رسائی کے لنکس

logo-print

رشتوں کے درمیان پڑنے والی دراڑوں کی کہانی: 'مجھے کچھ کہنا ہے'


ڈرامے کی کہانی ایک ایسی گھریلو عورت کے گرد گھومتی ہے جو شادی کے کچھ ہی سال بعد ماں بن کر بچوں میں ایسی گم ہوتی ہے کہ شوہر کو یکسر نظر انداز کر بیٹھتی ہے۔

پاکستان کا موجودہ ٹی وی ڈرامہ بعض ناقدین کی نظر میں جمود کا شکار ہے۔ کچھ مبصرین اور تجزیہ نگاروں کا کہنا ہے کہ موجودہ ڈراموں میں کہانی کہیں کھو سی گئی ہے اور واقعات میں ہرجگہ یکسانیت نظرآتی ہے۔

اس تنقید کے باوجود پاکستان کے تمام نجی ٹی وی چینلز اور اب تو سرکاری ٹی وی بھی اس تاثر کو غلط قرار دینے کی کوششوں میں مصروف رہتے ہیں۔ اسی لئے نت نئے تجربات کئے جارہے ہیں اور ایسے موضوعات کو ضبط تحریر میں لایا جانے لگا ہے جن پر قلم اٹھانے کا پہلے سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا۔ شاید ”مجھے کچھ کہنا ہے“ بھی ایسی ہی ایک کوشش ثابت ہو۔

’مجھے کچھ کہنا ہے' جیو ٹی وی سے شروع ہونے والا نیا ڈرامہ ہے۔ پی آر فرم 'فریجینسی' کی عہدیدار نگہت عزیز کی جانب سے وی او اے کو ڈرامے سے متعلق بتائی گئی تفصیلات کے مطابق: عورت جب ماں بنتی ہے تو اس کی ترجیحات بدل جاتی ہیں اور اس کی ساری توجہ بچوں کی جانب مرکوز ہوجاتی ہے۔ ”مجھے کچھ کہنا ہے“ کی کہانی بھی ایک ایسی ہی گھریلو اور عام عورت شازمہ کے گرد گھومتی ہے جو شادی کے کچھ ہی سال بعد ماں بن کر بچوں میں ایسی گم ہوتی ہے کہ شوہر کو یکسر نظر انداز کر بیٹھتی ہے۔

شازمہ اور معظم اپنی دو بیٹیوں کے ساتھ ایک دوسرے کی دنیا میں رہتے ضرور ہیں لیکن خوشی خوشی نہیں۔ میاں بیوی کی دوری کا فائدہ سیماب کو ملتا ہے جو شازمہ سے کم عمر اور اپنی باتوں سے دوسروں کے دل میں جگہ بنانے کا فن بخوبی جانتی ہے۔

معظم اسے اپنے قریب پاکر اس میں دلچسپی لینے لگتا ہے اور شازمہ سے دور ہوتا چلا جاتا ہے۔ یہیں سے شازمہ کو نت نئے چیلنجز کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور یہیں سے کہانی نئے موڑ لیتی ہے۔

سیریل کو ڈائریکٹ کیا ہے شہود علوی نے جبکہ تحریر نصرت جبیں کی ہے۔ کاسٹ میں شہود علوی، سبین اصفہانی، انور اقبال، میرا سیٹھی، رائزہ گیلانی، کرن عباسی، علی حسن، ماہی بلوچ اور کائنات خان شامل ہیں۔

XS
SM
MD
LG