رسائی کے لنکس

دن کا دورانیہ بڑھنے سے کرۂ ارض پر آکسیجن کی مقدار میں اضافہ ہوا: تحقیق


تجربات میں دیکھا گیا کہ جیسے جیسے روشنی کا دورانیہ بڑھتا گیا، بیکٹیریا زیادہ مقدار میں آکسیجن پیدا کرنے لگے۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر آکسیجن کے بڑھنے کی وجہ اربوں برس پہلے سیارے کی سورج کے گرد گھومنے کی رفتار کم ہونا اور اس کے سبب دن کی طوالت میں اضافہ ہے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی) کے مطابق پیر کے روز چھپنے والی ایک نئی تحقیق میں یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ جیسے جیسے زمین پر دن کی طوالت میں اضافہ ہوا، اسی رفتار سے کرہ ارض پر پائے جانے والے ایک عجیب و غریب بیکٹیریا نے، جسے ’کیانو بیکٹیریا‘ کہا جاتا ہے، پہلے سے زیادہ مقدار میں آکسیجن پیدا کرنا شروع کر دی، جس سے زمین پر زندگی کی شروعات ہوئی۔

سائنس دانوں نے شمالی امریکہ کی جھیل ہیورون سے نکالے جانے والے نارنجی رنگ پیدا کرنے والے اس بیکٹیریا پر لیبارٹری میں تجربات کئے۔ ان تجربات میں دیکھا گیا کہ جیسے جیسے روشنی کا دورانیہ بڑھایا گیا، یہ بیکٹیریا زیادہ تعداد میں آکسیجن پیدا کرنے لگا۔

اے پی کے مطابق، سائنس کی دنیا میں آج تک ایک بڑا معمہ یہ ہے کہ بہت ہی قلیل مقدار میں آکسیجن والے سیارے سے بدل کر زمین آج سانس لینے کے قابل آب و ہوا والا سیارہ کیسے بنی؟

سائنس دان ایک طویل عرصے سے آکسیجن پیدا کرنے والے اس بیکٹیریا کو زمین پر آکسیجن پیدا کرنے کا سبب سمجھتے تھے۔ لیکن انہیں یہ معلوم نہیں تھا کہ آخر اتنی بڑی مقدار میں آکسیجن موجود ہونے کی وجہ کیا ہے۔

'نیچر جیو سائنس' نامی رسالے میں پیر کے روز چھپنے والی اس تحقیق میں یہ نظریہ پیش کیا گیا ہے کہ زمین کا دن اربوں برس میں چھ گھنٹوں سے بڑھ کر 24 گھنٹے تک پہنچ گیا،جس کے نتجے میں آکسیجن پیدا کرنے والے اس بیکٹیریا نے سیارے کی آب و ہوا کو سانس لینے کے قابل بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔

آج سے دو ارب 40 کروڑ برس پہلے زمین پر آکسیجن کی بہت قلیل مقدار موجود تھی، جس کی وجہ سے یہاں چرند پرند کا زندہ رہنا ممکن نہیں تھا۔ لیکن بہت سے خوردبینی جرثومے زمین پر رہتے تھے، جو کاربن ڈائی آکسائڈ سے سانس لیتے تھے۔ ’کیانو بیکٹیریا‘ زمین پر ضیائی تالیف یا فوٹو سینتھسیز کا ابتدائی نمونہ ہے، جو کاربن ڈائی آکسائڈ اندر کھینچ کر آکسیجن باہر نکالتا ہے۔

تحقیق کے مطابق اگرچہ ابتدا میں زیادہ فرق نہیں پڑا لیکن اگلے چالیس کروڑ برسوں میں آکسیجن کی فضا میں مقدار، آج کی مقدار کے دسویں حصے کے برابر تک پہنچ چکی تھی۔ میکس پلانک یونی ورسٹی آف جرمنی کی جوڈتھ کلاٹ، جو اس تحقیق کی مصنفہ بھی ہیں، کے مطابق یہ ایک بہت بڑی جست تھی۔

انہوں نے کہا کہ آکسیجن کا اتنی بڑی تعداد میں بڑھنے کی وجہ سے زمین پر نباتات اور جانوروں کے ارتقا میں مدد ملی۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف مشی گن میں بحری جغرافیہ کے ماہر برائین آربک مدوجذر کے زمین پر اثرات اور ان کی وجہ سے زمین کی سورج کا چکر لگانے کی رفتار کے کم ہونے پر تحقیق کرتے ہیں۔ ان کے مطابق جب انہوں نے ایک ساتھی سائنس دان کی جانب سے زمین پر آکسیجن کے بڑھنے پر ایک لیکچر سنا تو انہیں اس اتفاق پر اچنبھا محسوس ہوا کہ اسی دوران سیارے کی رفتار بھی کم ہوتی گئی تھی۔

مشی گن اور جرمن محققین نے دو ارب 40 کروڑ برس پرانے بیکٹیریا سے مشابہ بیکٹیریا پر اس کی آزمائش کی اور اسے 26 گھنٹے تک مسلسل روشنی میں رکھا۔ نتائج سے معلوم ہوا کہ مسلسل روشنی کے دوران اس بیکٹیریا نے زیادہ مقدار میں آکسیجن پیدا کی۔

اے پی کے مطابق اس تحقیق کے مصنفین اور دوسرے سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ زمین پر آکسیجن کے بڑھنے کی بہت سی وجوہات میں سے یہ ایک ممکنہ وجہ ہو سکتی ہے۔

امریکہ کی یونیورسٹی آف کیلیفورنیا کے بائیو جیو کیمسٹری کے پروفیسر ٹم لیونز نے، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، اے پی سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ اس نظریے کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے لیے زمین پر موجود بیکٹیریا یا سمندروں میں بڑے پیمانے پر نباتاتی تبدیلیوں کی ضرورت نہیں ہے۔

[اس رپورٹ کے لیے ایسوسی ایٹڈ پریس سے مواد لیا گیا۔]

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG