رسائی کے لنکس

logo-print

عراق: حکومت مخالف پرتشدد مظاہروں میں 27 افراد ہلاک


حکومت مخالف احتجاج کا سلسلہ منگل کو شروع ہوا۔

عراق میں حکومت مخالف احتجاج کے دوران پرتشدد واقعات میں ہلاک افراد کی تعداد 27 ہو گئی ہے۔ جب کہ دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں کے دوران درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔

منگل کو بے روزگاری اور ناقص طرز حکمرانی کے خلاف شروع ہونے والے مظاہروں میں اُس وقت شدت آئی جب پولیس اور مظاہرین میں جھڑپوں کے بعد مظاہروں کا سلسلہ دارالحکومت بغداد سے نکل کر ملک کے دیگر حصوں تک پھیلا۔

پولیس اور اسپتال کے ذرائع کا کہنا ہے دارالحکومت بغداد کے شمال میں واقع ایک اور شہر میں مظاہرین پر گولی چلائی گئی جس سے ہلاکتیں ہوئیں۔

جمعرات کے روز بغداد میں مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے سیکیورٹی فورسز نے اشک آور گیس اور زندہ گولیوں کا استعمال کیا۔ خبروں میں بتایا گیا ہے کہ کئی مقامات پر حکام نے مظاہرین کے خلاف پانی پھینکنے والی توپیں اور ربڑ کی گولیاں بھی استعمال کیں۔

جمعرات کے واقعات میں ایک پولیس اہل کار سمیت درجنوں افراد زخمی ہوئے۔

عراق کے وزیرِ اعظم عبدالمہدی نے مزید مظاہروں کے پیش نظر بغداد میں کرفیو لگانے کا حکم دیا ہے۔ ناصریہ اور نجف شہر میں پہلے سے ہی کرفیو نافذ کر دیا گیا ہے۔

مظاہرین کا مطالبہ ہے کہ ملک سے بدعنوانی، بے روزگاری ختم اور عوام کو شہری سہولیات فراہم کی جائیں۔

شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور انہیں روزگار فراہم کیا جائے۔
شہریوں کا مطالبہ ہے کہ ملک سے کرپشن کا خاتمہ کیا جائے اور انہیں روزگار فراہم کیا جائے۔

حکام کے مطابق دو مظاہرین بغداد میں پرتشدد واقعات کے دوران ہلاک ہوئے جب کہ ایک شہری منگل کو ناصریہ میں ہلاک ہوا۔

بدھ کو بھی مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے پولیس نے احتجاج کرنے والوں پر آنسو گیس کے شیل پھینکے۔ جب کہ اس موقع پر ہوائی فائرنگ بھی کی گئی۔

محکمہ صحت کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ بدھ کو مظاہرین اور پولیس کے درمیان جھڑپ کے نتیجے میں پولیس اہل کار سمیت چھ افراد ہلاک ہوئے۔

مظاہرین نے بغداد کے تاریخی تحریر اسکوائر تک جانے کی بھی کوشش کی۔ تاہم پولیس نے اُنہیں روک دیا۔ پولیس نے اس علاقے کی جانب آنے والے راستوں کو مکمل طور پر سیل کر دیا ہے۔

بدھ کو فوج اور دیگر سکیورٹی اداروں کے اہل کاروں کو 'گرین زون' میں تعینات کر دیا گیا تھا۔ جہاں اہم سرکاری عمارتیں اور دوسرے ممالک کے سفارت خانے بھی موجود ہیں۔

گرین زون کا علاقہ 2003 میں امریکہ کے عراق پر حملے کے بعد سے ہی عام شہریوں کے لیے بند ہے۔ تاہم 2016 میں مذہبی رہنما مقتدی صدر نے کارکنوں کے ہمراہ اس علاقے میں احتجاج کیا تھا جس کے باعث سرکاری دفاتر میں کام بند ہو گیا تھا۔

مظاہرین نے بغداد کے گرین زون میں جانے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔
مظاہرین نے بغداد کے گرین زون میں جانے کی کوشش کی جسے ناکام بنا دیا گیا۔

مظاہروں کی کوریج کرنے والے صحافیوں کا کہنا ہے کہ کوریج کے دوران ان کے کچھ ساتھیوں کو سکیورٹی فورسز نے حراست میں لے لیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق نجف اور جنوبی شہر بصرہ میں حکومت کے خلاف مظاہرے ہوئے ہیں۔

عراق کے صدر برہم صالح نے ہلاکتوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا بنیادی حق ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ فریقین صبر و تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے قانون کی پاسداری کو یقینی بنائیں۔

عراق میں تعینات اقوام متحدہ کے مندوب کی جانب سے بھی پرتشدد مظاہروں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

عراق سے متصل دو ایرانی بارڈر پوائنٹ بند

ایران کے حکام نے تصدیق کی ہے کہ عراق میں بد امنی کے باعث ایران نے دو بارڈر کراسنگز بند کر دی ہیں۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی 'مہر' کے مطابق بند کیے گئے بارڈرز میں وہ راستہ بھی شامل جو ایرانی زائرین مقدس مقامات کی زیارت کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

بارڈر گارڈز کے کمانڈر جنرل قاسم رضائی کا کہنا ہے کہ 'خسروی' اور چذیبہ' بارڈز کو بدھ کو بند کر دیا گیا تھا۔ تاہم حکام کا کہنا ہے کہ دیگر کراسنگ پوائنٹ کھلے ہیں جہاں سے زائرین سالانہ اجتماع میں شرکت کے لیے عراق جا سکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG