رسائی کے لنکس

logo-print

بوکو حرام نے لاگوس، ابوجہ حملوں کی ذمہ داری قبول کرلی


ادھر، پیر کے روز ابوجہ میں، پاکستانی طالبہ ملالہ نے صدر گُڈلَک جوناتھن سے ملاقات کی۔ اس موقع پر اپنے کلمات میں صدر نے لڑکیوں کی بازیابی کے لیے اپنے عہد کا اعادہ کیا

بوکو حرام کے رہنما نے حالیہ دِنوں لاگوس میں کیے جانے والے بم حملے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ تصدیق ہونے کی صورت میں، شدت پسند گروپ کی طرف سے نائجیریا کے اِس تجارتی دارلحکومت میں کیا جانے والا یہ پہلا حملہ ہوگا۔

اتوار کے روز جاری ہونے والی ایک وِڈیو میں، ابو بکر شیکو نے دعویٰ کیا ہے کہ اُنھوں نے ہی وہ بم حملہ آور روانہ کیا تھا، جس نے 25 جون کو لاگوس کے تیل کے ڈپو پر دو دھماکے کیے، جن میں کم از کم دو افراد ہلاک ہوئے۔


حکومت نے کہا ہے کہ یہ دھماکے گیس کے ایک کنستر پھٹنے کے باعث ہوئے تھے۔ وڈیو میں، شیکو نے اِس تاثر کی نفی کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر تو آپ لوگوں سے یہ سچ چھپا رہے ہیں، لیکن آپ اللہ سے یہ بات نہیں چھپا سکتے۔

بوکو حرام کے رہنما نے حالیہ دِنوں میں ابوجہ میں ہونے والے بم حملے کی بھی ذمہ داری قبول کرلی ہے، جس میں 24 افراد ہلاک ہوئے، اور بوکو حرام کے طرف سے قید اسکول کی 200 سے زیادہ طالبات کی رہائی کو قید میں بند شدت پسندوں کی رہائی سے منسلک کیا گیا ہے۔

پیر کے روز ابوجہ میں، صدر گُڈلَک جوناتھن نے لڑکیوں کی بازیابی کے لیے اپنے عہد کا اعادہ کیا۔

اُنھوں نے یہ عہد پاکستانی طالبہ ملالہ یوسفزئی کے ساتھ ملاقات کے دوران کیا، جنھیں طالبان نے سر میں گولی ماری تھی، جن کا قصور بچیوں کی تعلیم کو فروغ دینا تھا۔

اس ملاقات سے قبل، ملالہ نے اس امید کا اظہارکیا تھا کہ نائجیریا میں اُن کی موجودگی اِن مغوی طالبان کو گھر واپس لانے کے سلسلے میں حکومت پر دباؤ میں اضافہ کرے گی۔

نائجیریائی حکام کو اِن طالبات کی بازیابی میں کامیابی حاصل نہیں ہوئی، حالانکہ امریکہ اور دیگر ممالک کی جانب سے اُسے انٹیلی جنس اور نگرانی سے متعلق مدد حاصل ہے۔

XS
SM
MD
LG