رسائی کے لنکس

logo-print

کیا چیئرمین سینٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد کامیاب ہو گی؟


اپوزیشن کی آل پارٹیز کانفرنس۔ اسلام آباد، 26 جون 2019

متحدہ اپوزیشن کی بنائی گئی رہبر کمیٹی کی طرف سے اعلان کیا گیا ہے کہ 9 جولائی کو چیئرمین سینیٹ کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائے جائے گی۔ جبکہ 11 جولائی کو اپوزیشن چیئرمین سینیٹ کے لئے مشترکہ امیدوار کا اعلان کرے گی۔

بلاول بھٹو زرداری کی حکومت مخالف تقاریر اور مریم نواز کی حکومت مخالف جارحانہ پالیسی اپنانے کے بعد یہ بات غور طلب ہے کہ چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کر کے اپوزیشن کیا مقاصد حاصل کرنا چاہتی ہے؟ جس کو منتخب کرنے کے لئے کبھی پاکستان مسلم لیگ نواز اور پاکستان پیپلز پارٹی مدّ مقابل تھیں۔

اپوزیشن کی اس کوشش سے لگتا ہے کہ وہ چیئرمین سینٹ تبدیل کر کے سینٹ میں اپنی حاکمیت ثابت کرنا چاہتی ہے۔ جس سے ایک پیغام یہ بھی جائے گا کہ تحریک انصاف کے پاس چاہے قومی اسمبلی میں اکثریت ہے۔ لیکن سینیٹ میں اکثریت اپوزیشن کے پاس ہے۔ جس کی منظوری کے بغیر کسی بھی قسم کی نئی قانون سازی نہیں ہو سکتی۔

مبصرین کے مطابق اس تبدیلی کی وجہ اپوزیشن رہنماؤں کے خلاف ہونے والا احتساب بھی ہے اور اپوزیشن کو چیئرمین سینیٹ کی تبدیلی سے کچھ ریلیف مل سکتا ہے۔

سیاسی تجزیہ کار یہ بھی کہتے ہیں کہ چیئرمین سینیٹ کو تبدیل کرنے کا ایک ممکنہ مقصد یہ بھی ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے خواہش پر صادق سنجرانی کو چیئرمین منتخب کروایا تھا۔ جنھیں تبدیل کر کے پیپلز پارٹی اسٹیبلشمنٹ کو ماضی میں قائم تعلق کو ختم کرنے کا پیغام دینا چاہتی ہے۔ اور اس کے بعد یہ بات عیاں ہو جائے گی کہ اب اپوزیشن کی اسٹیبلشمنٹ سے کسی بھی قسم کی کوئی ڈیل نہیں ہے۔ یعنی کہ اپوزیشن اسٹیبلشمنٹ کے مقابلے میں کھل کر سامنے آجائے گی۔

اس وقت سینٹ کے ارکان کی کل تعداد 103 ہے۔ جس میں سے 30 آزاد ہیں۔ حکمران جماعت تحریک انصاف کے 14, حکومتی اتحاد میں شامل ایم کیو ایم کے 5، بلوچستان عوامی پارٹی کے 2، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل کا 1 اور پاکستان مسلم لیگ فنکشنل کا 1 سینیٹر ہے۔ اس طرح حکومتی الائنس کے سینیٹرز کی تعداد 23 ہے۔

اپوزیشن جماعتوں میں پاکستان پیپلز پارٹی کے 20، پاکستان مسلم لیگ نواز کے 16، نیشنل پارٹی کے 5، جمیعت علما اسلام فضل الرحمان کے 4، جماعت اسلامی کے 2، پختونخوا ملی عوامی پارٹی کے 2 اور عوامی نیشنل پارٹی کا 1سینیٹر شامل ہے۔ اس طرح اپوزیشن کے سینیٹرز کی تعداد 50 بنتی ہے۔ یاد رہے کہ اس وقت سینیٹرز کی کل تعداد 103 ہے اور تحریک عدم اعتماد کامیاب کرنے کے لئے اپوزیشن کو 53 سینیٹرز کی سپورٹ درکار ہوگی۔

اپوزیشن کی تحریک عدم اعتماد کے مقاصد کے بارے میں سوال پر جمہوریت اور پارلیمنٹ پر ریسرچ کرنے والے ادارے پلڈاٹ کے سربراہ احمد بلال محبوب کا کہنا ہے کہ سیاست میں مفادات ہی مقاصد ہوتے ہیں اور ہوسکتا ہے کہ پیپلز پارٹی کو جو امیدیں چیئرمین سینیٹ سے وابستہ تھیں۔ وہ پوری نا ہوئی ہوں۔ جس کی وجہ سے ان کے خلاف تحریک عدم اعتماد لائی جارہی ہے۔

سینٹ میں حکومتی، اپوزیشن اور آزاد سینیٹرز کی تعداد کے بارے میں کئے گئے سوال کے جواب میں احمد بلال محبوب کا کہنا تھا کہ 2018 کے سینٹ انتخابات میں مسلم لیگ نواز کے چند سینیٹرز کو آزاد حیثیت میں لڑوایا گیا تھا۔ اس وجہ سے اپوزیشن اتحاد میں مزید 5 یا 6 آزاد سینیٹرز کو بھی شامل کرنا ہوگا۔ جس کے بعد اپوزیشن کے سینیٹرز کی تعداد 57 تک ہوسکتی ہے۔

اس تحریک عدم اعتماد کے کامیاب ہونے یا نا ہونے سے متعلق سوال کے جواب میں احمد بلال صوفی کا کہنا ہے کہ بہت امکان ہے کہ پس پردہ طاقتیں اس تحریک کو کامیاب نا ہونے دیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ تحریک عدم اعتماد کے لئے مطلوبہ تعداد پوری کرنا اپوزیشن کی ذمہ داری ہوگی۔ جبکہ حکومتی اتحاد کی کوشش ہوگی کہ یہ تعداد پوری نا ہو سکے۔ ممکن ہے کہ اس دن چند سینیٹرز بیمار ہو جائیں۔

پلڈاٹ کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ چونکہ خفیہ رائے شماری ہوتی ہے۔ اس لئے کسی پر بھی الزام نہیں لگایا جاسکتا کہ اس نے پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی کی ہے۔ ایسی صورتحال میں اگر تحریک عدم اعتماد منظور ہوتی ہے تو اپوزیشن کے لئے یقیناً شرمندگی کا باعث بنے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG