رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک، اسلامی سینٹر کی تعمیر کے مخالفین اور حامیوں کی ریلیاں


نیو یارک میں گیارہ ستمبر 2001کے دہشت گرد حملوں کے مقام کے قریب اسلامی کلچرل سینٹر کی تعمیر کے مخالفین اور حامی افراد نے اتوار کے روز اپنے اپنے موقف کی تائید کے لئے ریلیاں نکالیں۔ ایک طرف احتجاجی ریلی تھی جس کے شرکا ء اسلامی سینٹر کی تعمیر کے منصوبے کے مخالف تھے جبکہ دوسری جانب منصوبے کے حامی افرادکی ریلی تھی۔ اس موقع پر ریلی کے ایک منتظم نے مجوزہ سینٹر کی تعمیر کے مقاصد بھی بیان کئے۔
ریلییوں کے انعقاد کو ٹی وی پر بھی کوریج دی گئی اور دونوں کو اپنے اپنے نظریات بیان کر نے کا موقع دیا گیا۔ریلی کا اعلان کچھ ہی روز پہلے کردیا گیا تھا جس کی وجہ سے خاصی بھیڑ اکھٹا ہوگئی تھی۔
اسلامی سینٹرکی مخالفت کرنے والے لوگوں نے منصوبے کی مذمت کی اور اسے نائن الیون کے حادثے میں ہلاک ہوجانے والوں اور ان کے اہل خانہ کی ہتک قرار دیا۔
ریلی میں منصوبے کی مخالفت میں چند بینر بھی آویزاں تھے جن میں شریعہ قانون پر روک لگانے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ شریعہ قانون کے خلاف مظاہرین نے سخت نعرے بازی بھی کی۔
ریلی کے شرکا کا موقف تھا کہ صدر براک اوباما ، نیویارک کے میئر مائیکل بلوم برگ اور دیگر سیاستدانوں کی جانب سے گراوٴنڈ زیرو کے قریب اسلامی کلچرل سینٹرقائم کرنے کے لئے مسلمانوں کے حق کی حمایت امریکی آئین سے انحراف ہوگا۔ واضح رہے کہ گراوٴنڈ زیرو اس مقام سے قریب ہے جہاں کبھی ورلڈ ٹریڈ سینٹر واقع تھا۔
ریلی کی ایک منتظم بیتھ گیلنسکی نے خطاب کے دوران شریعہ قانون سے پید ا ہونے والے خطرے پر زور دیتے ہوئے اپنا موقف بیان کیا ۔ انہوں نے ایسے ممالک کی بھی مثالیں دیں جہاں انتہا پسند لوگوں کے ہاتھوں لوگوں کو سنگسار کردیا جاتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انتہا پسند خواتین کی تعلیم کے خلاف ہیں اور غیر مسلموں کو ہرمعاملے میں پیچھے رکھتے ہیں ۔انہوں نے اپنے خطاب میں اسلامک سینٹر کے روح رواں امام فیصل عبدالروٴف کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔
امام فیصل عبدالروٴف گراوٴنڈ زیرو کے قریب اسلامی سینٹرکی مجوزہ تعمیر اور مسجد کے منصوبہ ساز ہیں ۔ وہ 45 سال پہلے امریکا آبسے تھے۔ ان دنوں وہ مشرق وسطیٰ کے دورے پر ہیں اور انہیں امریکا کے اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے اسپانسر کیا ہے۔ عبدالروٴف نے سابق صدر جارج بش کے دورصدارت میں بھی مسلم دنیا میں امریکا کی ترجمانی کی تھی۔
عبدالروٴف کی اہلیہ ڈیزی خان نے اتوار کے روز اے بی سی ٹیلی ویژن کے ایک پروگرام میں اپنے شوہر کا نکتہ نظر بیان کرتے ہوئے کہا کہ ان کے شوہر کا تجویز کردہ اسلامی سینٹر عیسائیوں اور یہودیوں کے مراکز کی طرح ہی ایک ماڈل ثابت ہوگا اور اس کے دروازے تمام امریکیوں کے لئے کھلے رہیں گے۔ اس میں پانچ سو نشستوں کا ایک آڈیٹوریم اورایک سوئمنگ پول ہوگا۔ یہاں ایتھلیٹک کی سہولیات کے ساتھ ساتھ کھانا پکانے کے لئے تربیت بھی دی جائے گی۔ اس کے علاوہ اسکولز کے لئے بھی اس میں گنجائش رکھی گئی ہے۔ یہاں فورمز اور کانفرنسز بھی منعقد ہوسکیں گی۔انہوں نے بتایا کہ یہ بنیادی طور پر ایک مرکز ہوگا جہاں لوگ ایک دوسرے سے اپنے خیالات کا تبادلہ کرسکیں گے۔
اسی پروگرام میں ربی جوئے لیوٹ کو بھی مدعو کیاگیا تھا جو نیویارک جیوش کمیونٹی سینٹر کی ڈائریکٹر ہیں۔ انہوں نے اسلامی سینٹر کی تعمیر کا خیر مقدم کیا۔
دوسری جانب اسلامی سینٹر کے حامی بھی گراوٴنڈ زیرو مسجد سے دوبلاک دور ایک گلی کے کونے پر اکھٹا تھے ۔ بعض ناقدین کا کہنا تھا کہ ڈیزی خان اور ان کے شوہر کے خفیہ مقاصد ہیں ۔ وہ اس عقیدے کی بات کرتے ہیں جو امریکا کی اقدار سے یکسر مختلف ہیں۔
ڈیزی خان کا کہنا ہے کہ اسلامی مرکز ضرور بننا چاہئے کیوں کہ یہ مفاہمت کی جانب ایک قدم ہے ۔

XS
SM
MD
LG