رسائی کے لنکس

'مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں قیامِ امن ممکن نہیں'


شاہ محمود قریشی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔
شاہ محمود قریشی جنرل اسمبلی سے خطاب کر رہے ہیں۔

اردو میں کیے جانے والے خطاب میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ جمو ں و کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کے قیام کی راہ میں ان کے بقول سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن کا قیام ممکن نہیں ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے یہ بات ہفتے کی شام اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔

اردو میں کیے جانے والے خطاب میں وزیرِ خارجہ نے کہا کہ جمو ں و کشمیر کے مسئلے کا حل نہ ہونا پاکستان اور بھارت کے درمیان پائیدار امن کے قیام کی راہ میں ان کے بقول سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔

شاہ محمود قریشی نے مزید کہا کہ گزشتہ 70 سال سے یہ مسئلہ اقوامِ متحدہ اور سلامتی کونسل کے ایجنڈے پر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق سے متعلق کمشنر کی کی رپورٹ کا خیر مقدم کرتا ہے جس میں بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں کا ذکر کیا گیا ہے۔

ان کے بقول پاکستان اس رپورٹ کی تائید کرتا ہے اور اقوامِ متحدہ سے مطالبہ کرتا ہے کہ ان معاملات کی چھان بین کے لیے ایک تحقیقاتی کمیشن تشکیل دیا جائے۔

اپنے خطاب میں شاہ محمود قریشی کا مزید کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کے قراردادوں اور کشمیری عوام کی خواہشات کے مطابق کشمیر کے مسئلے کے منصفانہ حل کے بغیر جنوبی ایشیا میں پائیدار امن قائم نہیں ہوسکتا ہے۔

پاکستانی وزیر خارجہ نے پاک بھارت تعلقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان بھارت کے ساتھ برابری کی بنیاد پر تعلقات استوار کرنے کا خواہاں رہا ہے اور مربوط اور سنجیدہ مذاکرات کے ذریعے تمام تنازعات کا حل چاہتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اور بھارت کے وزرائے خارجہ کے درمیان جنرل اسمبلی کے اجلاس کے موقع پر ملاقات تمام معاملات پر بات چیت کرنے کا ایک اچھا موقع تھا۔

لیکن شاہ محمود قریشی کے بقول مودی حکومت کے منفی رویے کی وجہ سے یہ موقع تیسری دفعہ گنوا دیا گیا اور مودی حکومت نے امن پر سیاست کو فوقیت دی۔

XS
SM
MD
LG