رسائی کے لنکس

logo-print

نیویارک: لیموزین کا حادثہ اسٹاپ سائن پر نہ رکنے کی وجہ سے ہوا


نیویارک پولیس اہل کار حادثے کے مقام پر شواہد اکھٹے کر رہے ہیں۔ 8 اکتوبر 2018

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کے پاس مناسب لائسنس بھی موجود نہیں تھا اور ایک ماہ قبل یہ لیموزین کار سیفٹی انسپکشن میں فیل بھی ہو چکی تھی۔

امریکی ریاست نیو یارک کے شہر البنی میں ایک لیموزین حادثے میں بیس افراد کی ہلاکت کی تحقیقات جاری ہیں۔ ہلاک ہونے افراد کی شناخت ہو چکی ہے۔ جن کی عمریں 24 سے 34 سال کے درمیان ہیں، جو سالگرہ کی تقریب میں شرکت کے لیے گھر سے نکلے تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق گاڑی ایک سٹاپ سائن پر رک نہ سکی اور سڑک کی دوسری طرف کھڑی ہوئی ایک ایس یو وی سے ٹکرا گئی۔

اس وقت تحقیقات کا دائرہ گاڑی کے ڈرائیور، 53 سالہ سکاٹ لیسی نیشیا اور لیموزین کرائے پر دینے والی کمپنی ’ پریسٹیج لیموزین سروس‘ اور اس کے ملازمین کی طرف ہے۔ تازہ ترین معلومات کے مطابق شاہد حسین کے بیٹے نعمان حسین کو نیو یارک میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔

وائس آف امریکہ نے شاہد حسین اور ان کی لیموزین کمپنی’ پریسٹیج لیموزین‘ کے وکیل لی کنڈلون سے ٹیلی فون پر بات کی۔

کمپنی کے مالک شاہد حسین کے بارے میں بات کرتے ہوئے لی کنڈلون کا کہنا تھا کہ شاہد حسین اس حادثے پر افسردہ ہیں اور متاثرہ خاندانوں سے ہمدردی رکھتے ہیں۔

لی کا کہنا تھا کہ شاہد پاکستان جاتے رہتے ہیں اور اس وقت بھی پاکستان میں ہیں۔لیکن وہ تفتیش میں مکمل تعاون کررہے ہیں۔ اور اگر ضرورت پڑی تو وہ واپس آ سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ شاہد حسین اس وقت تفتیشی اداروں کے علاوہ کسی سے بھی بات نہیں کر رہے اور اس کیس کے حوالے سے کسی بھی قسم کی معلومات کے لیے ان کے وکیل کے طور پر وہ موجود رہیں گے۔

لی کنڈلون کاکہنا تھا کہ اس حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی اور ڈرائیور سکاٹ لیسی نیشیا کے متعلق کسی بھی قسم کی دستاویزات کو عوام کے سامنے رکھنے کا فیصلہ متعلقہ اداروں سے اجازت ملنے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق گاڑی کے ڈرائیور کے پاس مناسب لائسنس بھی موجود نہیں تھا اور ایک ماہ قبل یہ لیموزین کار سیفٹی انسپکشن میں فیل بھی ہو چکی تھی۔

ڈرائیور سکاٹ لیسی نیشیا کے لائسنس کے بارے لی کنڈلون کا کہنا تھا کہ پریسٹیج کمپنی اور وہ خود اس وقت حادثے کی اندرونی طور پر تحقیقات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ہم جانچ رہے ہیں کہ سکاٹ نے ملازمت اختیار کرتے وقت لائسنس اور دیگر کس قسم کی دستاویزات مہیا کی تھیں۔

پریسٹیج لیموزین سروس ایک سمال بزنس کے طو ر پر رجسٹر ہے اس لیے وہ تمام دستاویزات کو دیکھنے کے بعد اس بارے میں کچھ کہہ سکیں گے۔ جبکہ گاڑی کی حفاظتی انسپکشن کے بارے میں انہوں نے بتایا کہ گاڑی کی انسپکشن کی گئی تھی۔ اور یہ باتیں کہ گاڑی میں کوئی خرابی تھی محض افوائیں ہی ہیں۔

ان کے مطابق لیموزین کمپنی نے خود سے اپنی تمام گاڑیاں فی الحال سڑکوں سے ہٹا لی ہیں اور تحقیقات مکمل ہونے تک وہ پولیس اور تحقیقاتی اداروں کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے۔

واضح رہے کہ حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کی کمپنی کے مالک شاہد حسین کا تعلق پاکستان سے ہے اور وہ اس وقت بھی پاکستان میں ہیں۔ شاہد کے ماضی کے بارے میں بتایا جاتا ہے کہ وہ ڈپارٹمنٹ آف موٹر وہیکل میں رشوت کے ذریعے غیر ملکی افراد کو غیر قانونی طور پر ڈرائیونگ لائسنس مہیا کر رہے تھے۔ اور فراڈ کے الزامات اور پاکستان میں ملک بدر کیے جانے سے بچنے کے لئے انہوں نےایف بی آئی کے مخبر کے طور پر کام کرنے کی حامی بھری تھی۔ جس کے بعد نیو یار ک میں دو دہشت گرد حملوں کو ناکام بنانے میں ان کا نام بھی سامنے آ یا۔

شاہد حسین کے ایف بی آئی کے لیے کام کرنے سے متعلق ان کے وکیل لی کنڈلون نے گفتگو سے گریز کیا اور کہا کہ فی الحال ان کی توجہ حادثے کی وجوہات جاننے اور تفتیش میں مکمل تعاون کرنے پر ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG