رسائی کے لنکس

logo-print

نیس حملہ آور کئی ماہ سے حملے کی 'منصوبہ بندی' کر رہا تھا: استغاثہ


مولنز کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے پانچ مشتبہ افراد کو ابتدائی طور پر دہشت گردی بشمول قتل کرنے کے ارادے سے اسلحہ رکھنے اور 14 جولائی کے حملے میں معاونت کے الزامات کا سامنا ہے۔

فرانس کے شہر نیس میں ٹرک سے ہجوم کو روندے والے حملہ آور کے بارے میں حکام نے بتایا ہے کہ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ وہ کئی ماہ سے اس حملے کی منصوبہ بندی کرتا رہا اور اس میں کچھ اور لوگ بھی اس کے ساتھ شامل تھے۔

14 جولائی کو قومی دن کی تقریبات کے سلسلے میں ہونے والی آتشبازی کے مظاہرے کے دوران حملہ آور نے ٹرک یہاں کھڑے لوگوں پر چڑھا دیا جس سے 84 افراد ہلاک اور دو سو سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ پولیس نے حملہ آور کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

پیرس میں استغاثہ کے عہدیدار فرانسس مولنز نے صحافیوں کو بتایا کہ حملہ آور کے فون سے حاصل ہونے والی معلومات اور تصاویر یہ ظاہر کرتی ہیں کہ وہ اس حملے کی منصوبہ بندی 2015ء سے کر رہا تھا۔

مولنز کا کہنا تھا کہ گرفتار کیے گئے پانچ مشتبہ افراد کو ابتدائی طور پر دہشت گردی بشمول قتل کرنے کے ارادے سے اسلحہ رکھنے اور 14 جولائی کے حملے میں معاونت کے الزامات کا سامنا ہے۔

ان کے بقول گرفتار کیے گئے افراد میں چار مرد جن میں سے دو تیونس نژاد فرانسیسی، ایک تیونس اور ایک البانیہ کا شہری ہے جب کہ ایک خاتون جس کے پاس البانیہ اور فرانس کی دہری شہریت ہے، شامل ہیں۔

31 سالہ حملہ آؤر ٹرک ڈرائیور محمد بوہلال کا تعلق بھی تیونس سے تھا اور وہ کئی برسوں میں نیس میں قانونی طور پر رہ رہا تھا۔

قبل ازیں جمعرات کو پولیس نے پیرس کے نواح میں ایک مسجد، ایک اسلامی لائبریری کے قریب انسداد دہشت گردی کی کارروائی کی۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ اس کارروائی کا نیس حملے سے کوئی تعلق تھا یا نہیں۔

دریں اثناء فرانس کے وزیرداخلہ کا کہنا ہے کہ نیس میں قومی دن کے موقع پر ہونے والی تقریب کے داخلی راستے اور گزرگاہ پر پولیس تعینات نہیں تھی۔

انھوں نے یہ اعتراف ان سوالات کے جواب میں کیا جن میں اس واقعے کو سکیورٹی میں غفلت کا ذکر کیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG