رسائی کے لنکس

نئے سال کے موقع پر پاکستان میں 14,000 سے زائد بچوں کی پیدائش


بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف نے اطلاع دی ہے کہ نئے سال 2018 کے پہلے دن پاکستان میں 14,910بچے پیدا ہوئے ہیں۔

اس سلسلے میں جاری کردہ ایک رپورٹ کے مطابق یہ بچے دنیا بھر میں یکم جنوری کو پیدا ہونے والے 386,000 بچوں میں شامل ہیں۔ ان میں سے نصف بچے صرف 9 ممالک میں پیدا ہوئے ۔ بھارت میں سب سے زیادہ یعنی 69,070 بچوں کی پیدائش ہوئی جبکہ چین میں 44,760 ، نائجیریا میں 20, 210 ، پاکستان میں 14,910 ، انڈونیشیا میں 13,370 ، امریکہ میں 11,280 ، کانگو میں 9,400 ، ایتھیوپیا میں 9,020 اور بنگلہ دیش میں 8,370 بچے پیدا ہوئے۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ اگرچہ ان میں سے اکثر بچے پیدائش کے بعد اپنی زندگی برقرار رکھ پائیں گے، کچھ بچے پہلے دن کے بعد زندہ نہیں رہ سکیں گے۔

یکم جنوری سے قبل یونیسف نے انکشاف کیا تھا کہ نئے سال کا پہلا بچہ کیری باتی کرسمس آئی لینڈ میں پیدا ہو گا جبکہ یکم جنوری کا آخری بچہ امریکہ میں آنکھ کھولے گا۔

یونسیف کے شعبہ صحت کے ڈائریکٹر سٹیفن پیٹرسن کا کہنا ہے کہ یونیسف کا اس سال کا موٹو یہ ہے کہ پیدا ہونے والے ہر بچے کی زندگی ایک گھنٹہ، ایک دن اور پھر ایک ماہ سے زائد بڑھانے میں مدد فراہم کرے۔ اُنہوں نے کہا کہ یونیسف مختلف ملکوں کی حکومتوں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر لاکھوں بچوں کی زندگیاں بچانے میں مدد کرے گا۔

اقوام متحدہ کے اس ادارے کا کہنا ہے کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران بچوں کی زندگیاں بچانے کی شرح میں خاصی پیش رفت ہوئی ہے اور اعداد و شمار کے مطابق 2016 میں اپنی عمر کے پہلے پانچ سالوں کے دوران زندگی کی بازی ہارنے والے بچوں کی تعداد کم ہو 56 لاکھ رہ گئی تھی۔ تاہم نوزائدہ بچوں کی زندگیاں بچانے میں ابھی خاطر خواہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔ادارے کے مطابق ان مرنے والے بچوں کا 46 فیصد پہلے ماہ کے اندر ہی موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔

یونیسف کا کہنا ہے کہ وہ آئیندہ ماہ عالمی سطح پر ’ہر بچہ زندہ‘ کے نام سے ایک مہم کا آغاز کر رہا ہے جس کے دوران ہر ماں اور بچے کو بہتر طبی سہولتیں فراہم کی جائیں گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG