رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان پر امریکی ویزہ پابندی کی ’تجویز زیر غور نہیں‘


نفیس ذکریا نے کہا کہ ’’ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہمیں یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ پاکستان کو ویزہ پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔‘‘

پاکستان کی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے جمعرات کو ہفتہ وار نیوز بریفنگ میں کہا کہ نئی امریکی انتظامیہ نے یہ یقین دہانی کروائی ہے کہ پاکستانی شہریوں پر ویزہ پابندی سے متعلق کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔

صدر ٹرمپ کے انتظامی حکم نامے کے تحت ایران، عراق، لیبیا، صومالیہ، سوڈان، شام اور یمن کے شہریوں کے امریکہ آنے پر 90 دن کی پابندی عائد کی گئی تھی، اگرچہ پاکستان اس فہرست میں شامل نہیں لیکن ان خدشات کا اظہار کیا جا رہا ہے کہ ممکنہ طور پر اس کو بھی فہرست میں شامل کیا جا سکتا ہے۔

واضح رہے کہ صدر ٹرمپ کے اس انتظامی حکم نامے پر امریکی عدالت کے ایک جج نے عمل درآمد روک دیا تھا اور اب یہ معاملہ عدالت میں ہے۔

پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان نفیس ذکریا نے کہا کہ ’’ہم نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ رابطے میں ہیں اور ہمیں یہ یقین دہانی کروائی گئی ہے کہ پاکستان کو ویزہ پابندی کی فہرست میں شامل کرنے کی کوئی تجویز زیر غور نہیں ہے۔‘‘

اُنھوں نے کہا کہ اس بارے میں اسلام آباد میں امریکی سفارت خانے کی طرف سے بھی ایک واضح بیان سامنے آ چکا ہے۔

نفیس ذکریا نے کہا کہ ’’پاکستان اور امریکہ کے درمیان متواتر اعلیٰ سطحی رابطے ہیں اور ہمیں اُمید ہے کہ آنے والے وقت میں ان میں مزید تیزی آئے گی۔‘‘

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے پاکستانی وزیراعظم نواز شریف کے معاون خصوصی برائے اُمور خارجہ طارق فاطمی نے امریکہ کے سفیر ڈیوڈ ہیل سے ملاقات کی تھی، جس میں دوطرفہ روابطہ کا جائزہ لیا گیا۔

طارق فاطمی نے دونوں ملکوں کے درمیان اقتصادی اور سکیورٹی سے متعلق شعبوں میں روابط بڑھانے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں ملکوں کے مل کر کام کرنے سے نا صرف دہشت گردی کے خلاف جنگ میں تعاون بڑھے گا، بلکہ اس سے خطے میں امن و سلامتی کی کوششوں کو تقویت ملے گی۔

صدر ٹرمپ کی انتظامیہ کی طرف سے سات ممالک کے شہریوں کے لیے تین ماہ کی ویزہ پابندی کے بارے میں پاکستانی وزارت خارجہ کے ترجمان یہ کہہ چکے ہیں کہ یہ ہر ملک کا حق ہے کہ وہ اپنی امیگریشن پالیسی کا تعین کرے۔

صدر ٹرمپ کی انتخابات میں کامیابی اور منصب صدارت سنھبالنے کے بعد پاکستان کی حکومت کی طرف سے سامنے آنے والے بیانات میں نئی امریکی انتظامیہ کے ساتھ دہشت گردی کے خلاف جنگ سمیت باہمی دلچسپی کے دیگر اُمور پر مل کر کام کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ امریکہ میں داخلے سے متعلق انتظامی حکم نامے کا تعلق کسی مذہب سے تعلق رکھنے والوں سے نہیں ہے بلکہ یہ اقدام ’’دہشت گردی‘‘ کو روکنے اور امریکہ کو محفوظ بنانے کے لیے کیا گیا۔

وائٹ ہاؤس کے ایک بیان میں یہ بھی کہا گیا تھا کہ دنیا کے 40 سے زائد مسلمان ممالک ایسے ہیں جو انتظامی حکم نامے سے متاثر نہیں ہوئے۔

XS
SM
MD
LG