رسائی کے لنکس

logo-print

شمالی کوریا کی گزشتہ سال 20 کروڑ کی غیر قانونی برآمدات: رپورٹ


جنوبی کوریا کا سرحدی محافظ شمالی کوریا کی سرحد کے قریب ایک فوجی چوکی پر (فائل)

شمالی کوریا نے سلامتی کونسل کی تعزیرات کی خلاف ورزی کرتے ہوئے بعض اشیا کو برآمد کر کے تقریباً 20 کروڑ ڈالر حاصل کیے ۔

یہ انکشاف اقوام متحدہ کے مبصرین کی ایک خفیہ رپورٹ میں کیا گیا ہے جس میں پیانگ یانگ پر شام اور میانمار کو ہتھیار فراہم کرنے کا الزام بھی عائد کیا گیا ہے۔

بین الاقوامی خبررساں ادارے 'روئٹرز' نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی تعزیرات کی کمیٹی کو دی گئی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ شمالی کوریا نے کوئلے کی کھیپ کو ان ملکوں کی بندرگاہوں کو فراہم کیا جن میں روس، چین، جنوبی کوریا اور ملائیشیا اور ویت نام بھی شامل ہیں۔

رپورٹ کے مطابق اس معاملے سے متعلق دستاویزات میں غلط بیانی کرتے ہوئے کوئلے کے ماخذ میں شمالی کوریا کی بجائے روس اور چین کا نام لکھا گیا۔

پیانگ یانگ کے میزائل اور جوہری پروگرام کے لیے فنڈز کی فراہمی کو روکنے کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل 2006ء سے شمالی کوریا پر متفقہ طور پر تعزیرات میں اضافہ کرتی آئی ہے۔

ان تعزیرات کے تحت شمالی کوریا کی کوئلے، لوہے، سیسہ، ٹیکسٹائل اور سمندری خوراک اور خام تیل کی برآمدات پر پابندی عائد کی گئی تھی۔

اقوام متحدہ کے مبصرین کی رپورٹ کے صفحہ 213 میں لکھا گیا ہے کہ شمالی کوریا "بیرون ملک کمپنیوں، غیر ملکی شہریوں کی ملی بھگت اور بین الاقوامی بنکنگ کے نظام کی مدد، تیل فراہم کرنے والی تیل کی عالمی سپلائی چین سے فائدہ اٹھا کر حال ہی میں منظور کی جانے والے قرار دادوں کی خلاف ورزی کا ارتکاب کر رہا ہے۔"

اقوام متحدہ میں شمالی کوریا کے مشن نے رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر فوری طور کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

روس اور چین تواتر سے یہ کہتے آئے ہیں کہ وہ شمالی کوریا پر عائد اقوام متحدہ کی تعزیرات پر عمل درآمد کر رہے ہیں۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ انہوں نے شام اور میانمار کے درمیان بیلسٹک پروگرام سے متعلق جاری تعاون کے معاملے کی بھی تحقیقات کی ہیں۔ اس کے علاوہ شمالی کوریا نے 2012 ء اور 2017ء کے درمیان شام کے کیمیائی ہتھیاروں سے متعلق سائنٹیفک اسٹڈیز سینٹر کو سامان کی کھیپ کو بھیجا جس کی پہلے کبھی کوئی رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

تحقیق کاروں نے شمالی کوریا سے بھیجے جانے والے اس سامان کی دو کھیپوں کی چھان بین کی ہے جنہیں شام بھیجے جانے کے دوران مختلف ملکوں میں روک لیا گیا تھا لیکن ان ملکوں کا نام ظاہر نہیں کیا گیا ہے۔

ان دونوں کھیپوں میں ایسی ٹائلز تھیں جن پر تیزاب کا اثر نہیں ہوتا ہے اور یہ اتنی زیادہ تھیں کہ کسی بھی بڑے صنعتی منصوبے کے لیے کافی ہو سکتی ہیں۔

شام نے 2013ء میں اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو تلف کرنے پر اتفاق کیا تھا تاہم سفارت کار اور ہتھیاروں کی نگرانی کرنے والوں کو شبہ ہے کہ شام نے خفیہ طور پر نئے کیمیائی ہتھیار بنانے کے صلاحیت کو برقرار رکھا ہوا ہے۔

اقوام متحدہ میں شام کے مشن نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کے بارے میں پوچھے جانے پر فوری طور پر کسی ردعمل کا اظہار نہیں کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے مبصرین کا کہنا ہے کہ ایک ملک جس کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی ہے، نے یہ رپورٹ دی ہے کہ اس کے پاس ایسے شواہد ہیں کہ میانمار نے شمالی کوریا سے بیلسٹک میزائل کا نظام اور روایتی ہھتیار حاصل کیے ہیں۔

اقوام متحدہ میں میانمار کے سفیر ہو ڈو سوان کا کہنا ہے کہ میانمار کی حکومت کا شمالی کوریا کے ساتھ کسی بھی قسم کے ہتھیاروں کا کوئی بھی معاملہ نہیں ہے" اور یہ اقوام متحدہ کی سلامی کونسل کی قرار دادوں کی پابندی کر رہا ہے۔

اقوام متحدہ کی سلامی کونسل کی 2016ء کی ایک قرار داد کے تحت شمالی کوریا سے کوئلے کی برآمدات پر پابندی عائد کر دی گئی تھی اور تمام ممالک سے کہا گیا تھا کہ وہ شمالی کوریا سے کوئلے کی کسی بھی برآمد کے بارے میں سلامتی کونسل کی تعزیرات کی کمیٹی کو آگاہ کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG