رسائی کے لنکس

بلوچستان میں اخبارات کی ترسیل و چینلز کی نشریات تاحال بند


فائل فوٹو

انسانی حقوق کمیشن کے مطابق عسکری تنظیموں کی دھمکیوں کے باعث بلوچستان میں تقریباً ایک ماہ سے اخبارات کی ترسیل اور تقریباً 15 پریس کلب بند ہیں۔

پاکستان کے صوبے بلوچستان کے ایک تہائی اضلاع کے لوگ ایک ماہ گزرنے کے بعد بھی الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کی خبروں سے مکمل طور پر محروم ہیں اور ان علاقوں میں کیبل اور اخبارات کا مکمل بائیکاٹ اب بھی جاری ہے۔

صوبے میں سرگرم بلوچ عسکریت پسند تنظیموں نے گزشتہ ماہ اپنی کارروائیوں کی کوریج نہ کرنے پر صوبے میں اخبارات کی ترسیل اور نیوز چینلز کی نشریات دکھانے پر پابندی عائد کرنے کا اعلان کرتے ہوئے بلوچ عوام سے اخبارات اور نیوز چینلز کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی تھی۔

عسکریت پسندوں نے صوبے میں اخبارات لے جانے والی بعض گاڑیوں پر حملے بھی کیے تھے۔

اس بائیکاٹ کے باعث صوبے کے دوردراز علاقوں سے روزانہ کی خبریں دینے والے، اخبارات فروخت اور تقسیم کرنے والے اور کیبل کے دفاتر میں کام کرنے والے سیکڑوں لوگ نانِ شبینہ کے محتاج ہوگئے ہیں۔

تربت پریس کلب کے صدر چاکر بُلیدی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ بلوچستان کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے بیشتر صحافیوں کو اُن کے ادارے خبریں فراہم کرنے کے عوض تنخواہ یا پیسے ادا نہیں کرتے بلکہ پرنٹ و الیکٹرانک یا سوشل میڈیا میں علاقے کے مسائل کو اُجاگر کر کے یا اس بارے میں سیاسی اور قبائلی رہنماؤں کے بیانات یا اشتہارات شائع کرنے کے عوض مقامی صحافیوں یا اس صنعت سے وابستہ دیگر لوگوں کو کمیشن وغیرہ مل جاتا ہے جس سے وہ اپنا گزر بسر کر لیتے ہیں۔ لیکن ان کے بقول ایک مہینے سے یہ سب کچھ بند ہے۔

چاکر بلیدی نے بتایا کہ اس صورتِ حال کے باعث صحافی اور دیگر لوگ بے شمار پریشانیوں اور فاقوں کا سامنا کر رہے ہیں اور ان کے بقول بعض صحافیوں نے مشکلات اور تنگ دستی سے تنگ آکر ملک کے بڑے شہروں کا رُخ کر لیا ہے۔

چاکر بلیدی نے بتایا کہ بلوچ عسکری تنظیموں کی طرف سے حال ہی میں پریس کلبوں اور دیگر مقامات پر پمفلٹ تقسیم کیے گئے تھے اور بعض صحافیوں کو واٹس اپ کے ذریعے اُس پمفلٹ کا عکس بھی بھیجا گیا ہے جس میں صحافیوں سے کہا گیا ہے کہ خبر یں فراہم کر نے کا سلسلہ فوراً بند کیا جائے ورنہ صحافی خود اس کے ذمہ دار ہوں گے۔

چاکر بُلیدی کے مطابق بلوچ عسکری تنظیموں کا مطالبہ ہے کہ اگر صحافی حکومت یا سکیورٹی اداروں کی کارروائیوں کی خبریں دیتے ہیں تو جب عسکری تنظیمیں کارروائیاں کریں تو اُن کی خبریں بھی اُسی طرح سے دی جائیں۔

اُنہوں نے بتایا کہ پنجگور، تر بت، خاران، گوادر اور دیگر چھوٹے شہروں میں کام کرنے والے صحافیوں نے عسکری تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ الیکٹرانک، پرنٹ اور سوشل میڈیا پر چلانے کے لیے مقامی صحافی ہر طرح کی خبریں بھیج دیتے ہیں لیکن اُن خبروں کو نشر یا پرنٹ کرنا مالکان یا نیوز ڈاٹریکٹر اور نیوز ایڈیٹر کی ذمہ داری ہوتی ہے جس کا ذمہ دار مقامی صحافیوں کو نہ ٹہرایا جائے۔

