رسائی کے لنکس

logo-print

انگلینڈ، نیوزی لینڈ کو ہرا کر کرکٹ کا نیا عالمی چیمپئن بن گیا


ورلڈ کپ کی فاتح ٹیم، انگلینڈ

انگلینڈ، نیوزی لینڈ کو ورلڈ کپ کرکٹ 2019 کا فائنل ہرا کر نیا عالمی چیمپئن بن گیا۔ انگلینڈ نے 242 رنز کا ہدف حاصل کرنا تھا لیکن اس کی پوری ٹیم 241 رنز بنا کر آؤٹ ہو گئی۔ نیوزی لینڈ نے بھی 241 رنز بنائے تھے۔ لہذا میچ کا فیصلہ سپر اوور کے ذریعے ہوا۔

دونوں ٹیموں نے ایک، ایک اوور کھیلا جس میں انگلینڈ نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 15 رنز بنائے جس میں سٹوکس کے 8 اور بٹلر کے 7 رنز شامل تھے۔

لہذا میچ جیتنے کے لیے نیوزی لینڈ کو 16 رنز بنانا تھے۔ اس نے 15 رنز بنائے مگر آخری بال پر گپٹل رن آؤٹ ہو گئے اور یوں انگلینڈ کو فاتح قرار دے دیا گیا۔

نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے درمیان ورلڈ کپ 2019 کا فائنل اتوار کو لارڈز کے تاریخی میدان میں کھیلا گیا۔ نیوزی لینڈ نے ٹاس جیت کر پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے 241 رنز بنائےتھے جبکہ انگلینڈ بھی 241 ر نز بنا سکا۔

دونوں ٹیموں کے درمیان آخری اوورز میں اعصاب شکن مقابلہ ہوا۔ انگلینڈ کو 48 ویں اوور کے بعد 12 بالوں پر 24 رنز بنانا تھے جبکہ بعد میں بالیں اور رنز بھی گھٹتے رہے۔ سپر اوور کے وقت بھی میچ پر سنسنی خیری چھائی رہی۔

بین سٹوکس کو پلیئر آف دا میچ قرار دیا گیا۔

انگلینڈ کی اننگز

انگلینڈ کی جانب سے اننگز کا آغاز جیسن رائے اور جونی بیرسٹو نے کیا جبکہ نیوزی لینڈ کی جانب سے پہلا اوور ٹرینٹ بولٹ نے کرایا۔

نیوزی لینڈ کو پہلی کامیابی کے لئے زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا اور انگلینڈ کے اوپننگ بلے باز جیسن رائے 17 رنز بنا کر ہینری کا شکار ہو گئے۔ لیتھم نے ان کا کیچ لیا۔

جوئے روٹس ون ڈاؤن آئے۔ انہوں نے جونی بیرسٹو کے ساتھ ملکر بیٹنگ کی جس کے نتیجے میں انگلینڈ تیزی سے 50 رنز کا ہندسہ عبور کر گیا لیکن گرینڈ ہومز نے انہیں زیادہ دیر کریز پر نہ ٹکنے دیا اور 7 رنز پر کیچ کرا دیا۔

بیسواں اوور جاری ہی تھا کہ جونی بیرسٹو 36 رنز پر فرگوسن کی بال پر کلین بولڈ ہو گئے۔

86 رنز کے مجموعی اسکور پر مورگن 9 رنز بنا کر نیشام کی بال پر آؤٹ ہوئے۔ انہیں فرگوسن نے کیچ کیا۔ یوں انگلینڈ کی چوتھی وکٹ بھی 100 سے پہے ہی گر گئی۔

نیوزی لینڈ نے آج نہایت خراب فیلڈنگ کی اور فیلڈرز کے ہاتھوں سے کئی کیچ چھوٹ گئے۔ اگر یہ کیچ پکڑ لئے جاتے تو صورتحال مختلف ہوتی۔

سٹوکس اور بٹلر انگلینڈ کے لئے بہت قیمتی بیٹسمین ثابت ہوئے۔ دونوں نے 50، 50 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو مشکل سے نکالنے کی بھرپور کوشش کی۔ دونوں کی پارٹنر شپ 44 ویں اوور تک 126 بالوں پر 102 ہو گئی تھی۔

تاہم اس پارٹنر شپ کو 45 ویں اوور میں فرگوسن نے اپنی بالنگ سے توڑا ۔ بٹلر 59 رنز بناکر آؤٹ ہو گئے جبکہ سٹوکس 51 رنز پر کھیل رہے تھے۔

بٹلر کے بعد چھٹی وکٹ کے طور پر ووکس بیٹنگ کرنے آئے تھے لیکن وہ ابھی صرف 2 ہی رنز بنا پائے تھے کہ فرگوسن ان کی بھی وکٹ لے آڑے۔ ان کی جگہ لیام پلینکٹ نے لی۔

