رسائی کے لنکس

logo-print

کرائسٹ چرچ حملوں کی تحقیقات رائل کمیشن سے کروانے کا حکم


نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرین (فائل فوٹو)

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے کرائسٹ چرچ کی مساجد پر ہونے والے حملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیقات کے لئے رائل کمیشن بنانے کا اعلان کیا ہے۔

ایک ہفتے قبل کرائسٹ چرچ کی دو مختلف مساجد پر حملے کے نتیجے میں 50 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن کا کہنا ہے کہ رائل کمیشن سنگین ترین واقعے کی تحقیقات کے لیے تشکیل دیا جاتا ہے اور کرائسٹ چرچ حملہ بھی سنگین ترین واقعات میں سے ایک ہے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمیشن نا صرف واقعے کی وجوہات کا پتہ لگائے گا بلکہ اس بات پر بھی روز دے گا کہ مستقبل میں ایسے واقعات سے کس طرح بچا جا سکتا ہے۔

پیر کے روز کابینہ کے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے کہا کہ لوگ پوچھ رہے ہیں کہ کرائسٹ چرچ حملہ کیسے ہوا؟

انھوں نے کہا کہ حملے میں سوشل میڈیا اور ایجنسیوں کے کردار کے حوالے سے بھی پوچھا جا رہا ہے۔ کمیشن واقعے کی آزادانہ تحقیقات کرے گا اور اس دوران ملزم سے بھی پوچھ گچھ کی جائے گی۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ کمیشن نیم خودکار ہتھیاروں کی نیوزی لینڈ میں موجودگی، میڈیا کے کردار اور سانحے سے پہلے پولیس اور تحقیقاتی اداروں کی جانب سے انجام دی جانے والے ذمے داریوں کا بھی بغور جائزہ لے گا۔

وزیر اعظم نے اس بارے میں کچھ نہیں بتایا کہ تحقیقات کب تک پوری ہوں گی تاہم ان کا کہنا تھا کہ اس حوالے سے عوام جو کچھ جاننا چاہتی ہے انہیں اس کا جواب دے کر مطمئن کیا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ ان کاموں کی تکمیل کے لئے ٹائم فریم دینے کی ضرورت نہیں، تاہم انکوائری درست طریقے سے کرنا ہو گی۔

گزشتہ ہفتے وزیر اعظم جسینڈا آرڈرن نے واقعے کے فوری بعد تمام نیم خودکار رائفلز پر پابندی کا اعلان کیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ہتھیاروں پر کنٹرول کرنے سے متعلق قانون سازی پر کام جاری رہے گا جس میں تمام ممکنہ اقدامات کئے جائیں گے اور اس میں ہتھیاروں کا لائسنس اور ہتھیاروں کی رجسٹریشن کا کام بھی شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG