رسائی کے لنکس

logo-print

نائجیریا میں گرجا گھر پر خودکش حملے کے بعد فسادات


حملے کے بعد چاقووں اور لاٹھیوں سے لیس مشتعل عیسائی نوجوان کے جتھے شہر کی سڑکوں پر نکل آئے اور کم از کم تین مسلمانوں کو قتل کردیا۔

نائجیریا میں ایک گرجا گھر پر خود کش کار حملے میں سات افراد ہلاک ہوگئے ہیں جب کہ واقعے کے بعد بدلہ لینے کی غرض سے کیے جانے والے حملوں میں مزید تین افراد مارے گئے ہیں۔

واقعے نائجیریا کے شمالی شہر کدونا میں اتوار کو پیش آیا جب 'سینٹ ریٹا ' نامی مقامی گرجا گھر میں اتوار کی صبح ہونے والی دعائیہ تقریب کے دوران میں ایک خود کش حملہ آور نے اپنی جیپ گرجا کی عمارت سے ٹکرادی۔

دھماکے سے گرجا گھر کی عمارت کو بھی شدید نقصان پہنچا جب کہ امدادی اہلکاروں نے جائے واردات پر پہنچ کر لاشوں اور زخمیوں کو اسپتال منتقل کیا۔

عینی شاہدین کے مطابق حملے کے بعد چاقووں اور لاٹھیوں سے لیس مشتعل عیسائی نوجوان کے جتھے شہر کی سڑکوں پر نکل آئے اور کم از کم تین مسلمانوں کو قتل کردیا۔

اطلاعات کے مطابق خود کش حملے اور اسکے بعد شہر میں پھوٹ پڑنے والے فسادات میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

گرجا گھر پر حملے کی ذمہ داری تاحال کسی نے قبول نہیں کی ہے تاہم نائجیریا کی مسلم انتہا پسند تنظیم 'بوکو حرام' اس سے قبل عیسائی عبادت گاہوں پر ہونے والے بم حملوں اور فائرنگ کے کئی واقعات کی ذمہ داری قبول کرتی رہی ہے۔

تنظیم نے اس سے قبل جون میں کدونا ریاست کے تین گرجا گھروں پر ہونے والے بم حملوں کی ذمہ داری بھی قبول کی تھی۔ ان حملوں میں کم از کم 50 افراد ہلاک ہوئے تھے جن کے بعد ریاست میں مسلمانوں اور عیسائیوں کے درمیان فرقہ ورانہ کشیدگی میں اضافہ ہوگیا تھا۔

واضح رہے کہ یہ ریاست نائجیریا کے مسلم اکثریتی شمالی اور عیسائی اکثریتی جنوبی علاقے کے درمیان میں واقع ہے اور یہاں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کی بڑی تعداد آباد ہے۔

نائجیرین حکام الزام عائد کرتے ہیں کہ 'بوکو حرام' کی پرتشدد کاروائیوں میں 2009ء سے اب تک 1500 سے زائد افراد ہلاک ہوچکے ہیں جن میں کئی پولیس اہلکار اور سرکاری عہدیداران بھی شامل ہیں۔

مذکورہ مسلح شدت پسند تنظیم شمالی نائجیریا میں بزعمِ خود اسلامی شریعت کے نفاذ کی کوششیں کرنے کا دعویٰ کرتی ہے۔
XS
SM
MD
LG