رسائی کے لنکس

logo-print

امریکہ نے ٹی ٹی پی کے سربراہ سمیت متعدد افراد کو عالمی دہشت گرد قرار دے دیا


واشنگٹں ڈی سی میں امریکہ کے محکمہ خزانہ کی عمارت۔ (فائل فوٹو)

امریکہ نے تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ سمیت مختلف دہشت گردوں اور ان کے مددگاروں پر نئی پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے۔ جن میں فلسطینیوں کی مزاحمتی تنظیم 'حماس' اور ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے منسلک افراد شامل ہیں۔

امریکہ نے یہ پابندیاں گیارہ ستمبر کے حملوں کی 18ویں برسی کے موقع پر صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایک حالیہ ایگزیکٹو آرڈر کے تحت لگائی ہیں۔

امریکہ کے محکمہ خزانہ کی طرف سے منگل جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ اِن پابندیوں کا ہدف حماس، القاعدہ، داعش اور ایران کے سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی سے منسلک 15 افراد اور عناصر ہیں۔

تحریک طالبان پاکستان کے سربراہ مفتی نور ولی محسود کو بھی عالمی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

یاد رہے کہ نور ولی محسود کی قیادت میں تحریک طالبان پاکستان نے پاکستان بھر میں متعدد ہلاکت خیز حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا دعویٰ کیا تھا۔

مفتی نور ولی محمد کون ہیں؟

جون 2018 میں سرحد پار افغانستان کے صوبہ کنڑ میں امریکی ڈرون حملے میں ملا فضل اللہ کی ہلاکت کے بعد جنوبی وزیرستان کے علاقے تیارزہ سے تعلق رکھنے والے مفتی نور ولی محسود کالعدم تحریک طالبان کے سربراہ بن گئے۔

نور ولی محسود تحریک طالبان پاکستان کے بانی اراکین میں سے ہیں اور ان کا شمار بیت اللہ محسود اور مفتی ولی الرحمان کے قریبی ساتھیوں میں ہوتا ہے۔

نور ولی محسود اور حکیم اللہ محسود کے درمیان بعض معاملات پر اختلافات تھے۔ نور ولی محسود حکیم اللہ محسود کے دور میں شروع ہونے والی بھتہ خوری کے سخت مخالف سمجھے جاتے تھے۔ کالعدم تنظیم کے مبینہ طور پر غیر اسلامی اقدامات کا تذکرہ انہوں نے ایک کتاب میں بھی کیا تھا۔

تحریک طالبان پاکستان نے ملک بھر میں اپنے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں افراد کو ہلاک اور زخمی کیا تھا۔ (فائل فوٹو)
تحریک طالبان پاکستان نے ملک بھر میں اپنے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں افراد کو ہلاک اور زخمی کیا تھا۔ (فائل فوٹو)

امریکہ کا کہنا ہے کہ پاکستانی طالبان کا سربراہ امریکہ اور افغانستان کی فورسز کے خلاف لڑنے پر یقین رکھتا ہے۔

گزشتہ کئی برسوں کے دوران تحریک طالبان پاکستان نے ملک بھر میں اپنے دہشت گرد حملوں میں ہزاروں افراد کو ہلاک اور زخمی کیا تھا۔

امریکی وزیر خزانہ اسٹیو منوچن نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ نائن الیون حملوں کے بعد سے امریکی حکومت نے اپنی انسداد دہشت گردی سے متعلق کوششوں کو مستقلاً ابھرتے ہوئے خطرات پر مرکوز کر دیا ہے۔

وزیر خزانہ کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے انسداد دہشت گردی کے ایگزیکٹو آرڈر میں ان کے محکمے کو حاصل اختیارات کو تقویت بخشی ہے جس سے دہشت گرد گروہوں کے مالیات اور ان کے رہنماؤں کو ہدف بنا سکتے ہیں۔

جن افراد پر پابندیاں لگی ہیں ان میں ترکی میں مقیم حماس کے مالی امور کے سربراہ ظاہر جبرین اور القدس فورس کے چیف سعید آزادی بھی شامل ہیں۔

حکم نامے کی زد میں آنے والوں کی امریکہ میں موجود جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں۔ (فائل فوٹو)
حکم نامے کی زد میں آنے والوں کی امریکہ میں موجود جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں۔ (فائل فوٹو)

ان کے علاوہ برازیل میں مقیم القاعدہ کا رکن اور ملاوی کا باشندہ بھی شامل ہے جو داعش کی افغانستان میں شاخ کے لیے بھرتیاں کرتا ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ فلپائن میں مقیم داعش سے منسلک ایک کارندہ بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل ہے۔

مذکور افراد کے ساتھ ساتھ کئی ایکس چینج ہاؤسز اور جنوبی ترکی میں ایک جیولری کمپنی کو بھی پابندیوں کی فہرست میں شامل کیا گیا ہے۔

پابندیوں کا مطلب یہ ہے کہ اس حکم نامے کی زد میں آنے والوں کی امریکہ میں موجود جائیدادیں ضبط کی جا سکتی ہیں اور امریکیوں کو عمومی طور پر ان کے ساتھ کاروبار کرنے کی ممانعت ہو گی۔

بیت اللہ محسود اور مفتی ولی الرحمان کی طرح مفتی نور ولی محسود کا تعلق بھی دیو بند مکتبہ فکر سے ہے۔ جب کہ حکیم اللہ محسود اور ملا فضل اللہ سلفی مکتبہ فکر پر یقین رکھتے تھے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG