رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کا ہائیڈروجن بم کا 'کامیاب' تجربہ کرنے کا دعویٰ


شمالی کوریا نے اس سے قبل 2006ء، 2009ء اور 2013ء میں جوہری تجربات کیے تھے اور یہ سب پُنجی ری کے مقام پر کیے گئے۔

شمالی کوریا نے بدھ کو دعویٰ کیا کہ اس نے ہائیدروجن بم کا "کامیاب" تجربہ کیا ہے۔

سرکاری ٹی وی پر میزبان خاتون نے اعلان کیا کہ "ہم اب ایک جوہری ریاست بن چکے ہیں جس کے پاس ہائیڈروجن بم بھی ہے۔"

سرکاری ٹی وی پر اس تجربے کے اعلان سے قبل متعدد نگران ایجنسیوں نے شمالی کوریا کے جوہری تجربات کی تنصیب کے قریب مصنوعی زلزلے کی اطلاع دی تھی۔

امریکی ارضیاتی سروے کے مطابق زلزلے کی شدت 5.1 ریکارڈ کی گئی اور اس کا مرکز پُنجی ری تنصیب کے مقام سے پچاس کلومیٹر کے فاصلے پر تھا۔ اگرتصدیق ہو جاتی ہے تو یہ شمالی کوریا کی طرف سے چوتھا جوہری تجربہ ہو گا۔

کوریائی محکمہ موسمیات کے ایک عہدیدار نے خبر رساں ایجنسی "رائیٹرز" کو بتایا کہ "ہم ارضیاتی سائنس اور معدنی وسائل کے اداروں کے ساتھ مل کر اس مشتبہ زلزلے کا جائزہ لے رہے ہیں"۔

چین کے زلزلہ پیما نیٹ ورک نے بھی زیر زمین غیر معمولی ارتعاش کو "مشتبہ دھماکے" کا نتیجہ قرار دیا۔

جنوبی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی ہونہاپ کا کہنا ہے کہ سیول میں وزارت خارجہ میں اس معاملے پر اہم اجلاس ہو رہا ہے۔

شمالی کوریا نے اس سے قبل 2006ء، 2009ء اور 2013ء میں جوہری تجربات کیے تھے اور یہ سب پُنجی ری کے مقام پر کیے گئے۔

جانز ہوپکنز یونیورسٹی میں یو ایس، کوریا انسٹیٹوٹ کے محققین نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ سیٹیلائیٹ سے حاصل کردہ تازہ تصاویر سے ظاہر ہوتا ہے کہ شمالی کوریا پُنجی ری کے قریب نئی سرنگ کھود رہا ہے۔

XS
SM
MD
LG