رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان میں ٹک ٹاک ایک بار پھر بند


ٹک ٹاک پر پاکستان میں چوتھی بار پابندی عائد کی گئی ہے۔

پاکستان میں چین کی معروف ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو ایک بار پھر بند کر دیا گیا ہے۔

پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی ( پی ٹی اے) نے بدھ کو کہا ہے کہ پریوینشن آف الیکٹرانک کرائمز ایکٹ 2016 کی متعلقہ شقوں کے تحت ملک میں ٹک ٹاک ایپلی کیشن اور اس کی ویب سائٹ تک رسائی بند کی جا رہی ہے۔

ٹوئٹر پر جاری بیان میں پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پلیٹ فارم پر نامناسب مواد کی مسلسل موجودگی اور ٹک ٹاک کی جانب سے ایسے مواد کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی کے باعث یہ کارروائی کی گئی ہے۔

ویڈیو مواد کی وجہ سے شہرت رکھنے والی ایپلی کیشن ٹک ٹاک پر پاکستان میں اس سے قبل بھی تین بار پابندی عائد ہو چکی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں بھی سندھ ہائی کورٹ نے ٹک ٹاک پر پابندی عائد کی تھی۔

سندھ ہائی کورٹ میں دائر درخواست میں مؤقف اختیار کیا گیا تھا کہ ٹک ٹاک ایپلی کیشن پر ایسی ویڈیوز چلائی جا رہی ہیں جن سے نوجوان نسل پر گہرے منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ فحاشی پر مبنی ایسے مواد کو جاری کیا جاتا ہے جو ملکی ثقافت اور مذہبی اصولوں کے خلاف ہیں۔

سندھ ہائی کورٹ نے مذکورہ درخواست پر ٹک ٹاک پر عائد کی گئی پابندی کا حکم نامہ دو روز بعد واپس لے لیا تھا البتہ عدالت نے ہدایت کی تھی کہ ٹک ٹاک صارفین کے قابلِ اعتراض مواد سے متعلق کی گئی شکایات کا ازالہ کرے۔

رواں ماہ ٹک ٹاک نے اپنی سہ ماہی ٹرانسپیرنسی رپورٹ جاری کی تھی جس میں بتایا گیا تھا کہ پاکستان میں ٹک ٹاک نے اپنے پلیٹ فارم سے 64 لاکھ 96 ہزار ویڈیوز ہٹائی ہیں۔ جب کہ امریکہ میں ہٹائی جانے والی ویڈیوز کی تعداد 85 لاکھ تھی۔

ٹک ٹاک کے مطابق پاکستان امریکہ کے بعد دوسری بڑی مارکیٹ ہے جہاں سب سے زیادہ ویڈیوز ہٹائی جا چکی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG