رسائی کے لنکس

logo-print

اہم اجلاس کے بعد شمالی کوریا میں بڑی عوامی پریڈ کا اہتمام


جنوبی کوریا کی صدر پارک گیئون ہئی نے کم کی طرف سے اپنے ملک کو جوہری ریاست قرار دیے جانے کے بیان کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

شمالی کوریا میں حکمران جماعت 'ورکرز پارٹی' کے اہم اجلاس کے بعد منگل کو لاکھوں افراد نے پیانگ یانگ میں ایک بڑی عوامی پریڈ میں شرکت کی۔

اس موقع پر ملک کے رہنما کم جونگ اُن بھی موجود تھے جنہوں نے ہاتھ ہلا کر لوگوں کے نعروں کا جواب دیا۔

دو گھنٹے تک جاری رہنے والی اس پریڈ میں لوگوں نے مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر اپنے رہنما کے لیے تعریفیں درج تھیں۔

پریڈ کے آغاز پر شمالی کوریا کی پارلیمنٹ کے سربراہ کم یونگ نام نے خطاب کیا۔ اجلاس کی کوریج کے لیے پیانگ یانگ میں موجود غیر ملکی صحافیوں کو کئی گھنٹوں پہلے ہی پریڈ کے مقام تک پہنچا دیا گیا کیونکہ انھیں انتہائی سکیورٹی کی جانچ کے بعد ہی یہاں جانے کی اجازت تھی۔

پریڈ میں شریک ایک شخص یُن سونگ ہوا نے "ایسوسی ایٹڈ" پریس کو بتایا کہ " ہم اجلاس کے دوران ہونے والی روزنامہ کی تقاریب میں شریک رہے ہیں، مجھے بہت فخر ہے کہ میں اس تقریب میں شریک ہوا جس میں ہمارے رہنما بھی موجود تھے۔"

کانگریس کا چار روزہ اجلاس پیر کو ختم ہوا تھا جس میں 3400 سے زائد مندوبین شریک ہوئے اور انھوں نے ملک کی اقتصادی اور جوہری پالیسیوں کی توثیق کی۔

اجلاس میں کم جونگ اُن کو پارٹی کا چیئرمین بھی قرار دیا گیا۔ اس میں ملک کی فوج کے سابق سربراہ ری یونگ گل کو بھی کئی اعلیٰ عہدوں پر فائز کرنے کا کہا گیا۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ چند ماہ قبل ہی جنوبی کوریا کے انٹیلی جنس حکام نے کہا تھا کہ ری یونگ کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت موت کی سزا دی گئی تھی اور اس پر عملدرآمد کر دیا گیا ہے۔

کم جونگ اُن نے اپنے ملک کو جوہری ریاست قرار دیتے کہا تھا کہ ان کا ملک اپنی خودمختاری کو لاحق خطرے کی صورت میں ہی جوہری ہتھیار استعمال کرے گا۔

منگل کو سیول میں جنوبی کوریا کی صدر پارک گیئون ہئی نے کم کی طرف سے اپنے ملک کو جوہری ریاست قرار دیے جانے کے بیان کو "مضحکہ خیز" قرار دیتے ہوئے مسترد کیا۔

XS
SM
MD
LG