رسائی کے لنکس

نیوزی لینڈ میں دنیا کے سب سے بڑے پرندے کی دریافت


نیوزی لینڈ میں دریافت ہونے والے دیو قامت پرندے کا خیالی خاکہ ۔ 12 دسمبر 2017

ماہرین کا خیال کہ ابتدا میں اس نسل کے پرندوں کا سائز چھوٹا تھا لیکن چونکہ یہ سمندر کے کنارے رہتے تھے ۔ انہیں اڑنے کے بغیر ہی خوراک مل جاتی تھی۔ چنانچہ کاہلی اور سستی کے باعث ان کا وزن اور حجم بڑھنا شروع ہوگیا اور پھر آنے والی نسل دیو قامت بن گئی۔

نیوزی لینڈ میں سائنس دانوں کو زمانہ قبل از تاریخ کے ایک دیو قامت پرندے کی باقیات ملی ہیں جن کے متعلق ان کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ اپنی ساخت میں آج کے پینگوئن جیسا تھا لیکن قدو قامت اور وزن میں اس سے کئی گنا بڑا تھا۔

منگل کے روز جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ دیو قامت پرندے کا قد پانچ فٹ پانچ انچ اور وزن 220 پونڈ کے لگ بھگ تھا۔

سائنس دانوں کا کہنا ہے کہ یہ پرندہ ، جو لاکھوں برس پہلے فنا ہو گیا تھا، دنیا کا سب سے بڑا پرندہ تھا اور وہ اپنی شکل و شبہات کے لحاظ سے آج کے دور کے پینگوئن سے کافی ملتا جلتا تھا۔ اسے پینگوئن کی ابتدائی صورت بھی کہا جا سکتا ہے۔

دیو قامت پرندے کی خیالی تصویر
دیو قامت پرندے کی خیالی تصویر

سائنسی جریدے نیچر کمیونیکیشنز میں شائع ہونے والی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ پرندہ ساڑھے پانچ سے چھ کروڑ سال پہلے اپنا وجود رکھتا تھا۔ یہ وہ زمانه تھا جب زمین، ارضاتی تبدیلیوں کے تیسرے دور سے گذر رہی تھی۔

علوم باقیات کے جرمنی کے ماہر اور اس تحقیق کے شریک مصنف جیرالڈ میئر کا کہنا ہے کہ حیران کن اور اہم با ت یہ ہے کہ ابتدائی دور میں پرندے کا سائز اتنا بڑا ہوتا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ پینگوئن سے مشابہت رکھنے والے اس پرندے کے پروں اور ٹانگوں کی ہڈیوں کی باقيات کا معائنہ کرنے کے بعد ہمیں فوراً ہی یہ إحساس ہوا کہ ماضی کا ایک ایسا پرندہ ہمارے سامنے ہے جس کے بارے میں اس سے پہلے کوئی نہیں جانتا تھا۔

میئر اور اس کی ٹیم کو اس دیوقامت پرندے کی باقیات نیوزی لینڈ کے جنوبی علاقے اوٹاگو سے ملی تھیں۔ جس کے متعلق سائنس دانوں کا خیال ہے کہ ماضی قدیم میں یہ علاقہ دیو قامت پرندوں سے بھرا ہوا تھا۔

اس دریافت سے پہلے بھی ماہرین کی ٹیم کو اس جزیرے پر بڑے سائز کے دو پرندوں کی باقيات ملی تھیں لیکن وہ پرندے حجم میں اس نئی دریافت سے چھوٹے تھے۔

ماہرین کا خیال کہ ابتدا میں اس نسل کے پرندوں کا سائز چھوٹا تھا لیکن چونکہ یہ سمندر کے کنارے رہتے تھے ۔ انہیں اڑنے کے بغیر ہی خوراک مل جاتی تھی۔ چنانچہ کاہلی اور سستی کے باعث ان کا وزن اور حجم بڑھنا شروع ہوگیا اور پھر آنے والی نسل دیو قامت بن گئی۔

میئر کا کہنا ہے کہ دیو قامت پرندوں کی یہ نسل بڑے سائز کے گوشت خور آبی جانوروں، مثلاً سیل اور دانتوں والی وہیل کے ظہور میں آنے کے بعد ان کی خوراک بن گئی اور اس کا نام ونشان تک مٹ گیا۔

نیوزی لینڈ کا جنوبی جزیرہ قبل از تاریخ دور میں ڈینوسار کی نسل کے ایک جانور موا کا مسکن بھی رہا ہے۔ اس جانور کا قد چار میٹر اور وزن پانچ سو پاؤنڈ سے زیادہ تھا۔ لیکن اس جزیرے پر آباد ماؤری قبائل کے شکار کے شکار کے شوق نے اٹھارویں صدی تک موا کی نسل ہی کا دنیا سے خاتمہ کر دیا ۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG