رسائی کے لنکس

logo-print

موٹرساز کمپنی 'نسان' کا ساڑھے بارہ ہزار کارکن فارغ کرنے کا اعلان


شنگھائی کے ایک آٹو شو میں نسان مکمل طور پر بجلی سے چلنے والی اپنی نئی کار کی نمائش کر رہا ہے۔ یہ کم قیمت کار چین کے لیے تیار کی گئی ہے جس کی فروخت اس سال اگست میں شروع ہو گی۔

جاپان کے ایک بڑے موٹرساز ادارے نے کہا ہے کہ وہ مارچ 2023 تک دنیا بھر میں اپنے ساڑھے بارہ ہزار کارکنوں کو ملازمت سے فارغ کر دے گا۔

موٹرساز کمپنی نسان کی جانب سے 2009 کے بعد یہ کارکنوں کی سب سے بڑی برطرفی ہے جس کی وجہ موٹرگاڑیوں کی فروخت میں کمی، گرتا ہوا منافع اور بڑھتے ہوئے اخراجات ہیں۔

کمپنی کے سی ای او سائی کاوا نے کہا ہے کہ اس اقدام سے کمپنی کی پروڈکشن تقریباً 10 فی صد کم ہو جائے گی۔

معروف ایس یو وی روک اور چھوٹے سائز کی سستی کار ڈاٹسن بنانے والی موٹرساز کمپنی نسان کے کارکنوں کی تعداد مارچ 2018 کے اعداد و شمار کے مطابق ایک لاکھ 38 ہزار تھی۔

سی ای او سائی کاوا نے نسان کے ہیڈکوارٹرز میں نامہ نگاروں کو بتایا کہ ہم اپنی ان تنصیبات کو ہدف بنا رہے ہیں جہاں کم طاقت کی چھوٹی کاریں تیار کی جاتی ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ اس اقدام سے کمپنی کے 14 پلانٹس متاثر ہوں گے۔

خبررساں ادارے رائیٹرز کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ نسان نے کارکنوں میں کٹوتی کے اپنے اس پروگرام میں توسیع کر دی ہے جس کا اعلان اس نے ابتدائی طور پر مئی میں کیا تھا۔ اس اقدام سے اس کے 8 پلانٹس متاثر ہوں گے جو سپین، انڈونیشیا، میکسکو، روس، فرانس اور تھائی لینڈ میں واقع ہیں۔ سپین کے پلانٹ میں ٹرک اور دین تیار کی جاتی ہیں، جب کہ انڈونیشیا میں چھوٹے سائز کی کاریں بنتی ہیں۔

تخمینہ لگایا گیا ہے کہ ان کٹوتیوں سے کمپنی کے اخراجات میں تقریباً 40 ارب ین کی کمی ہو گی۔

موٹرساز ادارے کا کہنا ہے کہ عالمی سطح پر سن 2023 تک موٹر گاڑیوں کی پیداوار میں 10 فی صد کمی ہو گی جب کہ اس عرصے کے دوران دنیا بھر میں گاڑیوں کی فروخت بڑھ کر 60 لاکھ تک پہنچ جائے گی جو اس وقت تقریباً 55 لاکھ یونٹ ہے۔

نسان کا اندازہ ہے کہ اسے مارچ 2020 تک 230 ارب ین کا منافع حاصل ہو گا جو نہ صرف پچھلے سال کے مقابلے میں 28 فی صد کم ہے بلکہ گزشتہ دس سال کے دوران کم ترین منافع ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG