رسائی کے لنکس

شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پروگرام پر تشویش کا اظہار


اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی (درمیان) جاپان کے سفیر کورو بیشو (دائیں) اور جنوبی کوریا کے سفیر تائی یل چو
اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر نکی ہیلی (درمیان) جاپان کے سفیر کورو بیشو (دائیں) اور جنوبی کوریا کے سفیر تائی یل چو

امریکہ کی پیسیفک کمانڈ کے سربراہ نے بدھ کو متنبہ کیا کہ شمالی کوریا کے راہنما کے پاس بیلسٹک میزائل اور جوہری ہتھیاروں کے ایک ساتھ ہونے کا "نتیجہ ممکنہ تباہی ہے"۔

ٹوکیو میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے ایڈمرل ہیرس جونیئر نے کہا کہ شمالی کوریا کی طرف سے کیا جانے والا میزائل کا ہر تجربہ، پیانگ یانگ کی طرف سے جوہری ہتھیاروں کے حامل میزائل داغنے کی صلاحیت کی طرف مزید پیش رفت کا مظہر ہے۔

ہیرس نے کہا کہ "میں یہ فرض کروں گا کہ کم جونگ اُن کے دعوے صیحح ہیں کیونکہ میں جانتا ہوں کہ ان کے ایسے عزائم ضرور ہیں۔۔۔ میں ان کے کہے پر رائے قائم کر رہا ہوں۔۔۔۔ اس معاملے کو حل کرنا اب بہت ضروری ہے۔"

امریکہ کی اقوام متحدہ میں سفیر نکی ہیلی نے شمالی کوریا کو جوہری ہتھیار بنانے سے روکنے کے کوششوں میں متحد ہونے پر زور دیتے ہوئے متنبہ کیا کہ جو ملک شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کے حصول میں مدد کریں گے ان پر بھی تعزیرات عائد کی جا سکتی ہیں۔

نکی ہیلی نے امریکہ، جاپان اور جنوبی کوریا کی طرف سے بند کمرے میں بلائے جانے والے اجلاس سے پہلے بات کی۔

ہیلی نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "یا آپ شمالی کوریا کی حمایت کرتے ہیں یا آپ ہماری حمایت کرتے ہیں۔ یہی ایک بات ہے۔"

بین الاقوامی تعزیرات کے ںفاذ پر بات کرتے ہوئے انہوں نے متبنہ کیا کہ "امریکہ تیسرے ملک کے ان ادروں پر تعزیرات عائد کرنے سے صرف نظر نہیں کرے گا کیونکہ شمالی کوریا کی مدد کر کے آپ باقی بین الاقوامی برداری کی مخالفت کر رہے ہیں۔"

سلامی کونسل کے ارکان پیانگ یانگ کی طرف سے اس میزائل کے داغے جانے کے بعد ملے جو آٹھ سو کلو میٹر کا فاصلہ طے کرنے کے بعد بحیرہ جاپان میں گر گیا۔

شمالی کوریا کے طرف سے دو ہفتوں کے دوران یہ دوسرا میزائل تجربہ تھا اور یہ مون جئی کے جنوبی کوریا کے صدر بننے کے چار دن کے بعد کیا گیا۔

سیئول کے اقوام متحدہ میں سفیر چو تائی یل نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جنوبی کوریا کے نئے راہنما یہ بات واضح طور پر سمجھتے ہیں کہ ان کی حکومت شمالی کوریا کی اشتعال انگیزیوں کو جواب دے گی اور بات چیت پر اسی وقت غور کرے گی جب شمالی کوریا کے رویہ میں کوئی تبدیلی ہو گی۔

سلامتی کونسل کے ارکان نے پیر کی شام کو ایک بیان میں حال ہی میں داغے جانے والے میزائل کی شدید مذمت کی اور شمالی کوریا کے "عدم استحکام کا سبب بننے والے رویے، اور سلامتی کونسل کی (قراردادوں کی) کھلیخلاف خلاف ورزی پر سخت تشیوش کا اظہار کیا ہے۔"

شمالی کوریا کی وزارت خارجہ نے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ یہ اس کے دفاعی جوہری پروگرام سے متعلق سوال اٹھایا گیا ہے۔

دوسری طرف اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے بھی میزائل داغے جانے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہے اور یہ خطے کی امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہے۔ انہوں نے پیانگ یانگ پر زور دیا کہ وہ اپنی بین الاقوامی ذمہ داریوں کو پورا کرے اور غیر جوہری راستہ کی طرف واپس آئے۔

اقوام متحدہ میں جاپان کے سفیر کورہ بیشو نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ "ہمیں شمالی کوریا کو یہ حساس دلوانے کے لیے مزید دباؤ ڈالنا ہو گا کہ انہیں اپنا راستہ تبدیل کرنا ہو گا۔"

XS
SM
MD
LG