رسائی کے لنکس

logo-print

نائیجیریائی صدر نے عہدہ سنبھال لیا


نائیجیریائی صدر نے عہدہ سنبھال لیا

نائجیریائی صدر گڈلک جوناتھن نے اتوار کو اپنی پہلی مکمل مدت کےلیے صدارت کا عہدہ سنبھال لیا ہے

نائجیریائی صدرگڈلک جوناتھن نےاتوارکو اپنی پہلی مکمل مدت کےلیےصدارت کا عہدہ سنبھال لیا اور اِس طرح وہ ملک کےچودھویں سربراہ بن گئے ہیں۔

دارالحکومت ابوجا میں ہونے والی تقریب میں جِس میں اعلیٰ منصب پر فائز ہزاروں شخصیات نے شرکت کی، چیف جسٹس الوسیا کٹسینا الو نے، مسٹر جوناتھن سےاُن کےعہدے کا حلف لیا۔ شرکا میں جمہوریہٴ کانگو، آئیوری کوسٹ، لائبیریا، سنیگال، جنوبی افریقہ اور زمبابوے کے راہنما شامل تھے۔

اپنی افتتاحی تقریر میں نائیجریا کےنئے لیڈر نے ملک سے بدعنوانی کا قلع قمع کرنے،تعلیم کو بہتر بنانے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ افریقہ بھر میں جمہوریت کےحق میں جدوجہد کرنے کا عہد کیا۔ اُنھوں نے کہا کہ وہ سارے نائیجیریائی باشندوں کے جذبات کی نمائندگی کرتے ہیں۔

صدر جوناتھن نے کہا کہ وہ ملک کے تیل کے شعبے کی اصلاح کرنے اور تیل سے مالا مال نائیجر ڈیلٹا کے سابق عسکریت پسندوں کو عام معافی دینےکے پروگرام پرعمل درآمد کا ارادہ رکھتے ہیں۔

مسٹر جوناتھن، سابق لیڈر عمارو موسیٰ یارادوعا کے انتقال کے بعد گذشتہ برس اقتدار میں آئے تھے۔ ملک کے نئے سربراہ کے طور پر اُن کا انتخاب پچھلے ماہ ہونے والے الیکشن میں ہوا تھا جس کے بارے میں اپوزیشن کا کہنا ہے کہ اُس میں دھاندلی کی گئی تھی۔

سابق فوجی حکمراں محمد بوہاری نے انتخابات کو عدالت میں چیلنج کرتے ہوئے کہا کہ الیکشن کمیشن کے کمپیوٹروں کی مدد سے ووٹوں میں دھاندلی کی گئی، جس کے باعث شمالی ریاستوں میں اُن کو ملنے والے ووٹوں کو کم کرکے دکھایا گیا، جب کہ جنوب میں مسٹر جوناتھن کے ووٹوں کی تعداد میں اضافہ کیا گیا۔


تاہم زیادہ تر بین الاقوامی اور ملکی مبصرین کا کہنا ہے کہ صدارتی، گورنری سے متعلق اور پارلیمان کے انتخابات نائجیریا میں اب تک ہونے والے انتخابات میں منصفانہ ترین تھے۔

مسٹر جوناتھن کی انتخابی مہم کے دوران شمال کے مسلمانوں نے اُن کی مخالفت کی تھی، جن کا خیال تھا کہ مسٹر یارادوعا کی جگہ کسی دوسرے مسلمان کا انتخاب ہونا چاہیئے۔

XS
SM
MD
LG