رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کی چین پر تنقید


شمالی کوریا کے راہنما کم جونگ ان بائیں اور چینی صدر شی جنپنگ (بائیں) فائل فوٹو

شمالی کوریا نے چین پر براہ راست تنقید کرتے ہوئے کہا کہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام سے متعلق بیجنگ کے غیر ذمہ دارانہ بیان اس کے صبر کا امتحان لینے کے مترادف ہیں اور اس کے غیر واضح "سنگین" نتائج ہو سکتے ہیں۔

چین شمالی کوریا کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار ہے اور اس نے اقوام متحدہ کی تعزیرات کے تحت شمالی کوریا سے کوئلے کی درآمد روک دی تھی، جب کہ بیجنگ پیانگ یانگ پر زور دے رہا ہے کہ وہ اپنی جوہری اور میزائل سرگرمیوں کو روک دے۔

امریکہ بھی چین پر دباؤ ڈال رہا ہے کہ وہ شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے مسئلے کو حل کرنے کے لیے پیانگ یانگ پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرے۔

شمالی کوریا کی سرکاری کورین سینٹرل نیوز ایجنسی (کے سی این اے) کے بدھ کو شائع ہونے والے مضمون کے مطابق "چین کی طرف سے ہر روز نا معقول اور غیر ذمہ دارانہ بیانات سننے کو ملتے ہیں جس کی وجہ سے پہلے سے خراب صورت حال مزید کشیدہ ہو رہی ہے۔"

اس مضمون میں چین کے سرکاری میڈیا میں شائع ہونے والے تبصروں کا حوالہ بھی دیا گیا، جن میں چین اور شمالی کوریا کے خراب ہوتے ہوئے دو طرفہ تعلقات کا ذمہ دار شمالی کوریا کو ٹھہرایا گیا ہے۔

شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی میں شائع ہونے والے مضمون میں مزید کہا گیا کہ ''وہ (چین)، امریکہ کے کہنے پر عمل کرنے کے لیے غیر معقول بہانے بنا رہا ہے۔"

شمالی کوریا کے تبصرے میں کہا گیا کہ "چین، ڈی پی آر کے (ڈیموکریٹک پیپلز ریپلک آف کوریا) کے صبر کا مزید امتحان لینے کی کوشش نا کرے۔"

اس مضمون کو کسی حکومتی ادارے سے منسوب نہیں کیا گیا ہے اور اس کے مصنف کی شناخت کم چول کے نام کی کی گئی ہے۔

تاہم پھر بھی شمالی کوریا کی طرف سے چین پر براہ راست تنقید کرنا ایک غیر معمولی بات ہے۔ "قبل ازیں چین کا نام لیے بغیر صرف "ایک ہمسایہ ملک" کہہ کر شمالی کوریا کی طرف سے تنقید کی جاتی رہی ہے۔

دوسری طرف چین کے سرکاری میڈیا پر حال ہی میں شمالی کوریا کے اقدامات پر اسے تواتر کے ساتھ سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

چین کے سرکاری اخبار گلوبل ٹائمز نے جمعرات کو شائع ہونے والے اپنے ایک اداریے میں کہا کہ شمالی کوریا کے اقدامات کی وجہ سے دونوں ملکوں کے درمیان 1961 میں طے پانے والے جنگ نا کرنے کے معاہدے کو خطرہ لاحق ہو گیا ہے۔ اداریے میں شمالی کوریا پر اپنے جوہری تجربات کو ختم کرنے پر بھی زور دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG