رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کے سربراہ کے ’پھوپھا‘ کو سزائے موت دے دی گئی


شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق مسٹر جانگ کی سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اُن کو ایک خصوصی فوجی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا گیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے اعلان کیا ہے کہ ملک کے نوجوان سربراہ کم جونگ اُن کے پھوپھا جانگ سونگ تیک کو سزائے موت دے دی گئی ہے۔

مسٹر جانگ کا شمار ملک کے طاقتور ترین رہنماؤں میں ہوتا تھا اور اُن کو سزائے موت دیئے جانے کا اعلان سے کچھ دن قبل ہی شمالی کوریا کے میڈیا نے ایک تصویر بھی جاری کی جس میں کمیونسٹ پارٹی کے اجلاس سے مسٹر جانگ کو حراست میں لیتے ہوئے دکھایا گیا۔

شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا کے مطابق مسٹر جانگ کی سزائے موت پر عمل درآمد سے قبل اُن کو ایک خصوصی فوجی ٹربیونل کے سامنے پیش کیا گیا۔

کورین سینٹرل نیوز ایجنسی کے مطابق مسٹر جانگ کو ملک کی قیادت اور پارٹی کو بے دخل کرنے کے جرم میں سزائے موت دی گئی۔ سرکاری میڈیا کے مطابق جانگ سیانگ نے فوجی ٹربیونل کے سامنے یہ اعتراف کیا تھا کہ اُنھوں نے حکومت کا تختہ اُلٹنے کی سازش کی تھی۔

جانگ پر متعدد دیگر جرائم کا الزام بھی لگایا گیا جن میں بدعنوانی، خواتین کے ساتھ جنسی تعلقات اور منشیات کا استعمال شامل ہے۔

جانگ سیانگ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے پھوپھا تھے اور دو سال قبل جب مسٹر اُن نے اپنے والد کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تھا تو مسٹرجانگ اکثر تصاویر میں اُن کے ساتھ دکھائی دیتے تھے۔


شمالی کوریا میں مسٹر جانگ کو سزائے موت دیے جانے کی خبر پر پڑوسی ملک جنوبی کوریا نے تشویش کا اظہار کیا گیا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی دفتر میں جمعہ کو نیشنل سکیورٹی کا ایک اجلاس بھی ہوا اور ملک کی وزارت دفاع نے کہا کہ صورت حال کا بغور جائزہ لیا جا رہا ہے۔
XS
SM
MD
LG