رسائی کے لنکس

logo-print

نائجیریا: پولیو ورکرز کے قتل کے الزام میں تین صحافی گرفتار


کانو میں پولیس کے سربراہ ابراہیم ادریس نے بتایا کہ پیر کے روز ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن سے تین ایسے صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے شوز میں پولیو ویکسین کو اسلام کے خلاف ایک ایسی مغربی سازش قرار دیا تھا جو خواتین میں بانجھ پن پیدا کرتی ہے۔

نائجیریا سے تعلق رکھنے والے تین صحافیوں کو ریڈیو پر پولیو ویکسین کو اسلام کے خلاف مغربی سازش قرار دینے پر گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ریڈیو پر اس اعلان کے بعد نائجیریا میں پولیو ویکسین دینے والے طبی عملے کو قتل کر دیا گیا تھا۔

یہ واقعہ جمعے کے روز اس وقت پیش آیا جب موٹر سائیکل سوار مسلح افراد نے نائجیریا کے شہر کانو کے دو مختلف علاقوں میں پولیو ویکسین کے طبی عملے کے نو ارکان کو گولیاں مار کر ہلاک کر دیا تھا۔

تاحال اس حملے کی ذمہ داری کسی تنظیم نے قبول نہیں کی ہے۔ لیکن ان حملوں کی ذمہ داری شدت پسند تنظیم بوکو ہرام پر عائد کی جا رہی ہے۔ بوکو ہرام اس سے قبل مغربی تعلیم کے طریقہ ِ کار کے استعمال کی مخالفت کر چکی ہے اور اس پر شہر میں سیکورٹی فورسز پر حملوں کا الزام بھی عائد کیا جاتا ہے۔

کانو میں پولیس کے سربراہ ابراہیم ادریس نے خبر رساں ادارے رائٹرز کو بتایا کہ پیر کے روز ایک مقامی ریڈیو اسٹیشن سے تین ایسے صحافیوں کو گرفتار کیا گیا ہے جنہوں نے اپنے شوز میں پولیو ویکسین کو اسلام کے خلاف ایک ایسی مغربی سازش قرار دیا تھا جو خواتین میں بانجھ پن پیدا کرتی ہے۔

کانو میں اثرورسوخ رکھنے والے بہت سے مسلمان لیڈر بھی اس سے قبل پولیو ویکسین کے بارے میں ایسے ہی خیالات کا اظہار کر چکے ہیں۔

ان ہلاکتوں سے صحت کے ان عالمی اداروں کی کاوشوں کو نقصان پہنچ سکتا ہے جو نائجیریا کے شمالی علاقوں میں پولیو کے وائرس کے خاتمے کے لیے کام کر رہے ہیں۔ پولیو سے چند گھنٹوں کے اندر اندر انسانی جسم مفلوج ہو سکتا ہے۔

پولیو کی وجہ سے 1950 تک دنیا بھر میں اموات ہوتی تھیں۔ لیکن پولیو کی ویکسین کے استعمال سے یہ مرض دنیا بھر میں ختم ہو چکا ہے۔

پولیو کا مرض اب صرف نائجیریا، افغانستان اور پاکستان میں باقی رہ گیا ہے۔
XS
SM
MD
LG