رسائی کے لنکس

logo-print

پشتون تحفظ تحریک کی حمایت پر ترقی پسند تنظیم کے نو کارکن لاپتا


پاکستان میں سیاسی و سماجی حقوق کے لیے سرگرم بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی نوجوانوں کی ترقی پسند تنظیم کی ایک عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ ان کی تنظیم کے نو ایسے کارکن لاپتا ہو گئے ہیں جنہوں نے پشتون تحفظ موومنٹ ’پی ٹی ایم' کے حق میں ہونے والے مظاہرے میں شرکت کی تھی۔

'پروگریسو یوتھ الائنس' نامی تنظیم کی خواتین ونگ کی سربراہ انعم خان نے کہا کہ ان کے بیس سے زائد کارکنوں نے اتوار کو کراچی میں 'پی ٹی ایم' کے حق میں مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد ان کے سات کارکنوں کو مبینہ طور پر اغوا کر لیا گیا۔

انعم خان نے بدھ کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ ان کی تنظیم نے منگل کو 'پی ٹی ایم' کی حمایت میں اور اپنے لاپتا کارکنوں کی بازیابی کے لیے ایک مظاہرہ کیا تھا جس کے بعد ان کے مزید چار کارکن لاپتا ہو گئے ۔

" گزشتہ اتوار کو ہم نے کراچی میں ایک مظاہرہ میں حصہ لیا۔ اس میں ہمارے بیس پچیس کارکن شامل ہوئے اور جب مظاہرہ ختم ہوا تو ہمارے سات کارکنوں کو اٹھا لیا گیا ۔"

انہوں نے مزید کہا کہ " ہم نے ان کی رہائی کے لیے منگل کو کراچی پریس کلب کے باہر مظاہرہ کیا جس کے بعد سادہ کپڑوں میں ملبوس بعض افراد ان کے چار کارکنوں کو زبردستی گاڑی میں بٹھا کر لے گئے اور ان میں سے دو کو چند گھنٹوں کے بعد چھوڑ دیا گیا۔ لیکن اب بھی ہمارے 9 کارکن حراست میں ہیں۔"

انعم خان نے دعویٰ کیا کہ ان کے لاپتا ہونے والے کارکنوں کو مبینہ طور پر رینجرز اہلکاروں نے حراست میں لیا ہے۔ دوسری طرف رینجر حکام کا کہنا ہے کہ انہیں ایسے کسی واقعہ کی کوئی اطلاع نہیں ہے۔

پاکستان میں انسانی حقوق کے مؤقر ادارے ہیومن رائٹس کمیشن آف پاکستان سے منسلک کامران عارف نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے ہوئے کہا کہ اظہار رائے اور اجتماع کی آزادی ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اُن کے بقول اُن لوگوں کو تحفظ فراہم کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے جو یہ آئینی حق استعمال کرتے ہیں۔

’’ اگر یہ لوگ پکڑے گئے ہیں تو ان لوگوں کو چھوڑ دینا چاہیے اور حکومت کو اس پالیسی پر نظر ثانی کرنی چاہیے۔ جس طرح مظاہرے کرنے والوں اور آزادی اظہار کے حق کو استعمال کرنے والوں سے معاملہ کیا جاتا ہے۔ لوگ انہیں درپیش مسائل و مشکلات کا اظہار کرتے ہیں۔ حکومت کو چاہئیے کہ وہ ان کے مطالبات کو سنے نا کہ ان کے خلاف کارروائی کرے۔"

واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز میں قائم ہونے والی پشتون تحفظ موومنٹ جبری گمشدگیوں کے خاتمے اور ماورائے عدالت قتل جیسے مسائل کے خلاف آواز بلند کر رہی ہے۔ اس تحریک کے رہنماؤں نے گزشتہ اتوار کو پنجاب کے دارالحومت لاہور میں بھی اپنے مطالبات کے حق میں ایک عوامی جلسہ منعقد کیا جس میں پنجاب اور دیگر صوبوں کے سیاسی و سماجی کارکنوں نے شرکت کی اور پشتون تحفط موومنٹ کے مطالبات سے یکجہتی کا اظہار کیا ۔

دوسری طرف بعض حلقوں کی طرف سے پشتون تحفظ موومنٹ کی سرگرمیوں پر تنقید بھی کی جاتی رہی ہے۔ حالیہ ہفتوں کے دوران ملک کے قبائلی اور دیگر علاقوں میں پشتون تحفظ موومنٹ کے خلاف اور فوج کے حق میں مظاہرے بھی ہوئے جن میں اس بات پر زور دیا گیا کہ فاٹا اور وزیرستان سمیت قبائلی علاقوں میں امن کی واپسی پاکستانی فوج کی قربانیوں کی وجہ سے ہوئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG