رسائی کے لنکس

logo-print

نائیجیریا: مساجد میں بم دھماکے، 42 افراد ہلاک


حکام کے مطابق یولا اور میدوگوری نامی قصبوں میں ہوئے، جن میں 100 سے زائد افراد زخمی بھی ہوئے۔

ںائیجیریا میں دو مساجد میں بم دھماکوں میں 45 افراد ہلاک اور 100 سے زائد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کے مطابق یولا نامی قضبے میں ایک مسجد میں دھماکے سے 27 افراد ہلاک ہوئے جب کہ اس سے قبل میدوگوری نامی علاقے میں بھی ایک مسجد میں دھماکے سے کم از کم 18 افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

کسی گروپ نے تاحال ان بم دھماکوں کی ذمہ داری قبول نہیں کی لیکن نائیجیریا میں سرگرم شدت پسند تنظیم بوکو حرام ماضی میں ایسے حملے کرتی رہی ہے۔

خبر رساں ادارے ’روئیٹرز‘ کے مطابق یولا میں قصبے میں مسجد پر ہونے والے بم حملے میں زخمی ہونے والے 96 افراد دو مختلف اسپتالوں میں زیر علاج ہیں۔

عہدیداروں کا کہنا ہے کہ وہ یولا میں ہونے والے دھماکے کے بارے میں فوری طور کچھ نہیں کہہ سکتے کہ کیا یہ خودکش بمبار کی کارروائی تھی یا نہیں۔

اس سے قبل میدوگوری شہر میں جمعہ کو ایک مسجد میں اُس وقت بم دھماکا ہوا تھا جب لوگ وہاں نماز فجر کے لیے جمع تھے۔

اس حملے کا الزام شدت پسند تنظیم بوکو حرام پر لگایا گیا ہے۔

نائجیریا کے اس شدت پسند گروپ نے داعش سے وفاداری کا اعلان کر رکھا ہے اور یہ مغربی افریقہ میں ایک خلافت قائم کرنا چاہتا ہے جو نائجیریا، چاڈ، کیمرون اورنائیجر کے علاقوں پر مشتمل ہو گی جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔

حالیہ مہینوں میں ان چاروں ممالک میں کئی خود کش حملے ہو چکے ہیں جن میں سینکڑوں افراد کی جانیں جا چکی ہیں۔ چھ سال سے جاری بغاوت میں کم از کم 20 ہزار افراد ہلاک اور لگ بھگ 23 لاکھ افراد بے گھر ہو چکے ہیں۔

نائجیریا اور اس کے ہمسایہ ممالک کی افواج پر مشتمل ایک کثیرالقومی فوج کی طرف سے جوابی کارروائی بغیر وجہ بتائے کئی ماہ سے تعطل کا شکار ہے۔

انسانی حقوق کی ایک بین الاقوامی تنظیم ’ایمنسٹی انٹرنیشنل‘ کے مطابق جون سے اب تک بوکو حرام 1600 شہریوں کو ہلاک کر چکی ہیں جب کہ رواں سال کے دوران مجموعی طور پر 3500 شہریوں کو ہلاک کیا گیا۔

XS
SM
MD
LG