رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کا امکان رد کر دیا


امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان سالانہ مشترکہ فوجی مشقین مارچ میں ہونے جا رہی ہیں اور شمالی کوریا ان مشقوں کو خود پر حملے کی تیاری سے تشبیہ دیتا ہے۔

شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کے امکانات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اس کے بقول مبینہ طور پر پیانگ یانگ کی حکومت ختم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔

بدھ کو شمالی کوریا کے قومی دفاع کمیشن نے ایک بیان میں امریکہ پر جوہری حملے کے ساتھ ساتھ سائبر حملوں کی دھمکی بھی دی۔

بیان میں امریکہ کو "ٹھکیدار" کہہ کر مخاطب کرتے ہوئے کہا گیا کہ وہ شمالی کوریا کے خلاف فوجی حکمت عملی تیار کر کے اشتعال انگیزی پیدا کر رہا ہے جس کا ’’تلخ ترین جواب دینے کے لیے پیانگ یانگ اور اس کے عوام تیار ہیں۔‘‘

شمالی کوریا کی طرف سے ایسے تلخ بیانات کوئی غیر معمولی بات نہیں اور خاص طور پر واشنگٹن اور جنوبی کوریا کی مشترکہ فوجی مشقوں کے موقع پر پیانگ یانگ تواتر سے ایسے بیانات جاری کرتا ہے۔

امریکہ اور جنوبی کوریا کے درمیان سالانہ مشترکہ فوجی مشقیں مارچ میں ہونے جا رہی ہیں اور شمالی کوریا ان مشقوں کو خود پر حملے کی تیاری سے تشبیہ دیتا ہے۔

شمالی کوریا نے 2009ء میں ان چھ ملکی مذاکرات سے خود کو علیحدہ کر لیا تھا جس میں پیانگ یانگ کو اس کا جوہری پروگرام ترک کرنے کے عوض امداد اور سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات پر بات چیت کی جا رہی تھی۔

اس کے بعد سے شمالی کوریا عالمی مذمت کے باجود متعدد میزائل اور جوہری تجربات کر چکا ہے۔

حال ہی میں ایسی خبریں منظر عام پر آئی تھیں کہ امریکہ شمالی کوریا کے لیے اپنے اعلیٰ ترین سفارتکار کے ذریعے بات چیت شروع کرنے پر غور کر رہا ہے۔ شمالی کوریا یہ مذاکرات پیانگ یانگ میں چاہتا ہے لیکن واشنگٹن اسے مسترد کر چکا ہے۔

امریکی محکمہ خارجہ نے منگل کو کہا تھا کہ بات چیت سے متعلق کوئی تازہ منصوبہ زیر غور نہیں ہے اور امریکہ اب بھی اپنے اس موقف پر مُصر ہے کہ تعلقات میں بہتری کا واحد راستہ شمالی کوریا کی طرف سے اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرنے پر آمادگی سے جڑا ہے۔

XS
SM
MD
LG