نیوزی لینڈ 241 رنز بناکر آؤٹ

نیوزی لینڈ نے 50 اوور میں 8 وکٹ کے نقصان پر 240 بنائے۔ سینٹنر 5 اور ہینری 4 رنز پر ناٹ آؤٹ رہے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے اننگز کا آغاز مارٹن گپٹل اور نکولس نے کیا۔ اوور کا پہلا چوکا مارٹن نے ووکس کی گیند پر لگایا جبکہ اس اوور میں چھ رنز بنے ۔

5 اوورز تک دونوں بلے بازوں نے تیزی سے اسکور کو آگے بڑھایا۔ لیکن چھٹے اوور میں نیوزی لینڈ کو پہلا نقصان مارٹن گپٹل کے آؤٹ ہونے کی صورت میں برداشت کرنا پڑا۔ وہ 19 رنز پر کھیل رہے تھے کہ کرس ووکس نے انہیں ایل بی ڈبلیو کر دیا۔ ان کی جگہ ولیم سن بیٹنگ کرنے آئے۔

ولیم سن اور نکولس نے اسکور کی رفتار دھیمی رکھی۔ یہاں تک کہ چودہویں اوور تک صرف 50 رنز مکمل ہوئے۔ نکولس ولیم سن کے مقابلے میں تیز رفتاری کے ساتھ اسکور کو آگے بڑھا رہے تھے جبکہ ولیم سن کو کریز پر آئے کافی دیر ہو چکی تھی لیکن ان کے رنز کی تعداد کم تھی۔

ولیم 30 رنز ہی بنا سکے تھے کہ لیام پلینکٹ نے انہیں بٹلر کے ہاتھوں وکٹس کے پیچھے کیچ کرا دیا اور یوں نیوزی لینڈ کو دوسری وکٹ کا نقصان اٹھانا پڑا۔

ولیم سن کی جگہ راس ٹیلر اگلے بیٹسمین کے طور پر کریز پر آئے جنہوں نے نکولس کا ساتھ دینا تھا۔ اس دوران ہنری نکولس 50 رنز اسکور کرنے میں کامیاب ہو گئے جبکہ مجموعی اسکور 25 اوور مکمل ہونے کے بعد بھی 100 رنز سے کچھ ہی زیادہ تھا جسے دیکھ کر لگتا تھا کہ نیوزی لینڈ شاید زیادہ بڑا ٹارگٹ نہ دے سکے۔

27 ویں اوور میں ہینری نکولس لیام پلینکٹ کی بال پر 55 رنز کے انفرادی اسکور پر بولڈ ہو گئے۔ یہ نیوزی لینڈ کو ہونے والا تیسرا بڑا نقصان تھا۔ ان کے بعد اگلے بلے باز راس ٹیلر تھے جو بیٹنگ کی غرض سے کریز پر پہنچے۔

پانچویں وکٹ نیشام کی گری۔ وہ 19 رنز پر پلینکٹ کی بال پر آؤٹ ہوئے۔ ان کے بعد ہینری کو 4 رنز پر آرچر نے کلین بولڈ کر دیا۔ ان کی جگہ ٹرینٹ بولٹ بیٹنگ کے لئے آئے۔

31 اوور تک کا کھیل مکمل ہونے کے باوجود نیوزی لینڈ کے بیٹسمین اس تیزی سے اسکور کو آگے بڑھاتے نظر نہیں آئے جو عموماً 25 اوورز کے بعد کھیل میں نمایاں ہوتی نظر آتی ہے۔

34 ویں اوور میں 141 کے مجموعی اسکور پر چوتھی وکٹ گری۔ آؤٹ ہونے والے کھلاڑی راس ٹیلر تھے جنہوں نے 15 رنز بنائے مگر مارک ووڈ نے انہیں ایل بی ڈبلیو کر دیا۔

ٹام لیتھم جو نیوزی لینڈ کے لئے بہت قیتمی ثابت ہو رہے تھے، انہیں ووکس نے 47 رنز پر آؤٹ کیا جبکہ گرینڈہومز 16 رنز پر ووکس کو اپنی وکٹ دے بیٹھے۔

دونوں ٹیموں نے فائنل میں انہی کلاڑیوں کو کھیلنے کا موقع دیا ہے جنہوں نے سیمی فائنل کھیلا تھا۔

دونوں ٹیمیں پہلے عالمی کپ سے اب تک ایک مرتبہ بھی فائنل نہیں جیت سکی ہیں۔ البتہ، انگلینڈ اب تک تین بار اور نیوزی لینڈ صرف ایک مرتبہ فائنل کھیلنے کا اعزاز حاصل کر چکا ہے۔ یوں انگلینڈ نے پہلی مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے کا اعزاز حاصل کیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG