رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کی چھ ماہ میں 27 کروڑ ڈالر کی غیر قانونی برآمدات: رپورٹ


چینی سرحدی شہر ڈان ڈونگ اور شمالی کوریا کو جوڑنے والا پل (فائل)

اقوام متحدہ کے ماہرین کا کہنا ہے کہ شمالی کوریا نے اگست کے اواخر تک چھ ماہ کے عرصے کے دورران کم ازکم 27 کروڑ ڈالر مالیت کا کوئلہ، خام لوہا اور دیگر اشیاء غیر قانونی طور پر چین اور دیگر ممالک بشمول بھارت، ملائیشیا اور سری لنکا کو برآمد کیں جو اقوام متحدہ کی عائد کردہ تعزیرات کی خلاف ورزی ہے۔

تعزیرات کی نگرانی کرنے والے ماہرین نے ہفتے کو جاری ہونے والی ایک رپورٹ میں کہا کہ کم جونگ اُن کی حکومت اشیاء کے ساتھ ساتھ ہتھیاروں اور دیگر مالیاتی سرگرمیوں پر عائد تعزیرات کی مسلسل خلاف ورزی جاری رکھے ہوئے ہے۔

انہوں ںے کہا کہ اطلاعات کے مطابق شمالی کوریا یونگ بیان کے جوہری کمپلیکس میں جوہری مواد کی افژودگی کی ممنوعہ سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے اس کے علاوہ پنگ یی ری کی جوہری تنصیب اور پیانگ سن کی یورینیئم کی کان پر بھی سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہے۔

آٹھ ماہرین پر مشتمل پینل کا کہنا ہے کہ وہ افریقہ اور مشرق وسطیٰ اور خاص طور پر شام میں ایک بڑی تعداد میں شمالی کوریا کے شہریوں کی موجودگی بشمول "ان کی ممنوع سرگرمیوں میں ملوث ہونے "کے معاملے کی بھی تحقیقات کر رہا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک انکوائری کا تعلق شام اور ڈیموکریٹک پیپلز ریپبلک آف کوریا (شمالی کوریا) کے درمیان "ممنوعہ کیمیائی ہتھیاروں، بیلسٹک میزائل اور روایتی ہتھیاروں میں تعاون سے متعلق اطلاعات" سے ہے۔ پینل نے اس بات کا بھی ذکر کیا کہ دو ملک جن کا نام ظاہر نہیں کیا، نے شام لے جانے والے سامان کو راستے ہی میں روک لیا۔ ان ملکوں کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ شام نے اس معاملے سے متعلق انکوائری میں ابھی تک اپنا موقف پیش نہیں کیا ہے۔

خبر رساں ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق یہ رپورٹ 111 صفحات پر مشتمل ہے جسے گزشتہ اتوار کو شمالی کوریا کی طرف سے چھٹے اور سب سے زیادہ طاقتور جوہری تجربے اور حال ہی میں جاپان کے اوپر داغے جانے والے درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلسٹک میزائل سے پہلے لکھا گیا تھا۔

اس رپورٹ کو اقوام متحدہ کی طرف سے شمالی کوریا پر نئی تعزیرات عائد کرنے کی قرارداد پر ووٹنگ سے پہلے جاری کیا گیا ہے۔

اشیاء کی برآمدات 'ڈی پی آر کے' (شمالی کوریا) کے لیے غیر ملکی زرمبادلہ کا اہم ذریعہ ہیں اور ماہرین کا کہنا ہے کہ رواں سال فروری میں چین نے شمالی کوریا سے کوئلے کی برآمدات پر معطل کر دیا تھا جس کے بعد شمالی کوریا دیگر ملکوں بشمول ملائیشیا اور ویت نام کو کوئلہ بھیج رہا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "پینل کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 'ڈی پی آر کے' جان بوجھ کر ممنوعہ اشیاء کو برآمد کرنے کے لیے بلواسطہ چینل استعمال کر رہا ہے۔ "

پینل نے کہا کہ کوئلہ، لوہا اور خام لوہا شمالی کوریا سے برآمد کرنا تعزیرات کی خلاف ورزی ہے جب تک ایسے ملک اس کے لیے استثنا حاصل نہیں کر لیتے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG