رسائی کے لنکس

logo-print

نیوزی لینڈ حملہ آور کو شناخت بھی نہیں دے گا: وزیر اعظم آرڈرن


نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈہ آرڈرن مسلمان برادری کے لوگوں سے یکجہتی کا اظہار کر ہی ہیں

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے کہا ہے کہ جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں قتل عام کا واقعہ ملکی تاریخ کا تاریک ترین دن تھا۔ اُنہوں نے کہا کہ وہ شخص اس بھیانک اقدام سے شہرت حاصل کرنا چاہتا تھا۔ تاہم وہ کبھی بھی اُس کا نام استعمال کر کے اسے شناخت نہیں دیں گی اور وہ بے نام ہی رہے گا۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے پارلیمان میں خطاب کے دوران کہا کہ اس مسجد میں ایک 71 سالہ مسلمان عبادت گزار محمد داؤد نبی نے دورازہ کھول کر ’اُس‘ شخص کو کہا ’’ہیلو برادر‘‘۔ اسے یہ قطعاً معلوم نہیں تھا کہ وہ جو دروازہ کھول رہا ہے اُس پر موت دستک دے رہی ہے۔

وزیر اعظم آرڈرن نے کہا کہ یہ شخص ایک ایسے مذہب سے تعلق رکھتا تھا جو سب کو خوش آمدید کہتا ہے اور کھلے پن اور دوسروں کا خیال رکھنے کا درس دیتا ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ وہ سوچ بھی نہیں سکتیں کہ اُنہیں کسی روز پوری قوم کی طرف سے اس انداز میں شدید دکھ کا اظہار کرنا پڑے گا۔

فائرنگ کرنے والا یہ شخص اب پولیس کی حراست میں ہے۔ اسے 5 اپریل کو دوبارہ عدالت میں پیش کیا جائے گا اور اُس وقت اُس پر مزید الزامات پر مبنی فرد جرم عائد کر دی جائے گی۔

وزیر اعظم آرڈرن کا کہنا تھا کہ ہلاک ہونے والے مسلمانوں کے افراد خانہ کو ہر صورت انصاف ملے گا۔ اُنہوں نے کہا کہ قتل عام کرنے والا یہ شخص اس حرکت سے اپنا نام پیدا کرنا چاہتا تھا لیکن نیوزی لینڈ اسے کچھ نہیں دے گا، شناخت بھی نہیں۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم نے اپنی تقریر ’السلام علیکم‘ کے الفاظ پر ختم کی جس کے معنی ہیں ’تم پر خدا کی سلامتی ہو۔‘

جمعہ کے روز نیوزی لینڈ کی دو مساجد میں قتل ہونے والے 50 افراد کا تعلق پاکستان، بنگلہ دیش، بھارت، ترکی، کویت، صومالیہ اور دیگر ممالک سے تھا۔ مرنے والوں کی کوئی فہرست ابھی جاری نہیں کی گئی ہے۔ تاہم مقامی پولیس کا کہنا ہے کہ متوفی افراد کی شناخت مکمل ہونے میں تاخیر سے لوگوں کو جو مایوسی ہو رہی ہے وہ اس سے مکمل طور پر آگاہ ہے۔ 12 افراد کی شناخت ہو چکی ہے اور ان میں سے 6 کی نعشیں ورثا کے سپرد کر دی گئی ہیں۔

میتوں کو مقامی طور پر غسل دیا جا چکا ہے اور اُن کی تدفین کی تیاری کی جا رہی ہے۔ اس مقصد کے لئے بیرونی ممالک سے امدادی کارکن نیوزی لینڈ پہنچ چکے ہیں۔

مقامی اہل کاروں نے تصدیق کی ہے کہ مرنے والوں کے علاوہ 50 افراد زخمی حالت میں ہیں جن میں سے 9 کی حالت نازک ہے۔ ان تمام زخمیوں کی کرائسٹ چرچ اسپتال میں دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔

وزیر اعظم آرڈرن کا کہنا ہے کہ مسلح شخص نے اس المناک واقعے سے صرف 9 منٹ پہلے 30 لوگوں کو ایک ’مینی فیسٹو‘ یعنی نصب العین ای میل کیا۔ ان لوگوں میں خود اُن کا دفتر بھی شامل ہے۔ اس مینی فیسٹو میں اُس شخص نے اپنے بارے میں یہ لکھا، ’’میں ایک عام سفید فام شخص ہوں۔ عمر 28 سال ہے۔‘‘

پولیس کا کہنا ہے کہ مسلح شخص نے مسجد میں فائرنگ کے لئے نیم خودکار AR-15 گن استعمال کی۔ نیوزی لینڈ میں گن فروخت کرنے والے ایک سٹور کے مالک نے بتایا ہے کہ اس شخص نے دسمبر 2017 سے مارچ 2018 کے درمیان اس سٹور سے چار گنیں آن لائن خریدی تھیں۔ تاہم اُس نے وہ طاقتور ہتھیار اُس کے سٹور سے نہیں خریدے جو فائرنگ کے لئے استعمال کئے گئے۔

نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم آرڈرن کا کہنا ہے کہ وہ نیم خود کار ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی کے حق میں ہیں اور ملکی پارلیمان میں گن کنٹرول سے متعلق نئے قوانین تیار کر لئے گئے ہیں جن کا اعلان آئندہ پیر کے روز کر دیا جائے گا۔

اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ میں کئی لوگوں نے ہتھیاروں پر پابندی کی حمایت کرتے ہوئے رضاکارانہ طور پر اپنے ہتھیار واپس کر دیے ہیں۔ تاہم بہت سے لوگوں نے پابندی لگنے سے پہلے نئے ہتھیار خریدنا شروع کر دیے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG