رسائی کے لنکس

بی جے پی کے ساتھ مل کر نتیش کمار نے پھر حکومت بنالی

  • سہیل انجم

نتیش پہلے بھی بی جے پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت چلا چکے ہیں۔ اُس بار بھی سشیل مودی ان کے نائب تھے۔ نتیش چھٹی مرتبہ بہار کے وزیر اعلی کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں وہ اپنی اکثریت ثابت کریں گے

جنتا دل۔یو کے لیڈر نتیش کمار کو بہار کے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دیے ابھی ایک روز بھی نہیں گزرا تھا کہ انھوں نے جمعرات کے روز پھر وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لے لیا۔ اس بار انھوں نے بی جے پی کی حمایت سے حکومت بنائی ہے۔ بی جے پی لیڈر سشیل مودی نے بھی ان کے ساتھ نائب وزیر اعلیٰ کے عہدے کا حلف لیا۔

نتیش پہلے بھی بی جے پی کے ساتھ مل کر مخلوط حکومت چلا چکے ہیں۔ اُس بار بھی سشیل مودی ان کے نائب تھے۔ نتیش چھٹی مرتبہ بہار کے وزیر اعلی کے عہدے پر فائز ہوئے ہیں۔ جمعہ کے روز اسمبلی کا خصوصی اجلاس طلب کیا گیا ہے جس میں وہ اپنی اکثریت ثابت کریں گے۔

انھوں نے راشٹریہ جنتا دل کے لیڈر لالو یادو اور ان کے بیٹے اور نائب وزیر اعلیٰ تیجسوی یادو کے ساتھ مالی بدعنوانی کے معاملے پر شدید اختلافات کی وجہ سے بدھ کی شام کو اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔

تھوڑی دیر کے بعد انھوں نے حکومت سازی کے لیے بی جے پی سے ہاتھ ملا لیا۔ وہ ایک بار پھر این ڈی اے میں شامل ہوگئے۔ انھیں جنتا دل یو اور این ڈی اے کا لیڈر منتخب کیا گیا اور انھوں نے رات ہی میں سشیل مودی کے ساتھ گورنر ہاؤس جا کر حکومت سازی کا دعویٰ پیش کر دیا۔ 243 رکنی اسمبلی میں حکومت سازی کے لیے 122 ارکان کی حمایت ضروری ہے۔ جنتا دل یو اور بی جے پی کو ملاکر ان کے پاس 132 ارکان ہیں۔

لالو یادو نے نتیش کمار کے خلاف شدید رد عمل ظاہر کرتے ہوئے انھیں سیاسی موقع پرست قرار دیا اور کہا کہ انھوں نے بہار کے عوام کو دھوکہ دیا ہے۔ کانگریس نے بھی سخت رد عمل ظاہر کیا۔ نائب صدر راہل گاندھی نے کہا کہ انھیں پتہ چل گیا تھا کہ نتیش کمار تین چار مہینے سے اس کا منصوبہ بنا رہے تھے۔ انھوں نے الزام لگایا کہ نتیش نے اپنے ذاتی مفاد کے لیے سیکولر قوتوں کو دھوکہ دیا ہے۔

سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق نتیش کا یہ قدم وزیر اعظم نریندر مودی کی فتح ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جو کچھ ہوا وہ بظاہر طے شدہ تھا۔ سیاسی تجزیہ کار آلوک موہن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے اسے سیکولر طاقتوں کی زبردست شکست قرار دیا۔

انھوں نے کہا کہ ”نتیش کمار اگرچہ پھر وزیر اعلی بننے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ لیکن، حقیقت یہ ہے کہ وہ اپنی سیاسی اننگ ہار چکے ہیں۔ انھوں نے نہ صرف عظیم اتحاد کو دھوکہ دیا ہے بلکہ ہندوستان کی سیکولر جماعتوں کو بھی دھوکہ دیا ہے۔ وقت آگیا ہے کہ ملک بھر کی تمام سیکولر قوتیں ایک منچ پر آئیں اور فرقہ پرست قوتوں کے خلاف ایک ملک گیر اتحاد قائم کریں“۔

بیس ماہ قبل اسمبلی انتخابات پہلے راشٹریہ جنتا دل، جنتا دل یو اور کانگریس نے بی جے پی کے خلاف ایک عظیم اتحاد قائم کیا تھا جس نے الیکشن میں بی جے پی کو شرمناک شکست سے دوچار کیا تھا۔ نتیش کمار کا نام اپوزیشن کی طرف سے وزیر اعظم کے عہدے کے لیے بھی اچھلتا رہا ہے۔ سمجھا جا رہا تھا کہ وہ 2019 کے پارلیمانی انتخابات میں وزیر اعظم نریندر مودی کے سامنے ایک چیلنج بن کر ابھریں گے۔

دریں اثنا، نتیش کے حلف لینے کے فوراً بعد ’انفورسمنٹ ڈائرکٹوریٹ‘ نے لالو یادو اور ان کے اہل خانہ کے خلاف یو پی اے حکومت کے دوران ریلوے کے ایک ہوٹل کے الاٹمنٹ کے سلسلے میں مالی بے ضابطگی کا مقدمہ درج کرا دیا، جبکہ سی بی آئی پہلے ہی ان کے خلاف کارروائی کر رہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG