رسائی کے لنکس

logo-print

یوایس اے آئی ڈی کے پہلے بھارتی نژاد سربراہ، ڈاکٹر راجیوشاہ



حال ہی میں بھارتی نژاد سابق امریکی عہدےدار ڈاکٹر راجیوشاہ کوامریکی امدادی ادارے یو ایس اے آئی ڈی کا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔ وہ اس سے پہلے امریکی محکمہ زراعت میں اہم خدمات انجام دے چکے ہیں۔ ڈاکٹر راجیو شاہ نے ایک ایسے وقت میں امریکی امدادی ادارے کی قیادت سنبھالی ہے جب اوباما انتظامیہ یو ایس اے آئی ڈی کو امریکی سلامتی اور خارجہ پالیسی جیسے شعبوں کی طرح اہم بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔

چھتیس سالہ راجیو شاہ پیشے کے اعتبار سے میڈیکل ڈاکٹر اور زرعی شعبے کے ماہر ہیں۔ ان کے والدین بھارت سے ترک وطن کر کے امریکہ آئے تھے۔

وہ بتاتے ہیں کہ میرے دادا ایک اکاؤنٹنٹ تھے لیکن اپنی اعلیٰ تعلیم اور اچھی ملازمت کے باوجود انہیں شدید مالی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وائس آف امریکہ کے ساتھ ایک انٹرویو میں داکٹر راجیو شاہ کا کہنا تھا کہ امریکی ادارہ برائے عالمی ترقی یا یو ایس اے آئی ڈی کی قیادت ان کے اور ان کے خاندان کے لئے اعزاز کی بات ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ہم اتنے خوش ہیں کہ بتا نہیں سکتے، یہ ایک جذباتی لمحہ ہے جس کے لئے ہم سبھی بہت پر جوش ہیں۔

ڈاکٹر شاہ کہتے ہیں کہ وہ ایک ایسے ادارے کی قیادت کے لئے تیار ہیں جو ایک بڑی تبدیلی سے گزر رہا ہے۔ کیونکہ اوباما انتظامیہ ترقیاتی کاموں اور غیر ملکی امداد ی پروگراموں کو امریکی خارجہ پالیسی میں وہی مقام دینا چاہتی ہے جو سفارتکاری اور دفاع کا ہے۔

ان کا کہناتھا کہ جب لوگوں کے پاس زیادہ معاشی مواقع ہونگے، جب وہ عالمی ترقی اور آگے بڑھتی ہوئی دنیا کے ساتھ منسلک ہونگے تو انہیں شدت پسند رجحانات کی طرف ترغیب کم ملے گی۔

ڈاکٹر شاہ کہتے ہیں کہ یو ایس اے آئی ڈی امریکی محکمہ دفاع اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ساتھ مل کر کام کرے گا مگر ادارے کے اندر اہم فیصلے کرنا ان کے دائرہ اختیار میں ہوگا۔ ڈاکٹر شاہ کا کہنا ہے کہ مجھے خودمختاری کے ساتھ امریکی امدادی ادارے کو چلانے کا اختیار ہوگا۔

یو ایس اے آئی ڈی دنیا بھر میں جاری ترقیاتی منصوبوں کو20 ارب ڈالر سالانہ کی امداد فراہم کرتی ہے، جسے اوباما انتطامیہ بڑھا کر 2012ء تک 50 ارب ڈالر سالانہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہے، جسے صحت، تعلیم اور زراعت کے شعبوں پر خرچ کیا جائے گا۔ لیکن یہ پیسہ خرچ کیسے کیا جائے گا اس کا فیصلہ کرنے کا طریقہ اب مختلف ہوگا۔ ڈاکٹر شاہ کہتے ہیں کہ کئی بار پروگرام، آئیڈیاز اور حل واشنگٹن میں بیٹھ کر ڈیزائن کئے گئے مگر جہاں ان کا اطلاق ہونا تھا، وہاں ان کا کوئی فائدہ نہ ہوا۔

ڈاکٹر شاہ کہتے ہیں کہ امریکی حکومت اب غیر ملکی حکومتوں کو زیادہ اختیار دینا چاہتی ہے کہ امریکی امداد کو ان کے ملک میں کیسے خرچ کیا جائے۔ یہ کہتے ہیں کہ اگرچہ یو ایس اے آئی ڈی دنیا بھر میں ضروت مند ملکوں کی مدد کرے گی مگر اس کے فوری ترجیحات میں افغانستان اور یمن جیسے ملکوں کی مدد کرنا شامل ہیں جہاں شدت پسندی کے رجحانات زیادہ ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ یو ایس اے آئی ڈی سینکڑوں ترقیاتی ماہر ین کی خدمات حاصل کرنا چاہتا ہے جو ادارے کی نئی ضروریات پوری کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG