رسائی کے لنکس

عراقی عوام میں ایران کی مقبولیت کم ہوئی ہے: تازہ سروے رپورٹ


موصل (فائل)
موصل (فائل)

پیر کو جاری ہونے والے ایک سروے سے ظاہر ہوا ہے کہ عراقی عوام کی نظر میں ایران کی حمایت اپنی کم ترین سطح پر پہنچ گئی ہے۔ صرف پندرہ فی صد ایران کی حمایت کرتے ہیں، جبکہ ایک تہائی عراقی امریکہ کے حامی ہیں۔

یہ سروے بغداد میں قائم ایک آزاد ادارے Independent Institute of Administration and Civil Society Studies نے کیا ہے۔

سروے کے مطابق، اکثریت نہ تو ایران کی حمایت کرتی ہے اور نہ امریکہ کی۔ تاہم، پہلی بار ایران کے مقابلے میں امریکہ کی مقبولیت میں اضافہ ہوا ہے۔ ادارے کے سربراہ، منکتھ ڈاگیر کا کہنا ہے کہ عراقی سیاسی ماحول میں یہ نیا رجحان دیکھنے میں آیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ایران کی حمایت پندرہ فی صد کے قریب ہے، جبکہ ایک تہائی عراقی امریکہ کو پسند کرتے ہیں۔ سن دو ہزار سترہ کے مقابلے میں یہ بہت بڑی تبدیلی ہے۔ دو ہزار سترہ میں ستر فی صد عراقی ایران کے حامی تھے۔

ایران کی مقبولیت میں کمی ایک ایسے موقعے پر واقع ہوئی جب امریکہ اور عراق کے درمیان مذاکرات کا ایک نیا دور شروع ہوا، جس میں دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کا جائزہ لیا گیا۔ اس کے علاوہ، دہشت گرد گروپ، داعش کے خلاف جنگ کے بارے میں نئی حکمت عملی بھی طئے کی جا رہی ہے۔

یہ سٹرٹیجک مذاکرات پچھلے ہفتے ویڈیو لنک پر ہوئے تھے، بعد میں ایک مشرکہ بیان جاری کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ تقریباً پانچ ہزار فوجیوں کو عراق سے واپس بلا رہا ہے۔ اس کے علاوہ، دونوں ملکوں کے درمیان ثقافتی اور اقتصادی تعاون کو بھی فروغ دیا جائے گا۔

سابق سفیر باربرا لیف کا کہنا ہے کہ امریکی حکومت اور کانگریس میں دونوں بڑی جماعتیں اس پر متفق ہیں کہ صرف سیکورٹی پر توجہ مرکوز رکھنے کے علاوہ تعلقات کے دیگر پہلووں کو بھی پائیدار بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔

لندن میں مقیم انسداد دہشت گردی کے ماہر رامن گھاوامی کا کہنا ہے کہ عراق میں ہونے والے حالیہ واقعات نے عراق کو ایران سے اور بھی دور کر دیا ہے۔ حال ہی میں امریکہ اور عراق کے درمیان ہونے والے مذاکرات ایران کے حق میں نہیں تھے۔

انہوں نے وی او اے سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران کے بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے بارے میں عراق میں مظاہرے بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ ایران کی پست معاشی حالت نے بھی عراق میں اس کی دخل اندازی کو محدود کیا ہے۔

ایران کی گھٹتی ہوئی مقبولیت کے باوجود بعض ماہرین کا خیال ہے کہ مسقبل قریب میں ایران عراقی سیاست میں کوئی نہ کوئی کردار ادا کرتا رہے گا۔

امریکہ میں قائم نیوکلیر ایران کے مخالف ایک ایڈوکیسی گروپ کے پالیسی ڈائرکٹر جیسن براڈسکی نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ایران اب بھی عراقی سیاست میں بادشاہ گر کا کردار ادا کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ایران نے ابھی حال میں عراق کے ساتھ انرجی کا دو سالہ معاہدہ کیا ہے اور وہ ایک شاہراہ کی تعمیر کر رہا ہے جو ایرانی شہر مہران کو عراقی شہر نجف سے ملائے گی۔

براڈسکی نے مزید کہا کہ ایران پر عائد پابندیوں اور سلیمانی کی موت نے عراق میں ایران کی حیثیت کو کچھ کمزور تو کیا ہے مگر اس کے باوجود ایران عراق کے اندر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتا رہے گا۔

XS
SM
MD
LG