رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں نئی جنگ بندی، غیر واضح اور شبہات کی شکار


جمعرات کو روسی صدر ولادیمیر پیوٹن کی جانب سے شام میں جنگ بندی کے بارے میں جو اعلان سامنے آیا، وہ غیر واضح، اور شکوک و شبہات کا شکار ہے۔

اِس سمجھوتے کے بارے میں روس کا کہنا تھا کہ اس سے پانچ برس سے جاری لڑائی کے تصفیے کے لیے روسی ثالثی میں مذاکرات کی راہ ہموار ہوگی۔
تاہم، مغربی سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ ترکی کی شرکت سےجنگ بندی کی تجویز کو اضافی اہمیت ملی، جو ابھی تک محور سے الگ تھا۔ باغی ملیشیائیں جو جنگ بندی توڑتی ہیں، ترکی اُن پر حاوی پا سکتا ہے، چونکہ وہ سرحد پار اسلحے کی رسد کے پہنچنے کو روکنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔

سیرئن نیشنل کولیشن نے، جو مغربی اور خلیجی ملکوں کا حمایت یافتہ سیاسی حزب مخالف کا ایک اہم گروپ ہے، کہا ہے کہ وہ اس معاہدے کی پابندی کرے گا۔، تاہم، اُس نے متنبہ کیا کہ جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا جواب دیا جائے گا۔

جمعرات کی شام ایک باضابطہ بیان میں، سیرئن نیشنل کولیشن نے کہا ہے کہ ’’جنگ بندی کے سجھوتے پر کامیاب عمل درآمد کے لیے تمام فریق کے لیے لازم ہوگا کہ وہ اس کی شرائط کی پاسداری کریں‘‘۔

تاہم، اتحاد نے متنبہ کیا کہ اُسے اس بات کا ڈر ہے کہ ’’ایران اس سمجھوتے کی راہ میں روڑے اٹکائے گا اور شرائط کی پابندی نہیں کرے گا، چونکہ وہ شام کی کشیدگی میں مزید اضافہ چاہتا ہے‘‘۔

اس سے قبل آنے والی اطلاعات کے مطابق، شام کی حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ بندی کا نیا معاہدہ طے پاگیا تھا جس کا اطلاق جمعے سے ہوگا۔

جنگ بندی کا اعلان شام کی حکومت نے جمعرات کو ایک بیان میں کیا ہے۔ بیان کے مطابق جنگ بندی شام کی حکومت، اس کے تمام اتحادیوں اور باغیوں کی سات تنظیموں کے مابین ہوگی۔

شامی فوج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ جمعرات اور جمعے کی درمیانی شب جنگ بندی کا آغاز ہوتے ہی ملک بھر میں اپنے حملے روک دے گی۔

شامی حکام نے واضح کیا ہے کہ داعش، القاعدہ اور ان سے منسلک دیگر شدت پسند تنظیمیں ماضی میں ہونے والی جنگ بندی کی طرح حالیہ سیز فائر سے بھی مستثنیٰ ہوں گی اور ان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی۔

جنگ بندی کا معاہدہ شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے اتحادی، روس اور باغیوں کے حمایتی، ترکی کی کوششوں سے طے پایا ہے جنہوں نے کہا ہے کہ وہ فریقین کی جانب سے معاہدے پر عمل درآمد کے ضمانت دیں گے۔

روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے کہا ہے کہ شام کے تنازع کے دونوں فریقین کے درمیان تین معاہدے طے پائے ہیں جن میں سے ایک جنگ بندی، دوسرا جنگ بندی کے طریقہ کار اور تیسرا معاہدہ تنازع کے پرامن تصفیے کے لیے مذاکرات پر آمادگی سے متعلق ہے۔

صدر پیوٹن کےمطابق صدر بشار الاسد کی حکومت اور شامی حزبِ اختلاف کے نمائندوں کے درمیان مذاکرات قازقستان میں ہوں گے تاہم انہوں نے ان مذاکرات کے لیے کسی تاریخ کا اعلان نہیں کیا ہے۔

امریکی اخبار 'نیویارک ٹائمز' کے مطابق اطلاعات ہیں کہ مذاکرات جنگ بندی کے آغاز کے ایک ماہ بعد ہوں گے۔

روس کے وزیرِ دفاع سرگئی کے شوئیگو نے کہا ہے کہ جنگ بندی کا اطلاق شام بھر میں پھیلے ہوئے 62 ہزار باغیوں پر ہوگا۔

شام کے تنازع پر گزشتہ ہفتے ماسکو میں ہونے والے سہ ملکی اجلاس کا ایک منظر، اجلاس میں روس، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ شریک تھے
شام کے تنازع پر گزشتہ ہفتے ماسکو میں ہونے والے سہ ملکی اجلاس کا ایک منظر، اجلاس میں روس، ترکی اور ایران کے وزرائے خارجہ شریک تھے

شام میں جنگ بندی کے لیے روس اور ترکی کے درمیان گزشتہ چند ہفتوں سے سفارت کاری اور مذاکرات کا سلسلہ جاری تھا۔

اس سے قبل بھی رواں ماہ دونوں ملکوں کی کوششوں سے باغیوں اور شامی حکومت کے درمیان باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے حلب میں جنگ بندی اور وہاں پھنسے شہریوں اور جنگجووں کے انخلا کا معاہدہ طے پایا تھا جس کے بعد شہر مکمل طور پر اسد حکومت کے کنٹرول میں آگیا ہے۔

شام کی صورتِ حال پر غور کے لیے گزشتہ ہفتے ترک، ایرانی اور روسی وزرائے خارجہ کا ایک اہم اجلاس ماسکو میں ہوا تھاجس کے بعد سے شام میں جنگ بندی سے متعلق سفارتی رابطوں میں تیزی آگئی تھی۔

منگل کو روسی وزیرِ خارجہ سرگئی لاوروف نے کہا تھا کہ روس، ایران اور ترکی نے اتفاق کیا ہے کہ شام میں پہلی ترجیح صدر بشار الاسد کی اقتدار سے رخصتی نہیں بلکہ دہشت گردی کا مقابلہ ہے۔

ترک وزارتِ خارجہ کے مطابق وزیرِ خارجہ میولت کاوو سوگلو نے شام میں ہونے والی پیش رفت پر مشاورت کے لیے رواں ہفتے دو بار اپنے روسی ہم منصب سرگئی لاوروف کو فون کیا۔

ترک وزارتِ خارجہ کے ایک اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا ہے کہ ترک حکام اور شامی باغیوں کے نمائندوں کے درمیان ملاقاتیں کئی روز سے جاری تھیں۔

شامی حزبِ اختلاف کے ایک رہنما نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ جنگ بندی کے لیے ہونے والے مذاکرات انقرہ میں ہوئے اور ترک قیادت کےساتھ باغی قیادت کی ملاقاتیں مستقبل میں بھی جاری رہیں گی۔

XS
SM
MD
LG