ہیں۔ ان میں ایک گروہ مولوی علیم خان کا ہے جو شمالی وزیرستان کے اہم طالبان کمانڈر حافظ گل بہادر کے ڈپٹی کمانڈر بھی رہ چکے ہیں جب کہ موسی شہید کاروان گروپ کے نام سے شمالی وزیرستان میں فعال طالبان گروہ بھی ٹی ٹی پی میں شامل ہو چکا ہے۔

ٹی ٹی پی کے داخلی معاملات سے باخبر جنوبی وزیرستان کے ایک مذہبی رہنما کے مطابق ٹی ٹی پی کی قیادت رہ جانے والے دیگر طالبان گروہوں سے بھی ایک ہی پلیٹ فارم پر متحد ہونے کے حوالے سے رابطے میں ہے۔

تصویر میں بائیں جانب ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار ہونے پر بھی سیکیورٹی اداروں کو تنقید کا سامنا ہے۔
تصویر میں بائیں جانب ٹی ٹی پی کے سابق ترجمان احسان اللہ احسان کے فرار ہونے پر بھی سیکیورٹی اداروں کو تنقید کا سامنا ہے۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے نام شائع نہ کرنے کی شرط پرانہوں نے بتایا کہ "اب تک جنوبی وزیرستان کے ملا نذیر کا گروہ، شمالی وزیرستان کے حافظ گل بہادر کا گروہ اور خیبر ایجنسی میں فعال منگل باغ کے لشکرِ اسلام ٹی ٹی پی میں شامل نہیں ہوئے۔"

البتہ ان کے بقول، منگل باغ کے افغانستان کے سرحدی صوبے ننگرہار میں ایک بم دھماکے میں ہلاکت کے بعد اطلاعات آرہی ہیں کہ گروہ کے نئے امیر زیلا خان عرف ابو عابد اور ڈپٹی امیر طیب عرف اجنبی (جو منگل باغ کے بیٹے بھی ہے) نے ٹی ٹی پی میں شمولیت کے حوالے سے باقاعدہ مشاورت شروع کر دی ہے۔

شمالی وزیرستان سے تعلق رکھنے والے سینئر صحافی و تجزیہ کار ناصر داوڑ کا کہنا ہے کہ مفتی نور ولی کی جرگوں اور مشاورت کے ذریعے ناراض دھڑوں کو یکجا کرنے کی کوششیں اب عملی شکل اس لیے اختیار کر رہیں ہے کیوں کہ وہ مفاہمت کی پالیسی پر چل کر ٹی ٹی پی کو ماضی کی طرح فعال بنانا چاہتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ شمالی وزیرستان اورجنوبی وزیرستان سمیت دیگر سابق قبائلی اضلاع میں کئی ماہ سے قبائلی عمائدین کی ٹارگٹ کلنگ جاری تھی مگر اب سیکیورٹی فورسز کے اہلکار بھی نشانہ بن رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کی تشویش

فروری میں اقوامِ متحدہ کی سیکیورٹی کونسل کی سینکشن مانیٹرنگ ٹیم کی جاری کردہ رپورٹ میں بھی ٹی ٹی پی کے دھڑوں میں اتحاد پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسے پاکستان، افغانستان اور خطے کے امن کے لیے خطرہ قرار دیا گیا تھا۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ القاعدہ کی کوششوں کے سبب ٹی ٹی پی کے دھڑوں میں انضمام ہوا ہے جس سے ٹی ٹی پی مضبوط اور اس کے نتیجے میں حملوں میں تیزی سے اضافہ ہوا۔

طالبان کے تباہ کیے ہوئے اسکول تعمیر کے منتظر
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:35 0:00

