رسائی کے لنکس

سابق وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی خواجہ آصف کو وزیرِ خارجہ مقرر کیا گیا ہے جب کہ احسن اقبال کو وزارتِ داخلہ کا قلم دان سونپا گیا ہے۔

پاکستان میں وزیراعظم کی تبدیلی کے بعد جمعے کو 43 رکنی نئی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے،جس میں 27 وفاقی وزرا اور 16 وزائے مملکت شامل ہیں۔

اگرچہ نئی کابینہ میں بیشتر وزرا وہی ہیں جو نا اہل قرار دیے جانے والے سابق وزیراعظم نواز شریف کی کابینہ میں شامل تھے لیکن کئی نئے اراکین کو بھی وزیرِاعظم شاہد خاقان عباسی کی کابینہ کا حصہ بنایا گیا ہے۔

نئی کابینہ میں کئی پرانے وزرا کو نئے قلم دان سونپے گئے ہیں۔

گزشتہ کابینہ میں پانی و بجلی اور دفاع کے وزیر خواجہ آصف کو نئی کابینہ میں وزیرِ خارجہ مقرر کیا گیا ہے۔

پچھلی کابینہ میں وزیرِ خارجہ کا عہدہ خالی تھا اور سابق وزیرِاعظم میاں نواز شریف یہ ذمہ داریاں خود انجام دے رہے تھے۔ کل وقتی وزیر خارجہ نہ ہونے پر نواز شریف کو تنقید کا سامنا بھی رہا تھا۔

نئی کابینہ میں مسلم لیگ (ن) کے سینئر رہنما اور سابق وزیرِ داخلہ چوہدری نثار شامل نہیں ہیں۔ ان کی جگہ احسن اقبال کو نئی کابینہ میں وزارتِ داخلہ کا قلم دان سونپا گیا ہے جو نواز شریف کی حکومت میں وزیر برائے منصوبہ بندی و ترقی تھے۔

نئی کابینہ میں خرم دستگیر خان کو وزیرِ دفاع مقرر کیا گیا ہے، جب کہ اسحاق ڈار کو خزانہ اور خواجہ سعد رفیق کو ریلوے کی وزارت سونپی گئی ہے۔ یہ دونوں وزرا پہلے بھی انہی وزارتوں کے انچارج تھے۔

چھیالیس رکنی کابینہ کے دانیال عزیز سمیت تین نامزد وزرا جمعے کو حلف نہ لے سکے جو بعد میں اپنی ذمہ داریاں سنبھالیں گے۔

ایوان صدر میں ہونے والی تقریب حلف برداری کے فوراً بعد وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کی زیر صدارت کابینہ کا پہلا اجلاس ہوا جس میں جاری منصوبوں کی جلد تکمیل اور خاص طور پر معاشی پالیسیوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔

اطلاعات و نشریات کی وزیرِ مملکت مریم اورنگزیب نے سرکاری میڈیا سے گفتگو میں کہا ہے کہ نئی کابینہ تحلیل ہونے والی کابینہ ہی کا تسلسل ہے۔

اُن کہنا تھا کہ یہ نئی ٹیم نواز شریف حکومت کے ایجنڈے کے تکمیل کرے گی۔

خیال رہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے پاناما کیس میں نااہل قرار دیے جانے پر گزشتہ ہفتے میاں نواز شریف وزارتِ عظمیٰ سے سبکدوش ہوگئے تھے جس کے ساتھ ہی وفاقی کابینہ بھی تحلیل ہو گئی تھی۔

نواز شریف کی نااہلی کے بعد مسلم لیگ (ن) نے سابق وفاقی وزیر برائے پیٹرولیم شاہد خاقان عباسی کو وزیرِاعظم نامزد کیا تھا جو منگل کو قومی اسمبلی میں بھاری اکثریت سے قائدِ ایوان منتخب ہوئے۔

نئی کابینہ کی تشکیل پر مری میں تین روز سے سابق وزیراعظم نواز شریف کی زیر قیادت مسلم لیگ (ن) کی سینئر قیادت مشاورت میں مصروف تھی اور جمعرات کی شام کابینہ سے متعلق حتمی فیصلہ کیا گیا تھا۔

گزشتہ ہفتے عدالت عظمیٰ کے فیصلے کی روشنی میں اپنا منصب چھوڑنے کے بعد سے نواز شریف مری میں اپنی نجی رہائش گاہ میں مقیم ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ سابق وزیرِاعظم نے براستہ سڑک چھ اگست کو اسلام آباد سے لاہور جانے کا فیصلہ کیا ہےجہاں وہ بظاہر عوامی طاقت کا مظاہرہ کریں گے۔

وفاقی وزیر برائے ریلوے خواجہ سعد رفیق نے عندیہ دیا ہے کہ نواز شریف فارغ نہیں بیٹھیں گے بلکہ میدان سیاست میں پہلے سے بڑا کردار ادا کریں گے۔

جمعے کو اسلام آباد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا مزید کہنا تھا کہ مسلم لیگ (ن) نے نواز شریف کو نا اہل قرار دینے سے متعلق عدالت عظمیٰ کے فیصلے کے خلاف نظر ثانی کی پٹیشن دائر کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG