رسائی کے لنکس

logo-print

جنرل زبیر حیات نے اپنی ذمہ داریاں سنبھال لیں


جنرل قمر جاوید باجوہ منگل کو بطور آرمی چیف کمان سنبھالیں گے۔

جنرل زبیر محمود حیات نے پیر کو بطور چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی اپنی ذمہ داریاں سنھبال لی ہیں جب کہ جنرل قمر جاوید باجوہ منگل کو بطور آرمی چیف کمان سنبھالیں گے۔

پاکستانی فوج کے سابق لفٹیننٹ جنرل اور سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے دفاعی پیداور کے چیئرمین سینیٹر عبدالقیوم نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ عسکری قیادت کی تبدیلی سے فوج کی جاری پالیسی پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔

واضح رہے کہ ملک کے وزیر دفاع خواجہ آصف نے بھی اپنے ایک انٹرویو میں ایسی ہی بات کہی تھی۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ عبدالقیوم نے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے علاوہ پاکستانی فوج کے پاس کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

ہفتہ کو وزیراعظم نواز شریف نے زبیر محمود حیات کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی جب کہ قمر جاوید باجوہ کو لفٹیننٹ جنرل کے عہدے سے ترقی دے کر نیا آرمی چیف مقرر کیا تھا۔

پیر کو راولپنڈی میں جوائنٹ سٹاف ہیڈ کوارٹر میں اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے والے جنرل راشد محمود نے ذمہ داری جنرل زبیر محمود حیات کے سپرد کی۔

اُدھر امریکی سفارت خانے سے جاری ایک بیان میں لیفٹیننٹ جنرل قمر باجوہ کی بطور چیف آف آرمی اسٹاف تقرری کا خیر مقدم کیا گیا۔ بیان کے مطابق ’’ ہم پاکستان کے منتخب راہنماؤں ، لیفٹیننٹ جنرل قمر باجوہ اور پاکستان کی افواج کے ساتھ پاکستان اور خطہ میں شورش کے قلع قمع اور انسداد دہشت گردی کے مشترکہ اہداف کے حصو ل اور پاکستانی حکام کو اپنی سرزمین کو پڑوسی ممالک کے خلاف دہشت گردی کے حملوں کے لیے استعمال سے روکنے کے اپنے عہد کی پاسداری کرنے کے قابل بنانے کے لیے کام کرتے رہیں گے۔‘‘

اُدھر پاکستانی فوج کے سربراہ جنرل راحیل شریف نے پیر کو وزیراعظم نواز شریف اور صدر ممنون حسین سے الوادعی ملاقاتیں کیں جس کے بعد اُنھوں نے انٹیلی جنس ادارے ’آئی ایس آئی‘ کے صدر دفتر کا دورہ بھی کیا۔

جب کہ بعد ازاں اُنھوں نے راولپنڈی میں کور کمانڈرز کانفرنس کی صدارت بھی کی۔

جنرل راحیل نے 29 نومبر 2013 کو پاکستانی فوج کی کمان سنبھالی تھی اور بطور آرمی چیف اُنھوں نے شمالی وزیرستان میں ’ضرب عضب‘ کے نام سے ایک بڑا فوجی آپریشن شروع کیا۔

جب کہ کراچی، بلوچستان اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائیوں کا آغاز و نگرانی کی۔

XS
SM
MD
LG