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں ایک رکن ملک کے کیے گئے تخمینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا گیا ہے کہ ٹی ٹی پی کے جنگجوؤں کی افرادی قوت 2500 سے 6000 کے درمیان بتائی گئی ہے جب کہ ایک دوسرے رکن ملک کے مطابق ٹی ٹی پی نے پچھلے سال جولائی سے اکتوبر کے درمیان سرحد پار سے 100 حملے کیے۔

پاکستانی حکام کا مؤقف

افواج پاکستان کے ترجمان میجر جنرل بابرافتخار نے 24 فروری کو غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کے دوران کہا تھا کہ تحریکِ طالبان کے حملوں میں اضافہ دراصل فوجی آپریشن کا ردِ عمل ہے۔

انہوں نے کہا کہ حال ہی میں متحد ہونے والی ٹی ٹی پی کو افغانستان کے پاکستانی سرحد کے قریب علاقوں میں ٹھکانے مل گئے ہیں۔

بھارت پر ٹی ٹی پی کی مالی اور تیکنیکی معاونت کا الزام عائد کرتے ہوئے میجر جنرل بابر افتخار نے کہا کہ شدت پسند گروہ کو پڑوسی ملک نائٹ ویژن چشمے، دیسی ساختہ مواد اور چھوٹے ہتھیار جیسے سامان بھی مہیا کر رہا ہے جس کے سبب بھی حملوں میں تیزی آئی ہے۔

خیال رہے کہ پاکستانی حکومت اور فوج کی جانب سے اس نوعیت کے الزامات کی بھارت ماضی میں تردید کرتا رہا ہے۔

مقامی افراد بڑھتے ہوئے حملوں سے پریشان

خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے سابق قبائلی اضلاع خصوصاً شمالی وزیرستان اور جنوبی وزیرستان کے رہائشی ٹی ٹی پی کے حملوں میں اضافے پر تشویش میں مبتلا ہیں۔

اہلِ علاقہ حکومت اور سیکیورٹی اداروں کے ان دعوؤں پر سوال اُٹھا رہے ہیں جن میں کہا جاتا رہا ہے کہ ملک بھر میں شدت پسند تنظیموں کی کمر توڑ دی گئی ہے۔

شمالی وزیرستان میں ٹرانسپورٹ کے شعبے سے وابستہ قبائلی رہنما معین وزیر کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی فورسز اور قبائلی عمائدین پر حملوں کے بعد علاقے کے رہائشیوں میں خوف پھیل گیا ہے اور کاروباری حلقے ان اضلاع میں سرمایہ کاری کرنے سے کترا رہے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات چیت کرتے ہوئے معین وزیر کا کہنا تھا کہ بڑی تعداد میں مقامی رہائشی ایک بار پھر بنوں اور صوبے کے دیگر پرامن علاقوں میں منتقل ہو رہے ہیں۔

گزشتہ ماہ شمالی وزیرستان میں ایک غیر سرکاری تنظیم سے وابستہ چار خواتین ایک حملے میں ڈرائیور کے ہمراہ ہلاک ہو گئی تھیں۔ اس حملے کے بعد خیبرپختونخوا میں ضم شدہ اضلاع میں فعال بین الاقوامی اور قومی غیر سرکاری تنظمیوں میں کام کرنے والے اہلکار بھی عدم تحفظ کا شکار ہو رہے ہیں۔

اسلام آباد میں ایک بین الاقوامی ادارے سے وابستہ اہلکار کا کہنا ہے کہ ضم شدہ اضلاع میں ایک بڑی تعداد میں ڈویلپمنٹ سیکٹر سے وابستہ افراد نے کام کرنے سے انکار کر دیا ہے۔

ذرائع ابلاغ سے بات کرنے کی اجازت نہ ہونے کے سبب نام شائع نہ کرنے کی شرط پر انہوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ چار خواتین کے قتل اور سیکیورٹی فورسز پر بڑھتے ہوئے حملوں کے بعد متعدد غیر سرکاری تنظیموں نے اپنے عملے کو غیر ضروری نقل و حرکت سے گریز کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG