رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کی بھارتی قسم کے پاکستان میں پھیلنے کے شواہد نہیں ملے: حکام


فائل فوٹو

پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ بھارت میں سامنے آنے والی کرونا وائرس کی نئی قسم کے پاکستان میں پھیلنے کے شواہد نہیں ملے تاہم یہ خطرہ بدستور برقرار ہے۔

پاکستان میں کرونا وائرس ٹاسک فورس کے سربراہ ڈاکٹر عطا الرحمن نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ بات وثوق سے نہیں کی جا سکتی کہ بھارتی وائرس کی نئی قسم پاکستان میں نہیں آئی کیوں کہ اب تک محدود پیمانے پر جنیٹک ٹیسٹنگ (جینیائی جانچ) کی گئی ہے۔

تاہم عطا الرحمن کہتے ہیں کہ بھارت میں پائے جانے والے وائرس کے پاکستان میں آنے کے شدید خطرات موجود ہیں کیوں کہ وائرس کی یہ نئی قسم خطے اور دنیا کے کئی ممالک میں پہلے ہی پھیل چکی ہے۔

دریں اثنا عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے بھی کہا ہے کہ دنیا کے درجنوں ممالک میں بھارت میں پائے جانے والی کرونا وائرس کی قسم سامنے آئی ہے۔

بدھ کو جاری ہونے والے ایک بیان میں ڈبلیو ایچ او کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی قسم B.1.617 سب سے پہلے اکتوبر میں بھارت میں پائی گئی تھی اور اب ڈبلیو ایچ او کے تمام چھ ریجنز کے 44 ممالک کے چار ہزار پانچ سو سے زائد نمونوں میں اس قسم کی تشخیص ہوئی ہے۔

ڈاکٹر عطا الرحمن کہتے ہیں کہ اس نئی قسم کے وائرس کے پاکستان آنے کے خطرے کے پیشِ نظر بھارت کے ساتھ سرحدیں بند کر دی گئی ہیں۔ تاہم وہ کہتے ہیں کہ یہ خطرہ بدستور موجود ہے کیونکہ وبا کی یہ نئی قسم بہت تیزی سے پھیلتی ہے اور اگر یہ پاکستان میں آ جاتی ہے تو ہمارے حالات بھی بھارت سے مختلف نہیں ہوں گے۔

پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں حالیہ دنوں میں ٹھیراؤ دیکھا جارہا ہے اور مثبت کیسز کی شرح کم ہو کر 7.42 فی صد تک آ گئی ہے۔

حکومت کی جانب سے عید کے موقع پر لاک ڈاؤن کا نفاذ کیا گیا ہے اور ماہرین کو امید ہے کہ اس پر عمل درآمد کی صورت میں وبا پر مزید قابو پالیا جائے گا۔

تیس سال سے زائد افراد کی رجسٹریشن کا آغاز

پاکستان کی حکومت نے سرکاری سطح پر لگائی جانے والی ویکسین کے لیے اہل افراد کی عمر 30 اور اس سے زائد سال تک کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور اس حوالے سے رجسٹریشن کا آغاز آئندہ اتوار سے کیا جا رہا ہے۔

بدھ کو ایک ٹوئٹ میں وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی اور نیشنل کمانڈ اینڈ کنٹرول سینٹر (این سی او سی) کے سربراہ اسد عمر کا کہنا تھا کہ ملک میں ویکسین کی دستیابی میں اضافہ ہو رہا ہے اور تمام صوبوں میں اس کی استعداد بڑھ رہی لہذا ویکسین لگوانے کے اہل افراد کی درجہ بندی میں مزید لوگوں کو شامل کیا جا رہا ہے۔

ویکسین لگوانے کے لیے شہریوں کو شناختی کارڈ نمبر 1166 پر پیغام بھیج کر رجسٹریشن کرانا ہوگی جس کے بعد رجسٹریشن کا عمل مکمل ہونے کا جوابی پیغام موصول ہو گا۔

اس سے قبل گزشتہ ماہ 27 اپریل سے 40 سال سے زائد عمر کے پاکستانی شہریوں کے لیے کرونا ویکسین کی رجسٹریشن کا آغاز کیا گیا تھا۔

پاکستان کی وفاقی حکومت نے تمام شہریوں کو مفت ویکسین فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے اور اس ضمن میں رواں برس کے آخر تک سات کڑور افراد کو ویکسین لگانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔

پاکستان نے دو فروری کو چین کی جانب سے فراہم کی گئی 'سائنو فارم' ویکسین سے ملک میں ویکسی نیشن مہم کا آغاز کیا تھا۔

حکومت نے مرحلہ وار بنیاد پر ویکسین لگانے کا پروگرام ترتیب دے رکھا ہے اور اس سے قبل ملک میں چار مراحل میں ویکسین لگائی گئی۔

پہلے مرحلے میں ڈاکٹرز اور طبی عملے کو ویکسین لگانے کا آغاز دو فروری کو ہوا، دوسرے مرحلے میں 60 سال سے زائد عمر کے بزرگ شہریوں کو کرونا ویکسین لگائی گئی جب کہ تیسرے اور چوتھے مرحلے میں 50 اور 40 برس سے زائد افراد کی ویکسی نیشن کا عمل شروع کیا گیا۔

سرکاری سطح کے علاوہ حکومت نے نجی کمپنیوں کو بھی ویکسین درآمد کرنے کی اجازت دے رکھی ہے۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ) نے وفاقی کابینہ کی منظوری سے روسی اور چینی کمپنیوں کی ویکسین کی قیمتیں بھی مقرر کی ہوئی ہیں۔

پاکستان میں 38 لاکھ افراد کی کرونا ویکسی نیشن مکمل

این سی او سی کے مطابق 11 مئی تک ملک بھر میں 38 لاکھ سے زائد افراد کو ویکسین لگائی جا چکی ہے.

حکومت کے مطابق ملک میں 18 سال سے زیادہ عمر کے افراد کی آبادی کے 70 فی صد کو ویکسین کی خوراکیں مفت مہیا کی جائیں گی جو کہ 10 کروڑ سے کچھ زیادہ تعداد بنتی ہیں۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک پاکستان میں کرونا وائرس کے مجموعی طور پر ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ کیس رپورٹ ہوئے ہیں جب کہ مجموعی ہلاکتوں کی تعداد 19 ہزار سے زیادہ ہو چکی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG