رسائی کے لنکس

logo-print

'پی ٹی ایم سے غیر پشتون مظلوموں کو بھی امید ہے'


پشتون تحفظ موومنٹ (پی ٹی ایم) کو ایک برس مکمل ہو گیا ہے اور اس ایک برس میں اس نے پختون خوا سمیت ملک کے دیگر مقامات میں کامیاب جلسے منعقد کئے ہیں جن میں لاہور، کوئٹہ اور کراچی بھی شامل ہیں۔

ان علاقوں میں اس تحریک کو مقامی حمایت بھی حاصل رہی جن میں پنجابی، سندھی اور بلوچ بھی شامل ہیں۔

وائس آف امریکہ نے غیر پشتون دانشوروں کی جانب سے پشتون تحفظ موومنٹ کی حمایت کی وجوہات جاننے کے لئے جب پروفیسر اور دانشور عمار علی جان سے بات کی تو ان کا کہنا تھا کہ پاکستان میں جمہوری حلقے جمہوری قدروں کی مضبوطی کا خواب دیکھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ پاکستان میں احتساب سب کے لئے ہو اور کوئی بھی مقدس گائے نہ ہو۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم کی یہ خصوصیت ہے کہ انہوں نے یہ خاموشی توڑی اور انہوں نے وہ نام لیے جو لوگ ڈر کے مارے نہیں لے سکتے تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے غیر پشتون دانشور ایک مضبوط وفاق دیکھنا چاہتے ہیں جو جمہوری ہو۔ اس کے لئے لوگوں کی شکایات کو سننا اور اس کا حل تلاش کرنا بہت ضروری ہے۔ جب ریاستی ادارے شکایت کرنے کو بغاوت اور غداری سے ملانے لگ جاتے ہیں تو پھر نہ وفاق باقی رہتا ہے اور نہ جمہور۔

ان کا کہنا تھا کہ ہماری پوزیشن یہ ہے کہ جو لوگ تنقید کرتے ہیں انہیں باغی نہ کہیں۔ ساری دنیا میں ریاستی پالیسیوں پر تنقید ہوتی ہے۔ ایسے میں یہ بھی دیکھنا چاہئے کہ ریاست کی جانب سے بھی بہت زیادتیاں ہوئی ہیں جن میں ماورائے عدالت قتل اور جبری گمشدگیاں شامل ہیں۔ ایسے میں اگر کوئی تنقید میں حد سے بڑھ بھی جاتا ہے تو برداشت کرنا چاہئے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہاں پر بہت سی اقوام کے دکھ مشترکہ ہیں۔ سوشلسٹ تحریک کے جنرل سیکرٹری حسن ناصر کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ سندھی ہو، بلوچ، بنگالی یا پنجابی، سب ہی اس دکھ کو جانتے ہیں۔

عاصمہ جہانگیر نے بھی اپنی آخری تقریر پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے کی۔ تو یہ جبر ہمیں جوڑتا ہے اور اس کے خلاف جرات مندانہ مزاحمت کی روایات بھی ہمیں جوڑتی ہیں۔

سندھی دانشور امر سندھو کا کہنا تھا کہ غیر پشتون دانشوروں کی حمایت کی پہلی وجہ تو اس تحریک کی قیادت نوجوان ہے جو نہ روایتی سرداری نظام کی پیداوار ہے اور نہ ہی پرانے سیاسی نظام سے اس کا تعلق ہے۔

انہوں نے کہا کہ پی ٹی ایم نے جبری گمشدگیوں کا جو مسئلہ اٹھایا ہے اس سے پنجاب کو اگر نہ بھی کہیں تو مگر سندھ اور بلوچستان اس کا بہت زیادہ شکار ہیں۔ مگر ان کی سیاسی قیادت اس پر جرات مندانہ آواز نہیں اٹھا رہی تھی۔ اس صورت حال میں پشتون موومنٹ جب تحریک بنی تو اسے بلوچستان اور سندھ میں بڑی پزیرائی ملی۔

ان کا کہنا تھا کہ اس تحریک کی کامیابی کی دوسری وجہ اس کا ریاست کی جانب سے تمام تر مشکلات کے باوجود عدم تشدد پر گامزن اور سیاسی رہنا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم دیکھتے ہیں کہ پی ٹی ایم کے پلیٹ فارم سے جن لوگوں کو بولنے کا موقع ملتا ہے، وہ ایسے خاندان ہیں جن کی آواز کو دبایا گیا اور ان کے مسائل کسی ایجنڈے پر مبنی نہیں ہیں۔ تو ایسی تحریک کو عوامی مقبولیت حاصل ہوتی ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ عوامی مقبولیت جب اپنےخطے میں ملتی ہے تو دوسرے غیر پشتون دانشوروں کے لئے انسپائرنگ ہے کہ یہ ایسی لیڈرشپ ہے جو لوگوں کی آواز ہے۔ جہاں بھی عوامی تحریک آتی ہے وہاں اسے دوسرے علاقے کے لوگوں سے حمایت ملے نہ ملے مگر اخلاقی طور پر وہ اپنا سپورٹ سسٹم جمع کر لیتی ہے۔

’’چونکہ وہ نان وائلنٹ ہے، عوامی مقبولیت رکھتی ہے، نڈر ہے اور ریاستی جبر کا شکار ہو رہی ہے لیکن وہ کھڑی ہوئی ہے۔‘‘

انہوں نے کہا کہ جو غیر پشتون ہیں، وہاں بھی ایسی لیڈر شپ کی ضرورت ہے، اسی لئے ان کو لگتا ہے کہ اس تحریک کا نام پشتون ہے مگر یہ ان تمام لوگوں کی آواز ہے جو ریاستی تشدد کا شکار ہیں، جن کی آواز دبائی گی ہے۔ جن کے پاس مسنگ ہرسنز کی لسٹ بہت زیادہ ہے مگر ان لوگوں کے لئے مقامی لیڈرشپ اس جرات سے آگے نہیں آ رہی، اس لئے وہ زیادہ سے زیادہ اس تحریک کو کامیاب دیکھنا چاہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ پاکستان بھر کے اندر بلکہ ملک سے باہر بھی کامیاب ہو رہی ہے۔

وائس آف امریکہ اردو کی سمارٹ فون ایپ ڈاون لوڈ کریں اور حاصل کریں تازہ تریں خبریں، ان پر تبصرے اور رپورٹیں اپنے موبائل فون پر۔

ڈاون لوڈ کرنے کے لیے نیچے دیے گئے لنک پر کلک کریں۔

اینڈرایڈ فون کے لیے:

https://play.google.com/store/apps/details?id=com.voanews.voaur&hl=en

آئی فون اور آئی پیڈ کے لیے:

https://itunes.apple.com/us/app/%D9%88%DB%8C-%D8%A7%D9%88-%D8%A7%DB%92-%D8%A7%D8%B1%D8%AF%D9%88/id1405181675

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG