رسائی کے لنکس

logo-print

نائیجرین خواتین اپنے دفاع کے لیے باکسنگ اور کراٹے سیکھنے لگیں


نائیجیریا میں خواتین پر جنسی حملوں، امن و امان کی ناقص صورتِ حال اور قبائلی روایات سے تنگ بعض خواتین نے خود اپنا دفاع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ خواتین مقامی اکیڈمی میں باکسنگ اور مارشل آرٹس کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق انسانی حقوق کی مقامی تنظیم اور ایک باکسنگ کوچ نے ایسی خواتین کو مفت تربیت دینے کا اہتمام کیا ہے۔

نائیجیریا کا شمار دُنیا کے ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں خواتین کو جنسی طور پر ہراساں کرنے اور اُن پر تشدد کے واقعات کی شرح سب سے زیادہ ہے۔ ملک میں سرگرم بعض جہادی گروپ بھی خواتین کے خلاف حملوں میں ملوث رہے ہیں۔

لیکن قبائلی روایات اور جنسی تفریق کے باعث ایسے موضوعات نائیجریا میں عام طور پر زیرِ بحث نہیں لائے جاتے۔

نائیجریا کے سب سے بڑے شہر لاگوس میں واقع اس اکیڈمی میں زیرِ تربیت 35 سالہ عدیلہ المائد اپنے اُوپر ہونے والے جنسی تشدد کا ذکر کرتے ہوئے کہتی ہیں کہ وہ بہت زیادہ خوف کا شکار ہو گئی تھیں۔ لیکن جب یہ حملے مسلسل جاری رہے تو اُنہوں نے سوچا کہ ایسی تربیت حاصل کروں جس سے اپنے سے طاقت ور دُشمن کا مقابلہ کرنے کی قوت مل سکے۔

مذکورہ حملوں کے دوران عدیلہ کو زبردست جسمانی تشدد کا سامنا کرنا پڑا تھا جب کہ وہ بعض مواقعوں پر بے ہوش بھی ہو گئی تھیں۔

اُنہوں نے کہا کہ خواتین کو اپنا دفاع کرنے کے لیے تربیت دینے کا یہ خیال انقلابی ہے۔ لیکن خواتین کو نائیجریا میں اپنے حقوق کے لیے آواز بلند کرنے کی اجازت نہیں۔ یہاں قبائل ہیں جہاں کی اپنی اپنی روایات ہیں۔

35 سالہ عدیلہ تین بچوں کی ماں ہیں۔
35 سالہ عدیلہ تین بچوں کی ماں ہیں۔

گفتگو کے بعد عدیلہ باکسنگ کی کلاس کے لیے چلی گئیں۔ یہ اکیڈمی انسانی حقوق کے لیے سرگرم تنظیم چلاتی ہے۔ جس کی ہیڈ ریحیا گوا ہیں۔

ایلیٹ بکس نامی اس جم میں ایسی 20 خواتین باکسنگ کی تربیت حاصل کر رہی ہیں۔ یہ خواتین مکے مارنا، بچنا، چستی سے ہاتھوں کو حرکت دینا اور مخالف پر حملہ آور ہونے جیسے باکسنگ کے حربے سیکھ رہی ہیں۔

دو گھنٹے جاری رہنے والی کلاس میں خواتین کو کراٹے کی بھی تربیت دی جاتی ہے۔ مجموعی طور پر یہ تربیتی پروگرام ایک ماہ تک جاری رہتا ہے۔

نائیجریا خواتین پر تشدد، ریپ اور اُنہیں ہلاک کیے جانے کے واقعات کے باعث عالمی شہ سرخیوں میں رہتا ہے۔ خواتین سے جبری مشقت لینے اور اُن سے جنسی غلامی کرانے کی شکایات بھی یہاں عام ہیں۔ 2014 میں نائیجیریا میں سرگرم شدت پسند مذہبی تنظیم نے 276 اسکول کی بچیوں کو اغوا کر لیا تھا۔ عالمی سطح پر اس اقدام کی شدید مذمت کی گئی تھی۔

دو گھنٹے کی اس تربیت کے بعد عدیلہ کا کہنا ہے کہ اس سے اُن کے اعتماد میں اضافہ ہوا ہے۔

کوچ ریحا کہتی ہیں کہ یہ ابتدائی سطح کی تربیت ہے لیکن پھر بھی اس سے خواتین استفادہ کر سکتی ہیں۔ اس سے اُن کے اعتماد میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

نائیجریا کا شمار خواتین کے لیے نویں خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ 2018 میں جاری کی گئی 'تھامسن رائٹرز فاؤنڈیشن' کی رپورٹ کے مطابق دُنیا کے خطرناک ترین ممالک میں بھارت کا پہلا نمبر تھا۔

نائیجریا میں خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم رُکن توپی امیشکا کا کہنا ہے کہ اُنہوں نے پہلے کبھی نہیں سنا تھا کہ نائیجریا میں ایسی کوئی اکیڈمی موجود ہے۔ لیکن دُنیا بھر میں 2017 سے شروع ہونے والی 'می ٹو' مہم کے بعد یہ بحث شروع ہوئی کہ خود کو تشدد سے کس طرح بچایا جا سکتا ہے۔

می ٹو تحریک کا آغاز 2017 میں ہالی وڈ فلم انڈسٹری سے ہوا تھا۔ اس دوران ہالی وڈ کی 18 اداکاراؤں نے فلم پروڈیوسر ہاروی وائنسٹن پر جنسی طور پر ہراساں کیے جانے کے الزامات عائد کیے تھے۔ اس کے بعد دُنیا بھر میں اس نوعیت کے انکشافات کا سلسلہ چل نکلا تھا۔

اکیڈمی میں زیرِ تربیت 39 سالہ موتاناریو نائیو نے کہا کہ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ خواتین کا تحفظ باپ، بھائی یا خاوند کرتا ہے۔ لیکن اب خواتین زیادہ بااختیار ہیں اور بہت سی خواتین اب کام کرتی ہیں۔ لہذٰا اب ہمیں اپنا دفاع خود کرنا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG