رسائی کے لنکس

کانگو میں مزید تین اجتماعی قبریں دریافت


فائل
فائل

فروری 2017ء میں ایک ویڈیو بھی منظرِ عام آئی تھی جس میں کانگو کے فوجی اہلکاروں کو کمونا ساپو کی ملیشیا کے ارکان کا قتلِ عام کرتے دکھایا گیا تھا۔

اقوامِ متحدہ نے افریقی ملک عوامی جمہوریہ کانگو میں مزید تین اجتماعی قبریں دریافت ہونے کا دعویٰ کیا ہے۔

نئی قبروں کی دریافت کا انکشاف بدھ کو اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق زید رعد الحسین نے جنیوا میں عالمی ادارے کی انسانی حقوق کونسل کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔

اپنے خطاب میں زید رعد الحسین نے کونسل پر زور دیا کہ وہ جمہوریہ کانگو میں نئی اجتماعی قبروں کی دریافت اور انسانی حقوق کی سنگین خلا ف ورزیوں کے نئے شواہد سامنے آنے کے بعد تحقیقاتی کمیشن تشکیل دے۔

عالمی ادارے کے عہدیدار نے نئی قبروں کی دریافت سے متعلق اپنے خطاب میں مزید کچھ نہیں بتایا جب کہ کانگو میں قائم اقوامِ متحدہ کے دفتر نے بھی اس بارے میں فوری طور پر کوئی معلومات دینے سے معذوری ظاہر کی ہے۔

کانگو کی وزیر برائے انسانی حقوق نے خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے رابطہ کرنے پر کہا ہے کہ وہ فی الحال اقوامِ متحدہ کے عہدیدار کے اس بیان پر کوئی تبصرہ کرنے سے قاصر ہیں۔

کانگو کے وسطی صوبے میں سرکاری فوج اور علیحدگی پسند ملیشیا کے جنگجووں کے درمیان گزشتہ سال سے لڑائی جاری ہے جس میں اب تک کم از کم 400 افراد ہلاک اور دو لاکھ سے زائد بے گھر ہوئے ہیں۔

گزشتہ سال اگست میں ملیشیا کا سربراہ کمونا ساپو پولیس کی ایک کارروائی میں مارا گیا تھا جس کے بعد سے تشدد اور کشیدگی میں کئی گنا اضافہ ہوا ہے۔

اپنی ہلاکت سے قبل کمونا ساپو نے عزم ظاہر کیا تھا کہ وہ اور اس کی ملیشیا کے ارکان کانگو کی وسطی ریاست کسائیکو سرکاری فوج اور پولیس سے "پاک" کرکے رہیں گے۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کمیشن کے سربراہ نے گزشتہ ماہ بھی کہا تھا کہ وسطی کانگو میں سرکاری فوج کی جانب ملیشیا سے تعلق کے شبہے میں لوگوں کے بے دریغ قتل اور انسانی حقوق کی دیگر خلاف ورزیوں کی بے تحاشا قابلِ اعتبار الزامات سامنے آئے ہیں جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔

فروری 2017ء میں ایک ویڈیو بھی منظرِ عام آئی تھی جس میں کانگو کے فوجی اہلکاروں کو کمونا ساپو کی ملیشیا کے ارکان کا قتلِ عام کرتے دکھایا گیا تھا۔

کانگو کی حکومت کا کہنا ہے کہ وہ اس ویڈیو اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے دیگر الزامات کی تحقیقات کر رہی ہے تاہم اس نے کانگو میں قائم اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر کی جانب سے تحقیقات میں معاونت کی پیش کش یہ کہہ کر مسترد کردی ہے کہ عالمی ادارے کے نمائندے کانگو کے بحران میں جانب داری برت رہے ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں کمونا ساپو کی ملیشیا پر بچوں کو بطور جنگجو استعمال کرنے اور عبادت گاہوں اور سرکاری عمارتوں پر بے دریغ حملے کرنے کے الزامات بھی عائد کرتے آئے ہیں۔

کانگو میں نسلی بنیادوں اور زمین اور معدنی وسائل پر قبضے کے لیے مختلف گروہوں کے درمیان جھڑپوں کی روایت خاصی پرانی ہے۔ ملک کے مشرقی حصے میں 1996ء اور 2003ء کے درمیان ہونےو الی لڑائی میں لاکھوں افراد مارے گئے تھے۔

گو کہ کانگو کی روانڈا اور یوگینڈا سے منسلک سرحدی علاقوں میں اب بھی درجنوں مسلح تنظیمیں سرگرم ہیں لیکن کمونا ساپو کی بغاوت سے قبل تک حالیہ برسوں میں تشدد کی کسی باضابطہ تحریک نے سر نہیں اٹھایا تھا۔

XS
SM
MD
LG