چھوٹے شہروں کے صحافیوں نے بلوچ عسکری تنظیموں سے کہا ہے کہ میڈیا اداروں کے بااختیار لوگوں سے رابطہ کر کے معاملات طے کیے جائیں اور نامہ نگاروں اور صحافیوں کو تنگ نہ کیا جائے۔

پریس کلب کو ئٹہ کے صدر اور روزنامہ ایکسپریس کے ایڈیٹر رضا الرحمان کا کہنا ہے کہ کوئٹہ اور صوبے کے دیگر اضلاع کے صحافیوں کی مشکلات سے صوبائی حکومت، اخبارات اور نجی ٹی وی چینلز کے مالکان اور صحافیوں کی انجمنوں کو آگاہ کیا جاچکا ہے اور اُنھیں بتایا گیا ہے کہ بلو چستان کی خبروں کو دیگر صوبوں کی طرح میڈیا میں کوریج نہیں دی جاتی جس سے صوبے کے لوگ کافی شاکی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ٹی وی چینلز اور اخبارات کے مالکان اس حوالے سے ایک پالیسی تیار کرلیں تاکہ یہ مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو۔

انہوں نے مطالبہ کیا کہ میڈیا مالکان صوبے کے دور دراز علاقوں میں کام کرنے والے صحافیوں کے لیے تنخواہ بھی مقررہ کریں تاکہ صحافی اپنا گزر بسر بہتر انداز میں اور کسی کے دباؤ میں آئے بغیر کر سکیں۔

صوبائی دارالحکومت کوئٹہ سے صوبے کے مختلف علاقوں میں کوئٹہ اور کراچی سے شائع ہونے والے اخبارات اپنی مسافر ویگن کے ذریعے پہنچانے والے ٹرانسپورٹر اللہ بخش کا کہنا ہے کہ چند روز قبل مسلح افراد نے اُن کی گاڑی کو پنجگور کے قریب روک کر تمام اخبارات اُتار لیے تھے اور گاڑی کے ایک ٹائر کو فائرنگ کر کے برسٹ کردیا تھا۔

انہوں نے بتایا کہ مسلح افراد نے ڈرائیور کو دھمکی دی تھی کہ اگر آئندہ اخبارات لائے تو یہ گولی ٹائر کو نہیں بلکہ اس کے سر میں ماری جائے گی۔

اللہ بخش نے بتایا کہ اس دھمکی کے بعد تمام ٹرانسپورٹروں نے صوبے کے بیشتر اضلاع کو اخبارات کی ترسیل بند کردی ہے۔

صوبائی حکومت کا کہنا ہے کہ پولیس اور سکیورٹی ادارے میڈیا ہاؤسز، اخبارات کے دفاتر، پریس کلبز، اخبار مارکیٹوں اور صحافیوں اور اخبار فروشوں کو فول پروف سکیورٹی فراہم کریں گے اور اخبارات کی ترسیل اور تقسیم میں کوئی رکاوٹ پیدا ہونے نہیں دی جائے گی۔

صوبائی حکومت کے ایک بیان میں بتایا گیا ہے کہ کوئٹہ سے شائع ہونے والے 198 روزناموں میں سے بیشتر کے دفاتر، نیوز ایجنسیز، الیکٹرانک میڈیا ہاؤسز اور کوئٹہ اور دیگر اضلاع کے پریس کلبوں پر سیکورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے ہیں۔

انسانی حقوق کمیشن (ایچ آر سی پی) نے بھی گزشتہ دنوں ایک بیان میں حکومت اور بلوچستان کے علیحدگی پسند گروہوں سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ میڈیا کو آزادی سے کام کرنے کی اجازت ہو اور اخبارات اور صحافی کسی بھی قسم کے خطرات یا تشدد سے آزاد ہوں۔

کمیشن کی طرف سے کہا گیا تھا کہ عسکری تنظیموں کی دھمکیوں کے باعث بلوچستان میں تقریباً ایک ماہ سے اخبارات کی ترسیل اور تقریباً 15 پریس کلب بند ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ پاکستان کے اس جنوب مغربی صوبے کے دور دراز علاقوں میں پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی بندش کا فائدہ صرف اُن قوتوں کو ہورہا ہے جو لوگوں کو جبری طور پر لاپتا کرنے اور اُن کے ماورائے عدالت قتل میں ملوث ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG