رسائی کے لنکس

logo-print

نائیجیریا: بوکو حرام سے تعلق کے شبے میں گرفتار 180 افراد رہا


ایمنسٹی کی افریقی شاخ کے ایک عہدیدار نٹسانیٹ بیلے کہتے ہیں رہا کیے گئے افراد کی مناسب انداز میں مدد کی جانی چاہیے۔

نائیجیریا میں حکام نے انتہا پسند گروپ بوکو حرام سے تعلق کے شبے میں گرفتار کیے گئے 180 افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

یہ رہائی ایک ایسے وقت عمل میں آئی ہےجب ایک ماہ قبل ہی انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل نے اپنی رپورٹ میں الزام عائد کیا تھا کہ نائیجیریا کی فوج حراست میں رکھے جانے والے افراد سے انتہائی برا سلوک کرتی ہے۔

تاہم ریاست بورنو کے مرکزی شہر میدوگوری میں رہا کیے جانے والے 180 افراد میں شامل مرد و خواتین اور بچوں نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ انھیں دوران تحویل کسی بھی طرح کے ناروا سلوک کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔

ان افراد میں عثمان لاوان بھی شامل ہیں جو کونڈوگا نامی قصبے میں کسان ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ انھیں دو ماہ تک حراست میں رکھا گیا اور اب وہ اپنے گھر واپس جانا چاہتے ہیں۔

"اگر کوئی راستہ ہو تو میں (اپنے قصبے) واپس جانا چاہتا ہوں، اگر کوئی راستہ نہیں تو میں حکومت سے میرے لیے کوئی انتظام کرنے کا کہوں گا۔"

ان افراد کی رہائی کا ایمنسٹی انٹرنیشنل نے خیر مقدم کیا ہے۔ تنظیم کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ملک کے شمال مشرق میں قائم حراستی مراکز میں لوگوں پر تشدد کے علاوہ فوج مبینہ طور پر ماورائے قانون قتل بھی کر رہی ہے۔

فوج نے اس رپورٹ کو "بلیک میلنگ" قرار دیا تھا لیکن نائیجیریا کے صدر محمدو بوہاری نے رپورٹ میں کیے گئے دعوؤں کی تفتیش کرنے کا عزم کیا تھا۔

ایمنسٹی کی افریقی شاخ کے ایک عہدیدار نٹسانیٹ بیلے کہتے ہیں رہا کیے گئے افراد کی مناسب انداز میں مدد کی جانی چاہیے۔

"ہماری تحقیق یہ کہتی ہے کہ حراستی مراکز میں صورتحال قابل افسوس ہے اور یہ لوگ اس حراست کا شکار رہے ہیں۔ لہذا حکومت کو اس بات کو یقینی بنانے کی ضرورت ہے کہ ان افراد کے نقصانات کا ازالہ ہو اور انھیں اپنے گھروں کو واپس بھیجنے کا پروگرام شروع کیا جائے۔"

بورنو ریاست کے گورنر قاسم شتیما کا کہنا تھا کہ ریاست ان افراد کو اسکول جانے کی اجازت دے گی اور انھیں مناسب تربیت فراہم کرے گی تا کہ یہ اپنے لیے کام تلاش کر سکیں۔

XS
SM
MD
LG