رسائی کے لنکس

logo-print

ادب کا نوبیل انعام اولگا توکارچک اور پیٹر ہینڈکی نے جیت لیا


ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے دو مصنفین (بائیں) پیٹر ہینڈکی، (دائیں) اولگا ٹوکارچک، 10 اکتوبر 2019

سویڈن کی نوبیل اکیڈمی نےادب کے شعبے کا نوبیل انعام دو مصنفین اولگا توکار چک اور پیٹر ہینڈکی کو دینے کا اعلان کیا ہے۔ ٹوکار چک کا تعلق پولینڈ سے جب کہ ہینڈلی کا آسٹریا سے ہے۔

توکار چک کو 2018 کا نوبیل انعام دیا گیا ہے جو پچھلے سال بعض اعتراضات کی بنا پر ملتوی کر دیا گیا تھا، جس کا اعلان اب کیا گیا ہے؛ جب کہ پیٹر ہنڈلی کو اس سال کے ادبی انعام کا حق دار قرار دیا گیا ہے۔

سٹاک ہوم میں قائم سویڈش اکیڈمی کے مستقل سیکرٹری میٹس مالم نے جمعرات کے روز بتایا کہ نوبیل انعام حاصل کرنے والے دونوں ادیبوں کو اطلاع دے دی گئی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پیٹر ہینڈکی کو جب یہ خبر دی گئی تو وہ اپنے گھر میں موجود تھے، جب کہ توکارچک ایک ادبی دورے پر جرمنی میں تھیں۔ جب انہیں فون کیا گیا تو وہ اپنی کار میں سفر کر رہی تھیں۔ انہوں نے اپنی گاڑی سڑک کے کنارے روک کر یہ خبر سنی۔

سویڈش اکیڈمی کے سیکرٹری میٹس مالم ادب کا نوبیل انعام جیتنے والے مصنفیں کے ناموں کا اعلان کر رہے ہیں۔ 10 اکتوبر 2019
سویڈش اکیڈمی کے سیکرٹری میٹس مالم ادب کا نوبیل انعام جیتنے والے مصنفیں کے ناموں کا اعلان کر رہے ہیں۔ 10 اکتوبر 2019

اولگا توکارچک کی عمر 57 سال ہے۔ انعامی کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ انعام زندگی کی حدد و قیود سے متعلق ان کے تصوراتی بیانیے کی ہمہ گیریت کا اعتراف ہے۔

توکارچک صرف ایک ادیب اور مصنفہ ہی نہیں بلکہ ایک ایکٹوسٹ، دانش ور اور پولینڈ کی سیاست کی نقاد بھی ہیں۔ وہ ترقی پسند نظریات رکھتی ہیں اور خواتین کے حقوق، آب و ہوا اور ماحول کو درپیش مسائل کے حل کے لیے بھی سرگرمی سے کام کر رہی ہیں۔

ہینڈکی کی عمر 76 سال ہے۔ انعامی کمیٹی کے مطابق انسانی تجربات سے متعلق ان کی دل پذیر تحریر اور زبان کا ہنرمندی سے استعمال انہیں اس اعزاز کا مستحق ٹھہراتا ہے۔

پولینڈ سے تعلق رکھنے والے اس مصنف کو پچھلے سال اپنے ملک میں ان کی کتاب’ فلائٹس‘ پر انٹرنیشنل بکر پرائز (International Booker Prize) دیا گیا تھا۔ حال ہی ان کی اس کتاب کا انگریزی ترجمہ شائع ہوا ہے جس کی وجہ سے اس سال بھی انٹرنیشنل بکر پرائز کی حتمی فہرست میں ان کا نام شامل کیا گیا ہے۔

سویڈش اکیڈمی کے ایک رکن اینڈرز اولسن نے ہینڈکی کے انداز تحریر پر اپنے تبصرے میں کہا ہے کہ ان کا کام انسانوں کی نقل مکانی اور ثقافتی تغیر و تبدلی پر مرکوز ہے۔ ان کے انداز سے فراست و دانائی اور ہنرمندی جھلکتی ہے۔

آسٹریا میں پیدا ہونے والے ہینڈکی اب فرانس میں رہتے ہیں ۔ وہ افسانے، ریڈیو ڈرامے اور فکشن بھی لکھتے ہیں۔ حالیہ عرصے میں یوگوسلاویہ کے آنجہانی صدر سلوبوڈن موسووچ کی حمایت میں اپنے بیانات کی بنا پر وہ تنقید کی زد میں رہے کیونکہ موسووچ اپنے انتقال سے پہلے جیل میں تھے اور ان کے خلاف انسانیت کے خلاف جرائم کے الزامات پر مقدمہ چل رہا تھا۔

ادب کے شعبے میں نوبیل انعام کے اجرا سے اب تک یہ ایوارڈ 116 ادیبوں کو دیا جا چکا ہے جن میں خواتین کی تعداد صرف 15 ہے۔

ادب کا نوبیل انعام زیادہ تر انگریزی زبان کی کتابوں نے جیتا ہے جن کی تعداد 29 ہے۔ اس کے بعد فرانسیسی اور جرمن زبانوں کا نمبر آتا ہے۔ ان دونوں زبانوں کی 14 /14 کتابیں نوبیل انعام جیت چکی ہیں، جب کہ تیسرے نمبر پر ہسپانوی ہے جس کی 11 کتابیں اس عالمی اعزاز کی حق دار ٹھہرائی جا چکی ہیں اور چوتھے نمبر پر سویڈش ہے جس کی 7 کتابیں نوبیل جیت چکی ہیں۔

ادب کا نوبیل انعام حاصل کرنے والے ان دونوں ادیبوں کو اس سال دسمبر میں سٹاک ہوم میں ایک تقریب کے دوران میڈل کے ساتھ نو لاکھ 18 ہزار ڈالر کے لگ بھگ انعامی رقم بھی ملے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG