رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد: اعلیٰ امریکی عہدے داروں کی پاکستانی حکام سے ملاقات


زلمے خلیل زاد اور جنرل باجوہ کی ملاقات۔

پاکستان کے غیر اعلانیہ دورے کے دوران، امریکہ کے اعلیٰ عہدیداروں نے منگل کو پاکستان فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ سے ملاقات کی، ایسے میں جب امریکہ اور طالبان کے رواں سال فروری میں طے پانے والے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کی راہ میں کئی مشکلات حائل ہو گئی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے خیال میں ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے امریکہ کو پاکستان کا تعاون درکار ہے اور یہ دورہ بھی بظاہر اس مقصد کے لیے تھا۔

پاکستان آمد سے قبل امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد نے افغانستان میں ریزولیوٹ سپورٹ مشن کے کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر کے ہمراہ پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ میں افغان طالبان کے نائب سربراہ ملا عبدالغنی برادر سے ملاقات کی ہے، جس کا محور تجزیہ کاروں کے خیال میں، طالبان اور امریکی حکام کے درمیان ہونے والی حالیہ ملاقاتوں کا محور بھی تشدد کم کرنے پر رہا، تاکہ بین الافغان مذاکرات کے لیے سازگار ماحول بن سکے اور امریکی عہدیداروں کا پاکستان کا دورہ بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

یادر ہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان 29 فروری کو طے پانے والے معاہدے کے بعد اس بات کی توقع کی جا رہی تھی کہ اس کے بعد بین الافغان مذاکرات کا مرحلہ بغیر کسی رکاوٹ کے شرو ع ہوجائے گا جو افغانستان کے دیرینہ تنازع کو حل کرنے کی طرف ایک اہم پیش رفت ہوگی۔ لیکن، بین الافغان مذاکرات سے پہلے افغان حکومت اور طالبان کے درمیان قیدیوں کا تبادلہ ہونا طے تھا۔ لیکن، کابل اور طالبان کے درمیان اختلافات کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہ بڑھ سکا۔

بین الاقوامی امور کے تجزیہ کار، نجم رفیق نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ افغان حکومت کی طرف سے طالبان کے تمام قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے طالبان نے حال ہی میں اس بات کا عدنیہ دیا ہے کہ اگر امریکہ طالبان معاہدے پر پوری طرح عمل نہیں ہوتا تو اس کی وجہ سے امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نجم رفیق کے بقول، امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور افغانستان میں تعینات اعلیٰ امریکی کمانڈر جنرل اسکاٹ ملر کا دورہ بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے۔ ان کے خیال میں، امریکی عہدیدار یہ چاہتے ہیں کہ پاکستان افغان طالبان کو یہ باور کرائے کہ وہ امریکہ طالبان معاہدے کی پاسداری کریں اور انہیں یہ بتائیں کہ اگرچہ ان کے قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہو رہی ہے، لیکن یہ معاملہ حل ہو جائے گا۔

یادر ہے کہ 29 فروری کو امریکہ اور طالبان کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد افغانستان میں تشدد کے واقعات میں اضافہ ہوا اور امریکہ اور اس کے اتحادی طالبان پر تشدد میں کمی پر زور دے رہے ہیں، تاکہ افغان امن عمل کی طرف پیش رفت کی جا سکے۔

امریکہ کو یہ تشویش لاحق ہے کہ اگر افغانستان میں تشدد کی کارروائیاں جاری رہتی ہیں اور طالبان کے تمام قیدیوں کی رہائی میں تاخیر ہوتی ہے تو امریکہ طالبان معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

دفاعی امور کے تجزیہ کار طلعت مسعود کا کہنا ہے کہ امریکہ اور طالبان کا معاہدہ ایک ایسے موڑ پر ہے جب، ان کےبقول، اس پر پوری طرح عمل درآمد کی راہ میں کئی مشکلات حائل ہیں۔ اس لیے، ان کے بقول، انہیں دور کرنے کے لیے بھی واشنگٹن کو پاکستان کا تعاون درکار ہے۔

ان کے بقول، امریکہ اب بھی یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان طالبان پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرکے انہیں افغان حکومت سے بات چیت پر قائل کرے۔ انھوں نے کہا ہے کہ اگر کابل حکومت اور طالبان کی بات چیت شروع نہیں ہوتی، تو امریکہ طالبان معاہدے پر پیش رفت ممکن نہیں ہوگی۔

لیکن، طلعت مسعود نے کہا ہے کہ اگرچہ افغانستان میں پائیدار امن کا قیام پاکستان کے مفاد میں ہے اور پاکستان نے افغان امن عمل میں اہم کردار ادا کیا ہے، لیکن، ان کے بقول، پاکستان طالبان پر ایک حد تک ہی اثر انداز ہو سکتا ہے۔

تجزیہ کار کے خیال میں واشنگٹن یہ سمجھتا ہے کہ پاکستان نے امریکہ طالبان کے درمیان معاہدہ کروانے میں اہم کردار ادا کیا، اور اب بھی امریکہ کا خیال ہے کہ افغانستان میں امن عمل کو آگے بڑھانے میں پاکستان کا کردار اہم ہے۔ اس حوالے سے، امریکہ کے نمائندہ خصوصی زلمے خلیل زاد اور جنرل اسکاٹ ملر کی پاکستان فوج کے سربراہ کے ساتھ ملاقات اہم ہے۔

دوسری طرف، تجزیہ کار اور صحافی طاہر خان کا کہنا ہے کہ طالبان یہ نہیں چاہتے کہ طویل عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے نتیجے میں امریکہ طالبان معاہدے کو کوئی نقصان پہنچے۔ لیکن، انہیں بین الافغان امن مذاکرات سے پہلے اپنے تمام قیدیوں کی رہائی چاہتے ہیں۔

تجزیہ کار طاہر خان کےبقول، امریکہ کے اصرار کے باوجود، اگر طالبان تشدد میں کمی نہیں کرتے تو دوحہ میں طے پانے والے معاہدے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔

ان کے بقول، قطر میں امریکی عہدیداروں اور طالبان کے درمیان دوحہ میں ایک ہفتے کے اندر دو بار ملاقاتیں ہوئیں ہیں۔ لیکن، ان کےبقول، اس وقت مسئلہ امریکہ اور طالبان کا نہیں، بلکہ یہ مسئلہ افغان حکومت کی طرف سے طالبان قیدیوں کی رہائی میں تاخیر کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔

طاہر خان نے کہا کہ اگر قیدیوں کا معاملہ خو ش اسلوبی سے حل نہیں ہوتا تو افغان تنازع کے حل کی طرف پیش رفت آسان نہیں ہوگی۔ ان کےبقول، اس وقت پوری دنیا کی توجہ کرونا وائرس کی وبا پر ہے، اس لیے، اگر افغان امن عمل میں جلد پیش رفت نہ ہو تو امن معاہدے کو بھی نقصان پہنچ سکتا ہے۔

پاکستان فوج کے مطابق، آرمی چیف جنرل باجوہ نے سفیر خلیل زاد کے ساتھ ملاقات میں اس بات پر زور دیا گیا کہ کرونا وائرس کی وبا کی وجہ سے پیدا ہونے والی صورتحال کے دوران افغان امن عمل اور خطے کے امن و استحکام کے لیے ہونے والی پیش رفت سے توجہ نہیں ہٹنی چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG